تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تبدیلی جا چکی ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 22 محرم 1437هـ - 5 نومبر 2015م KSA 10:44 - GMT 07:44
تبدیلی جا چکی ہے؟

تبدیلی آ کر چلی بھی گئی اور کسی کو پتہ نہ چلا۔ جی ہاں ہمیں بتایا جا رہا تھا کہ "تبدیلی آنہیں رہی بلکہ آچکی ہے"۔ پنجاب کے پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابی نتائج کے بعد یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ تبدیلی جا نہیں رہی، جا چکی ہے۔ اسی طرح خان صاحب کی نجی زندگی سے متعلق بھی تبدیلی کی خبریں ہمیشہ دیر سے ملتی رہیں۔ جس وقت کہا جا رہا تھا کہ خان صاحب اپنی ازدواجی زندگی میں تبدیلی لا رہے ہیں یعنی شادی کرنے والے ہیں، اسوقت یہ خبر بھی عام تھی کہ تبدیلی آنہیں رہی بلکہ بہت پہلے آ چکی تھی اور پھر ہم نے دیکھا کہ تبدیلی جانے کی خبریں بھی عوام کو تب ملیں جب تبدیلی جا چکی تھی۔ اور اب کی بار تبدیلی اتنی دور چلی گئی ہے کہ شاید اسکی واپسی پاکستان میں ،نہ ہی خان صاحب کی ازدواجی زندگی میں ممکن ہے ۔

پاکستان میں تبدیلی کی واپسی اب اسلئے بھی نا ممکن نظر آتی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی واضح برتری نے دوسرے مر احل کے نتائج کا پتہ بھی دے دیا ہے۔ تبدیلی کے رضا کارِ اعظم عمران خان کی جماعت بلوچستان اور سندھ میں تو پہلے ہی نہیں تھی اب پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی نتائج نے انکے سیاسی اورازدواجی خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ازدواجی خواب اور کیسے چکنا چور ہوتے ہیں۔ایک تبدیلی کی تحریک کا لیڈر تیسری شادی کے لئے کوئی ایسی خاتون کہاں سے ڈھونڈ کر لائے گا۔ جو اپنے ساتھ ہونے والی کسی دھاندلی پر آواز نہ اٹھا سکے۔

جنرل مشرف امریکہ سے ایک ٹیلی فون کال پر ڈھیر ہونے کے لئے یونہی بدنام ہیں ۔ خان صاحب نے تو طلاق کے اعلان کے لئے ایک دن بعد ہونے والے بلدیاتی انتخاب کے گزرنے کا بھی انتظار نہیں کیا، ذہنی دبائو اتنا تھا کہ نجانے لندن میں ریحام خان ایسی کیا بات کہہ دیں کہ جس کا بعد میں دفاع کرنا بھی ممکن نہ رہے۔مگر پھر یہ بھی درست ہے کہ ریحام خان کی طرف سے تبدیلی جا چکی ہے کے اعلان کی صورت میں بلدیاتی انتخابات پر اس سے بھی زیادہ اثر پڑ سکتا تھا۔ تاہم خان صاحب کی نجی زندگی انکا کتنا بھی نجی معاملہ ہو انہوں نے اسکے متعلق تمام فیصلے سیاسی بنیادوں پر کیے اور کرتے رہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان خاتون اول کے ممکنہ عہدے کے لئے کسی اور خاتون کا انتخاب کرنے کی پوزیشن میں ہیں؟
ظاہر ہے عمران خان اگر تیسری اہلیہ کے ساتھ بھی نبھا نہ کر پائے تو لوگ "پہلیـ" بھول اور دوسری غلطی کے بعد تیسری بد حواسی کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔انگلیاں "تیسری" خاتون پر نہیں خود عمران خان پر اٹھیں گی۔ایسے میں کوئی بھی مرد لنڈورا ہی بھلا رہتا ہے اور اس حوالے سے کھلے عام اعلان کرنا عمران خان کے لئے ایک مشکل فیصلہ تو ہو سکتا ہے نا ممکن نہیں۔ ان کے سیاسی معاون ،مشیر مولوی اور ذاتی معالج کا مشورہ اہم ہو گا۔کچھ لوگوں کی رائے میں یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔مگر حیرت تو اُن سیاست دانوں اور اینکرپرسنز پر ہوتی ہے جو ایک طرف تو اسکو نجی معاملہ کہتے ہیں تو دوسری طرف برملا ریحام خان کو مجرم ثابت کرنے کے لئے دلائل وثبوت دیتے ہیں۔

کچھ بیچارے کالم نویس ایسے بھی ہیں جنہوں نے ریحام خان کو 'مادر ملت' کا خطاب دیا تھا اور اب صدمے کی حالت میں خاموش ہیں۔ شیخ رشید جو دھرنے کے دوران عمران خان کے شادی کے اعلان کے وقت ان کے پہلو میں کھڑے تھے ان کا کہنا تھا کہ "نہ ڈھولا ہو گا ، نہ رولا ہو گا"۔شیخ صاحب جو خود بھی کسی"رولے"میں نہیں پڑے یہ بھی کہتے ہیں کہ "بڑھاپے کی شادی بینک گارڈ کی ڈیوٹی کے مانند ایک آنکھ کھلی رکھنے کا نام ہے"۔شیخ صاحب درست ہی فرماتے ہوں گے۔ دوسری طرف چند اینکر پرسنز جو "ثبوتوں "کے ساتھ ریحام خان کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جنہوں نے تو ایک وقت میں بیک وقت چار چار "رولے"پال رکھے تھے۔ خان صاحب ایسے اینکر پرسنز سے ضرور استفادہ کریں اور اگلی بار ان کو انٹرویو دینے سے پہلے ان کا مختصر انٹرویو ضرور لیں۔ اب جب کہ خان صاحب کی سیاست اور زندگی میں اتنی تبدیلی آ بھی چکی اور جا بھی چکی ہے تو انہیں اپنے سیاسی اور صحافتی حلقہ ارباب میں بھی تبدیلی کے لئے سوچنا چاہئیے، یہ وہ سیاسی تھے جنہوں نے ہمیشہ خان صاحب کو دھکا دے کر خود واپسی کی راہ لی۔

اسی طرح کچھ صحافیوں نے خان صاحب کا مشہور زمانہـ"بیڈ روم انٹرویو"کر کے" مزید" شہرت پائی۔ جب کوئی وکیل مؤکل سے، ڈاکٹر مریض سے اور سیاست دان انٹرویو کرنے والی صحافی سے شادی رچا لے تو اس میں اور کچھ نہیں تو مشکلات ضرور پیدا ہوجاتی ہیں،گھریلو ،اناڑی اور من پسند بائولروں کے ساتھ نیٹ پریکٹس کرنے سے آپ بڑے بلے باز نہیں بن سکتے۔ نیوٹرل یعنی غیر جانبدار ایمپائر کا نعرہ لگانا بھی کافی نہیں، نیوٹرل صحافیوں کا سامنا کرنا بھی اصل اور دیر پا تبدیلی کا تقاضا ہوتا ہے۔

فوج کی مدد ،نگرانی اور زیر اثر میدان جنگ سے خبریں بھیجنے والوں کو انگریزی میں embedded journalist کہتے ہیں۔اس کا محاوراتی مطلب اپنے نگران میزبان کے زیر اثر صحافت کا لیا جاتا ہے۔خان صاحب کی سیاست اور میڈیا پالیسی نے اس انگریزی کے محاورے کو روایتی انداز میں اردو معنی دے دیا ہے۔ اس طرح کی سوچ کے ساتھ خان صاحب خود کو خوش فہمی میں مبتلا تو رکھتے رہے مگر تبدیلی نہ لا پائے ۔اب جب کہ تبدیلی آکر جا بھی چکی ہے تو خان صاحب کو اپنی سیاسی اور ازدواجی حکمت عملی میں تبدیلی کے لئے بھی ایک نئی تحریک انصاف چلانی ہو گی اور بنی گالا کے کسی خاموش کونے میں اکیلے ہی دھرنا دینا ہو گا۔ بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند