تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارت کے واقعات پر عالمی برادری کا اضطراب
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 21 محرم 1437هـ - 4 نومبر 2015م KSA 07:28 - GMT 04:28
بھارت کے واقعات پر عالمی برادری کا اضطراب

حالیہ بھارت افریقہ چوٹی کانفرنس کے موقع پر دارالحکومت دہلی بے حال ہو گئی۔ ٹریفک جام کی وجہ سے دردزہ میں مبتلا ایک خاتون کو آٹو رکشہ میں ہی جنم دینا پڑا۔ اس سے قطع نظر، کانفرنس کی چمک دمک اور بہترین انتظام نے ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے حواریوں کی ایونٹ مینجمنٹ کو تقویت دی۔

بلاشبہ چالیس افریقی ممالک کے سربراہان کی آمد مودی کے لیے زبردست سفارتی کامیابی تھی۔ کانفرنس روایتی وگیان بھون کے بجائے اندرا گاندھی انڈور سٹیڈیم میں منعقد کی گئی۔ یہ ہال، اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے اجلاس کا سماں پیش کر رہا تھا۔ ایسی کانفرنسوں کے برعکس جہاں میڈیا کی رسائی صرف افتتاحی اور اختتامی اجلاسوں تک محدود رہتی ہے، یہاں پوری کانفرنس میڈیا کے لیے کھلی تھی۔ شاید مودی اپنی اس سفارتی کامیابی کا بھر پور ڈھنڈورا پٹوانا چاہتے تھے۔ اس کانفرنس میں دو بادشاہوں، 26 صدور، 6 نائب صدور، 6 وزیر اعظم اور 52 وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔

کانفرنس کی کامیابی کے باوجود بیشتر افریقی رہنما بھارت میں بڑھتی ہوئی جارحانہ فرقہ پرستی اور مودی کے خلاف نامور شخصیات اور سول سوسائٹی کی مورچہ بندی کے باعث مضطرب نظر آئے۔ کئی افریقی ممالک کے وزائے خارجہ اور اعلیٰ افسران بار بار میڈیا کے بنچوں میں آ کر بھارت کی تازہ سیاسی صورت حال معلوم کرتے رہے۔ ایک وسطی افریقی ملک کے وزیر خارجہ میرے پاس آ کر جاننا چاہ رہے تھے کہ کیا بھارت میں مذہبی انتہا پسندوں کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ اور اقلیتوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کی وجہ سے مودی حکومت کی مدت کارکم تو نہیں ہو جائے گی؟ ایک اور ملک کے سینئر اہلکار یہ جاننے کے لیے بے چین تھے کہ کہیں مودی کا حشر مصر کے معزول صدر محمد مرسی جیسا تو نہیں ہو گا! ان رہنماؤں کے خدشات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی برادری بھارت میں پیش آئے واقعات کا بغور نوٹس لے رہی ہے۔

مندوبین اس لیے بھی متجس تھے کہ صدر پرناب مکھرجی کے عشائیہ کے علاوہ کسی بھی دوسری سرکاری ضیافت میں اپوزیشن کے رہنما موجود نہیں تھے۔ کئی سربراہان مملکت نے آنے سے پہلے سفارتی چینلز کے ذریعے اپوزیشن لیڈروں خصوصا کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی مگر انہیں بتایا گیا کہ کانفرنس کا پروگرام خاصا ٹائٹ ہے، اس میں کسی اور ملاقات کی گنجائش نکالنا ممکن نہیں۔ جنوبی افریقا، نمیبیا اور زمبابوے کے رہنماؤں کے کانگریسی رہنماؤں کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں۔ ان سے ملاقات کے ناممکن کو جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے ممکن بنایا، جب وہ ایک طرح سے کانفرنس سے واک آؤٹ کرکے اور پروٹوکول کو بالائے طاق رکھ کر خود سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر پہنچے اور سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ سمیت کانگریسی لیڈروں سے ایک گھنٹہ ملاقات کی۔

یہ نہ صرف مودی کے لیے ایک پیغام تھا بلکہ ایک سفارتی طمانچہ بھی تھا۔ پروٹول کے مطابق دورے پر آئے کسی ملک کا صدر اپوزیشن تو دور کی بات ہے، وزیر اعظم کے پاس بھی نہیں جاتا۔ کانفرنس کے کسی بھی لٹریچر کے علاوہ مودی اور وزیر خارجہ سشما سوراج کی تقریر میں جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کا ذکر نہیں تھا، حالانکہ یہ لیڈر بھارت کی افریقہ پالیسی کے معمار سمجھے جاتے ہیں۔

اس کے برعکس جنوبی افریقا کے صدر زوما، مراکش کے شاہ محمد، مصری صدر عبدالفتاح سیسی، گھانا کے صدر جان ماہاما اور موریشس کے وزیر اعظم انیرودھ جگن ناتھ نے اپنی تقریروں میں نہرو اور اندراگاندھی کا ذکر کیا۔ کانفرنس کے دوران بھارت نے پاکستان کو پیغام دینے کے لیے سٹیٹ سپانسرڈ ٹیررازم اور دہشت گردی کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مذمت اور اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ بالآخر اعلامیہ میں ان ملکوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی اپنی سر زمین دہشت گردی کو پناہ گاہوں کے طور پر استعمال نہ ونے دیں۔

افریقی لیڈروں سے بات چیت کے دوران پتا چلا کہ بھارت میں جارحانہ فرقہ پرستی نے بین الاقوامی برادری کو چوکنا کردیا ہے۔ بھارت کے ریزرو بینک کے گورنر راگھورام راجن بھی یہ بیان دینے پر مجبور ہوئے کہ اقتصادی ترقی، ملک کی سیاسی فضا سے منسلک ہے۔ صورت حال اس قدر تشویشناک ہے کہ نامور ادیبوں، تاریخ دانوں اور سائنس دانوں کی ایک بڑی تعداد مودی حکومت کے خلاف کھل کر میدان میں آگئی ہے اور وہ اس کے خلاف اپنی آواز، سرکاری اعزازات اور تمغے واپس کرکے بلند کر رہی ہے۔

بلاشبہ، دہلی سے متصل دادری میں ایک معمر مسلمان کو گھر میں گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں مار مار کر ہلاک کرنے کے بعد جس طرح بی جے پی کے لیڈروں اور وزیروں نے اشتعال انگیز بیانات دیے، ان سے پوری دنیا میں بھارت کی بڑی رسوائی ہوئی اور نمایاں ہو گیا کہ سب سے بڑی جمہویت، سیکولر ازم اور عدم تشدد کے فلسفہ، کے علمبردار ملک میں انسانی جان سے زیادہ جانور کی جان کی قدر ہے۔ اسی تاثر کے پیش نظر صدر پرناب مکھرجی کو گزشتہ تین ہفتوں میں تین بار بیانات جاری کرنے پڑے جس میں انہوں نے اہل ملک کو خبردار کیا کہ ایسے واقعات سے ملک کی عالمی سطح پر بدنامی ہو رہی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزیر اعظم کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مودی ''اپنے لوگوں'' کو بچانے کے لیے اپنی آئینی، قانونی اور سماجی ذمہ داریوں سے انحراف کر رہے ہیں۔

اپوزیشن نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے بیانات کے ذریعہ وزیر اعظم، سنگھ پر یوار کی تنظیموں اور افراد کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فسطائی سرگرمیوں کے لیے انہیں 'سند جواز' عطا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود وزیر اعظم کا اصرار ہے کہ اس منافرانہ مہم اور تشدد واقعات سے ان کی حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں۔ ان کی طرف سے اپنے حریفوں اور مخالف سیاسی جماعتوں کو ذمہ دار ٹھہرانا دراصل اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور منافرت کے علمبرداروں کے حوصلے بلند کرنے کے مترادف ہے۔

وزیر اعظم نے اب تک اپنے وزیروں مہیش شرما اور سنجیوبلیان کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا؟ وہ غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے پر ان کو کم از کم وزارت سے برطرف کرکے ایک مثبت پیغام دے سکتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ ساکشی مہاراج، یوگی ادیتہ ناتھ، ترون وجئے، سنگیت سوم، نواب ناگر کے علاوہ پارٹی لیڈر سرچند شرما، سادھوی پراچی اور ہریش سنگھ آئے دن اقلیتوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔ کانگریس کے لیڈر سرجے والا کہتے ہیں کہ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کی ان منافرت پھیلانے والوں پر کوئی آنچ نہ آئے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب سے یہ حکومت بر سر اقتدار آئی ہے سوائے ہندو توا عناصر کے کوئی دوسرا اشتعال انگیزی نہیں کر رہا ہے۔

وزیر اعظم کے سطحی بیان کے بعد مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے سو سے زیادہ ادیبوں نے صدر پرناب مکھرجی کو خط روانہ کیا جس میں انہوں نے لکھا:''وہ ملک میں قتل وغارت گری اور اظہار رائے کی آزادی کا گلا گھونٹنے کا ماحول میں خود کو خوف زدہ اور بے بس محسوس کر رہے ہیں اور حکومت کا ان عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنا ناقابل معافی جرم ہے''۔ بی جے پی اور وزیر اعظم نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے جو بلند بانگ دعوے اور وعدے لیے تھے وہ اب تک ان میں سے ایک بھی پورا کرنے میں ناکام رہی ہے، چنانچہ حکومت کی ناکامیوں کی طرف سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے فرقہ واریت کے آزمودہ حربہ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس سے یہ بھی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم کا اپنی پارٹی اور کابینہ کے ارکان پر کنٹرول نہیں ہے، اصل کنٹرول ناگپور میں بیٹھی آر ایس ایس کے قیادت کے ہاتھ میں ہے جس کا علانیہ مظاہرہ حال ہی میں ان کے دہلی میں منعقدہ دربار میں دیکھنے کو آیا، جہاں وزیر اعظم اور ان کے وزراء اپنی اپنی رپورٹ پیش کر رہے تھے۔ ایک اور یہ پہلو یہ بھی ہے کہ مودی نے اپنا 'سخت گیر ہندو قوم پرست' ہونے کا تاثر بنایا جس کے تحت وہ کوئی ایسا قدم اٹھانا نہیں چاہتے جس سے ان کے حامی ناراض ہوں۔ دراصل وہ اسی تاثر کی بدولت ملک کے سب سے بڑے منصب تک پہنچنے ہیں۔ انہیں سنگھ پر یوار کی اعلیٰ ذاتوں پر مشتمل قیادت نے پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے کے باوجود قبول کیا۔
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند