تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
آرتھر بالفور اگر آج زندہ ہوتا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 21 محرم 1437هـ - 4 نومبر 2015م KSA 12:07 - GMT 09:07
آرتھر بالفور اگر آج زندہ ہوتا؟

تاریخ ایسے مکروہ سیاسی کرداروں سے بھری پڑی ہے جن کی زبان وقلم سے صادر ہونے والے فیصلوں نے تاریخ کا رُخ تو موڑ دیا مگر تا ابد تاریخ ان کی سیاہ کاریوں اور غلط فیصلوں پر شرمسار رہے گی۔ ان سیاسی کرداروں میں مشہور زمانہ لارڈ جیمز آرتھر بلفور کا نام ہمیشہ تاریخ میں ایک منحوس لوگوں میں شامل رہے گا جس نے اپنے قلم سے تاریخ کا ایک ایسا غلط فیصلہ کیا جس کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ ایک صدی سے آگ وخون کی وادی میں ہے۔

جیمز آرتھر بلفور[1848. 1930] کا تعلق اسکاٹ لینڈ کے ایک سیاسی خانوادے سے تھا۔ اس کا والد جیمز میٹلینڈ بلفور اسکاٹ لینڈ کے متعدد سیاسی اور حکومتی عہدوں پرفائز رہا جب کہ والدہ بیلنچے گیسکولی سیسل بھی ایک تعلیم یافتہ مگر مذہبی لگائو رکھنےوالی خاتون تھی۔ جیمز بلفور کے چار بھائی اور تین بہنیں بھی سیاسی میدان میں متحرک رہیں اور ان کے ایک چچا لارڈ سیلسبری جو برطانوی پارلیمنٹ کے رکن اور ایک دبنگ کنزرویٹیو سیاست دان تھے۔ سیاسی میدان میں جیمز بلفور نے اپنا باقاعدہ آغاز اپنے چچا کے سیکرٹری کے طورپر کیا مگر اس سے قبل وہ آئرلینڈ کا چیف سیکرٹری بھی رہ چکا تھا۔

ہیرالڈ بیگبائی نامی ایک صحافی اور سوانح نگار نے اپنی کتاب Mirrors of Downing۔ Street۔ میں لارڈ آرتھر جیمز بالفورکے سیاسی مزاج اور شخصیت کا ایک جامع خاکہ بیان کیا ہے۔ ہیرالڈ لکھتا ہے کہ آرتھر بلفور 'نسوانیت مزاج' سیاست دان تھا۔ 27 سال کی عمر میں اس نے اپنی کزن سے شادی کا ارادہ کیا مگر اس کے اس ارادے کے کچھ ہی دنوں بعد اس کی کزن کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد اس نے پوری زندگی شادی نہیں کی۔ آرتھر بلفور کے دوستوں اور عزیزوں نے بھی اسے بہتیرا سمجھایا مگر اس نے گھر بسانے کی کوئی تجویز قبول نہیں کی۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ آرتھربلفور میں مردانہ خصوصیات نہ تھیں، بلا کا ذہین اور سیاسی بصیرت رکھتا تھا مگر ایک پراسرار بیماری کا شکار ہونے کے باعث وہ شادی کے قابل نہیں تھا۔ اس لیے اس نے زندگی میں شادی کا ارادہ صرف ایک بار کیا اور اس کے بعد اس سے تائب ہو گیا تھا۔

 لارڈ آرتھر بلفور کے والدین کے یہودیوں کے ساتھ بھی گہرے مراسم تھے۔ اس کا خاندان ترکی کی خلافت عثمانیہ کا مخالف ہی نہیں دشمن سمجھا جاتا تھا۔ خلافت عثمانیہ کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں میں بھی اس خاندان کے لوگوں کا ہاتھ رہا ہے۔ 1905ء میں جب آرتھر بلفور برطانیہ کے وزیراعظم بنا تو وہ ترکی کی خلافت کوانگلستان کے لیے ایک خطرہ قرار دیتا اور اس میں مبالغہ آرائی سے کام لیتا تھا۔ برطانوی پارلیمنٹ کے یہودی ارکان کے ساتھ کے ساتھ گہرے مراسم نے آخر کار جیمزبالفور کو 1917ء میں صہیونی تحریک کے سربراہ لارڈ روچیلڈ کو ایک مکتوب لکھنے کا موقع دیا جس میں انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ ارض فلسطین کی خلافت عثمانیہ سے علاحدگی کے بعد وہاں پر یہودیوں کے لیے "قومی وطن" کے قیام کی راہ ہموار کی جائے گی۔ تاج برطانیہ یہودیوں کو فلسطین میں لاکربسانے میں مدد کرے گا اور یہودیوں کی ایک نظریاتی ریاست کے قیام کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

 لارڈ آرتھر جیمز بلفور کا یہ وہ تاریخی غلط فیصلہ تھا جس کاخمیازہ پوری دنیا آج تک بھگت رہی ہے۔ یہ برطانیہ کی ایک ایسی خوفناک غلطی تھی جس کے نتیجے میں ایک غیرقوم کو فلسطین میں بسانے کا حق دے کر صدیوں سے آباد فلسطینی قوم کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ لارڈ بالفور کا "اعلان بالفور" کیوں غلط تھا؟ تاریخی، آئینی وقانونی اور اخلاقی اعتبار سے بالفور ڈیکلریشن کو باطل ثابت کرنے کے لیے درج ذیل نکات بیان کیے جاتے ہیں۔

*۔۔ اعلان بالفور سنہ 1917ء میں جاری ہوا۔ اس وقت برطانیہ کا فلسطین پرکسی بھی قسم کا کوئی کنٹرول نہیں تھا اور نہ ہی فلسطین اس وقت برطانیہ کےزیرتسلط تھا۔ تب ارض فلسطین خلافت عثمانیہ کےزیرنگیں تھی۔ کسی ملک کو دوسری مملکت کے کسی علاقے کو اپنی مرضی سے کسی تیسرے فریق کو دینے کا مینڈیٹ کیسے دیا جاسکتا ہے۔

*۔۔ برطانیہ کا فلسطین پر قبضہ سنہ 1922ء میں اعلان بالفور کے پانچ سال کے بعد ہوتا ہے۔ فلسطین پربرطانوی تسلط بہ ذات خود ناجائز اور غیرقانونی تھا۔ برطانوی حکومت نے کئی مواقع پر اعلان کیا تھا کہ وہ فلسطین کو خلافت عثمانیہ سے آزاد کرائے گی۔ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد فلسطین پر برطانیہ کا قبضہ ہراعتبار سے ناجائز اور غیرقانونی تھا۔

*۔۔۔ ارض فلسطین لوگوں کے ایک ایسے گروپ کو دی گئی جوکسی بھی اعتبار سے اس کا ق نہیں رکھتا تھا۔ صہیونی فلسطین کے باشندے نہیں تھے اس لیے برطانیہ کا صہیونیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی دعوت دینا بھی قطعی ناجائز تھا۔

*۔۔ اعلان بالفور کسی بھی اعتبار سے دو خود مختار ملکوں یا طاقتوں کے درمیان معاہدہ نہیں تھا۔ لارڈ بالفورڈ انگلستانی حکومت کا نمائندہ تھا مگر اسے اپنی ذات یا ملک کے نام پر کسی دوسرے گروپ کے ساتھ معاہدہ کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ اسی طرح صہیونی تحریک کا بانی لارڈ روچیلڈ بھی برطانوی شہری تھا۔ نیز وہ دنیا بھر میں منتشر یہودیوں کا ہرگزنمائندہ نہیں تھا۔ اس لیے مسٹر روچیلڈ کو یہودیوں کا آئینی اور قانونی نمائندہ ہونے کی حیثیت حاصل نہیں تھی۔

* ۔۔۔ اعلان بالفور سے فلسطین کی صدیوں سے آباد قوم کے تاریخی قومی حق پر کلہاڑا چلایا گیا۔ وہ فلسطینی جو وہاں ہزاروں سال سے آباد چلے آ رہے تھے انہیں وہاں سے نکل جانے کے لیے یہودی مسلح جتھوں کی مدد کی گئی۔ پہلی جنگ عظیم میں یہ بات تسلیم کی گئی تھی کہ حلیف ممالک اور مفتوحہ ریاستوں میں وہاں کے مقامی باشندوں کے حق خود ارادیت کا احترام کیا جائے گا اور انہیں اپنی مرضی کا سیاسی اور سماجی نظام قائم کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

*۔۔ لارڈ بالفورڈ کا 'اعلان بالفور' لیگ آف نیشن کے اصولوں سے بھی صریح انحراف تھا۔ لیگ آف نیشن کے چارٹر کے آرٹیکل 20 کے تحت برطانوی حکومت اعلان بالفور کو منسوخ کرنے کی پابند تھی۔ برطانوی حکومت نے نہ صرف ایسا نہیں کیا بلکہ فلسطین میں ایک ناجائزریاست کے قیام کے لیے صہیونی تحریک کی حمایت کی۔

* برطانیہ کو فلسطین پر ایک قابض ریاست کی حیثیت سےجو مینڈیٹ حاصل تھا اس کے آرٹیکل پانچ کے تحت بھی حکومت برطانیہ فلسطینیوں کے تمام بنیادی حقوق، ان کی اراضی اور ملک کے چپے چپے کے تحفظ کے ذمہ دار تھی۔ اس لیے اس برطانوی حکومت نے اس آرٹیکل بھی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے یہودیوں کی فلسطین میں آباد کاری کی حوصلہ افزائی کی۔

لارڈ بالفورد کے "اعلان بالفور"کو طے پائے 98 سال بیت گئے ہیں مگر اس کے قلم سے صادر ہونے والا یہ تاریخی غلط فیصلہ ہنوز حل طلب ہے۔ بالفور کی روح تو اس ظلم کا خمیازہ بھگت رہی ہو گی مگر اگر وہ زندہ ہوتا تو دیکھتا کہ اس نے فلسطین میں کس قوم کو اپنا وطن قائم کرنے کا حق دیا تھا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند