تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اب اقوام متحدہ میں بھی بدعنوانی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 21 محرم 1437هـ - 4 نومبر 2015م KSA 07:46 - GMT 04:46
اب اقوام متحدہ میں بھی بدعنوانی

اقوام متحدہ میں چل رہی زبردست بدعنوانی کا ابھی ابھی پردہ فاش ہوا ہے۔ اعلیٰ سطح پر ہوئی اس بدعنوانی کی ایسی خبر آئی ہے کہ اس پر یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی کا نفرنس کا صدر رشوت لے سکتا ہے، یہ بات سوچ کر عجیب لگتا ہے لیکن اب یہ سچائی بن گئی ہے۔ 2013ء میں اس کانفرنس کے صدر جان ایش تھے، جوکہ اینٹیکو ا اور بربودا کے سفیر تھے۔ یہ عہدہ اقوام متحدہ میں دوسرے یاتیسرے نمبر کا بڑا عہدہ مانا جاتا ہے۔

اس جان ایش نے تقریباً تیرہ لاکھ ڈالر کی رشوت کھائی۔ کھائی تو اور بھی ہے لیکن 13 لاکھ ڈالر کے ثبوت مل چکے ہیں۔ کیوں کھائی، اس نے یہ رشوت؟ اس لئے کہ اقوام متحدہ میں سدھار کے عمل کے لیے جو دستاویز اس کی دیکھ ریکھ میں بن رہی تھی، یاتو اسے بننے ہی نہ دے یا اسے ایسا کردیں کہ اس کی اہمیت ہی نہ رہ جائے۔ یہی ہوا۔ کچھ ہفتے پہلے وہ دستاویز جب پیش ہوئی تو وہ بے معنی ثابت ہوئی۔
چینی سرکار نہیں چاہتی ہے کہ سلامتی کونسل کا پھیلاؤ ہو اور بھارت بھی اس میں چین کے برابری پر آ بیٹھے۔ کانفرنس کے حالیہ صدر سیم کٹیسا کی بھی اس معاملے میں بھگت معلوم پڑتی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری بان کی مون کو یہ سب جان کر بہت گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ دنیا کی اس بڑی جماعت کی زینت پیندے میں بیٹھ گئی ہے۔

پریت بھابھڑا نام کی اس محترمہ جج نے ایش کی گرفتاری کا اعلان کر دیا ہے۔ پریت کا کہنا ہے کہ ایش کا بھانڈا پھوٹتے ہی کئی دیگر معاملات بھی سامنے آئیں گے اور اسے خوف ہے کہ اقوام متحدہ میں کہیں متحدہ بدعنوان جماعت نہ بن گئی ہو۔

انگریزی پر حملہ

پاکستان کے وزیر اعظم نوازشریف پر دو مقدمے دائر ہو گئے ہیں، وہاں کی سپریم کورٹ میں۔ یہ مقدمے ایسے مدعہ کو لے کر دائر ہوئے ہیں کہ جن کا اندازہ بھی بھارت میں نہیں کیا جا سکتا۔ میاں نواز پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کے آئین اور سپریم کورٹ کی توہین کی ہے، اقوام متحدہ میں انگریزی میں خطاب کر کے۔ ستمبر 2015ء کے اپنے ایک فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ لیڈروں اور افسروں کو آرٹیکل 251 کی فرماں برداری کرنی چاہیے یعنی اپنی تقاریر اور بات چیت اردو میں ہی کرنی چاہئیں۔ درخواست گزار زاہد غنی کا کہنا ہے کہ میاں نواز نے عدالت اور آئین دونوں کی حکم عدولی کی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 204 کے مطابق اس پر ایکشن ہونا چاہیے۔

یوں بھی پاکستان کے دانا میاں نواز کی انگریزی کا کافی مذاق اڑاتے ہیں۔ ایک مشہور خاتون صحافی کے لیکھ تو اس لئے پاکستان میں مقبول ہیں کہ وہ میاں نواز کی انگریزی کو بڑا چٹ پٹا بناتی ہیں۔ نواز شریف اور نریندر مودی کی انگریزی لگ بھگ ایک جیسی ہی ہے لیکن اقوام متحدہ میں مودی کا خطاب ہندی میں ہوتا ہے۔ سشما سوراج کی انگریزی نواز اور مودی سے کہیں بہتر ہے لیکن وہ بھی ہندی میں بولیں، جبکہ بھارت میں پاکستان کی طرح کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔

بھارت میں انگریزی کا استعمال سارے لیڈر اور افسر بہت بے شرمی سے کرتے ہیں۔ درخواست گزارنے مودی کا نام نہیں گنا یا لیکن روس کے پیوٹن، چین کے شی جن فنگ، کیوبا کے کاسترو، ایران کے روحانی، یوکرین کے پاراشینکو اور جاپان کے شنزوآبے کے نام لے کر بتایا کہ یہ سب لیڈر اپنی قومی زبان میں ہی خطاب کرتے ہیں تو نواز کیوں نہیں کرتے؟ مجھے لگتا ہے کہ ان درخواستوں کا میاں نواز پر اثر ضرور ہو گا لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ پاکستان اپنے آپ کو بھارت سے بہتر سمجھتا ہے تو اس معاملے میں ذرا بھارت سے آگے نکل کر دکھائے۔

دشہرے پر ہندو صدر کا پیغام

راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے سربراہ اور صدر کے پیغام میں کیا فرق ہے؟ ایک ہندو تنظیم کے صدر اور دوسرے بھارت ملک کے صدر ہیں۔ صدر یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے موقع پر پیغام دیتے ہیں اور سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت دشہرے پر پیغام دیتے ہیں، جو کہ اس مرتبہ سنگھ کو قائم ہوئے 91برس ہوئے ہیں اس کا پروگرام تھا۔ دونوں کے پیغامات آواز وہی ہوتی ہے، جو سرکار کہنا چاہتی ہے خاص طور سے تب جبکہ سرکار اپنے سوئم سیوکوں کی ہو۔ جیسے آپ صدر مملکت سے یہ امید نہیں کر سکتے کہ وہ سرکار پر تنقید کرے، ویسے ہی سنگھ سربراہ سے یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنے مریدوں کے کان کھینچے؟ سنگھ سربراہ موہن بھاگوت نے اس نظریے سے بہت ہی سرکار کو اچھی لگنے والی بات کہہ دی۔

انہوں نے واضح کہہ دیا کہ ناامیدی کا جیسا ماحول دوسال پہلے تھا، ویسا اب نہیں ہے' اب ہم فکر میں نہیں ہیں' موہن بھاگوت جی کا فکر مند نہ ہونا ہی فکر والی بات ہے۔ نریندر مودی فکر میں بالکل بھی نہ ہوں، یہ فطری ہے۔ وہ وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس کرسی کے آس پاس کوئی عام بندہ پھٹک بھی نہیں سکتا۔ بی جے پی کارکنان کے لیے بھی وہ دور کی کوڑی ہی ہے۔ بی جے پی کے لیڈر اور وزا حضرات بھی ذرا خبردار۔ انہیں پہلے سے سنگھ کے سخت اصولوں کی تربیت ملی ہوئی ہے۔ صرف سدا بہار نوکر شاہوں کی بہار آئی ہوئی ہے۔ ان کا پہلا کام ہی وزیر اعظم کو ٹینشن فری رکھنا ہے۔ وزیر اعظم اس لئے ٹینشن فری ہوکر بیرونی ممالک میں بھارت کا نگاڑہ پیٹتے رہتے ہیں اور بھارت میں عوامی جلوس کو خطاب کرتے رہتے ہیں۔ درجنوں عام لوگ اس سے روز ملتے رہتے ہیں۔ وہ فقیر کی طرح سارے ملک میں کھومتے رہتے ہیں۔ کیا انہیں بھی سچ مچ میں یہ لگتا ہے کہ، اچھے دن جلدی ہی آنے والے ہیں؟ گزشتہ ڈیڑھ برس میں کیا 'اچھے دنوں' کی بنیاد جمادی گئی ہے؟۔

سنگھ سربراہ موہن بھاگوت کی اس بات پر کچھ لوگوں نے طعنہ مارا ہے کہ انہوں نے قتل کی ورداتوں کو جھٹ پٹ واقعات کیسے کہہ دیا؟ وہ حقیقت میں ہیں تو چھٹ پٹ ہی لیکن ٹی وی چینلوں اور اخباروں نے انہیں سرس کے بدن کی طرح کھینچ کر آسمان کو چومنے والا بنا دیا۔ یہ ان کی اپنی تجارت کی مجبوری ہے۔ اس مجبوری کے آگے بھاجپا کے لیڈر نوسکھئے ہی نکلے۔ ان کی ہوا سرک گئی۔ اگران میں تجربہ اور دم ہوتا تو وہ ظلموں کے خلاف اتنا دھاڑتے کہ ایسے کام کرنے والوں کے دل دہل جاتے۔ حیرانی تویہ ہے کہ فرقہ واریت اور ذات پات کے واقعات پر سنگھ سربراہ بھی خاموش رہے۔ سرکار اور سنگھ کی اس خاموشی کی دھاڑ پورے ملک میں گونجتی رہی۔ اس دھاڑ کو پھیکا کرنے کا ذمہ ایسے وزیروں کے حوالے کردیا گیا ہے،جنہوں نے آج تک بلدیاتی چناؤ بھی نہیں جیتا۔ ایسے وزیروں کے ایک دو اچھے بیانات سے مرہم کا تھوڑا سا کام کرتے ہیںتو اسی وقت دیگر بھاجپا لیڈر ان زخموں پر تیزاب کی بالٹیاں الٹنے میں ذرا بھی دیر نہیں کرتے۔

سنگھ سربراہ نے سرکار کے کچھ کاموں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے انجام ابھی آنے باقی ہیں۔ لیکن کچھ مشن تو کورے جھن جھنے ہیں، یہ کیوں نہیں بتایا ؟ ان سے بہتر بات تو پالیسی کمیشن کے اس ممبر نے کہہ دی، جسے اس موقع خصوصی مہمان بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ' سمارٹ سٹی' تو ٹھیک ہے، ملک کو سمارٹ گاؤں، پہلے

چاہیے۔ اسی طرح خارجہ پالیسی کے بارے میں بھی سنگھ سربراہ کی موٹی موٹی بات تو ٹھیک ہے کہ بیرونی ممالک میں بھارت کا نام ادھر خوب گونج رہا ہے لیکن اس گونج سے کون ساسنگیت نکل رہا ہے، یہ انہوں نے نہیں بتایا۔ بھارت کو سلامتی کونسل میں بٹھانے کی بات ابھی ہوا میں جھول رہی ہے ۔ دنیا کے ایک اکیلے واحد 'ہندو ملک' نیپال سے ہمارے تعلقات کھٹے ہوگئے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ہماری سرکار جھولا جھولتی دکھائی پڑتی ہے۔ کبھی آگے، کبھی پیچھے۔ پڑوسی ملک میں چین کا اثر بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دنیا کی عظیم قوت تو محض خواب بھر ہے، ڈیڑھ سال میں ہم جنوبی ایشیا میں ہی اپنا اثر نہیں بنا پائے۔

امریکہ، چین، جاپان، جرمنی، فرانس اور درجنوں چھوٹے موٹے ملکوں کے چکر ہم لگا آئے لیکن ہم یہ نہیں بتاپارہے کہ بھارت کو ٹھوس حاصلات کیا ہوئی؟ بیرونی ممالک میں یوگ، گیتا، آیوروید وغیرہ کا پر چار ضرور بڑھا ہے۔ اس کا کریڈٹ سرکار اپنے کو دے رہی ہے لیکن یہ کام تو اس کے آنے کے بہت پہلے سے کچھ یوگیوں نے شروع کردیا تھا۔ ا س کا کریڈٹ انہیں دینے کی بجائے خود جھپٹنے کی کوشش عجیب سی لگتی ہے۔

انہوں نے جن جن کاموں کے اعلان کیے ہیں، ان کے ہندی نام تک انہیں پتا نہیں ہیں۔ میک ان انڈیا، ڈیجیٹل انڈیا، سمارٹ سٹی، یہ سب کیا ہیں؟ سنگھ سربراہ جی، ذرایہ بتائیے کہ آپ اپنی شاخوں میں سوئم سیوکوں کاکیا یہی سب سکھاتے ہیں؟ یہ سوئم سیوکوں کی سرکار ہے۔ اس کے پاس کوئی خود رائے نقشہ ہے، جس کی بنیاد پر بھارت کے مستقبل کی تعمیر ہو گی؟ اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ ساڑھے تین سال بعد یا اس کے پہلے ہی جب یہ سرکار اپنے گھر بیٹھ جائے گی، تب لوگ پوچھیں گے کہ سنگھ کی شاخوں میں سوئم سیوک سنگھ کو صرف پاتھ پاؤں چلانا سکھایا جاتا ہے، دماغ چلانا کیوں نہیں سکھایا جاتا؟ کیا ہندو ملک کی تعمیر اسی طرح ہو گی؟ بشکریہ روزنامہ دنیا۔
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند