تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2021

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران کیوں ’امریکا مردہ باد‘ کا نعرہ ترک نہیں کرے گا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 4 جمادی الثانی 1442هـ - 18 جنوری 2021م
آخری اشاعت: پیر 26 محرم 1437هـ - 9 نومبر 2015م KSA 09:55 - GMT 06:55
ایران کیوں ’امریکا مردہ باد‘ کا نعرہ ترک نہیں کرے گا؟

حالیہ چند ماہ میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی سفارتی روابط کے نتیجے میں تہران اور مغربی ممالک کے سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد، بالخصوص تاریخی ایٹمی معاہدے کے بعد یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ دونوں ممالک اپنی طویل دشمنی کا باب بند کر کے نئی دوستی کا آغاز کریں گے۔ مگر ان امیدوں پر اس وقت اوس پڑ گئی جب پچھلے ہفتے ایرانی پارلیمنٹ کی بھاری اکثریت نے فیصلہ کیا کہ تہران ’امریکا مردہ باد‘ کے اشتعال انگیز نعرے کو ترک نہیں کرے گا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ۲۹۰ نشستوں کے ایوان میں ۱۹۲ کی بھاری اکثریت نے اپنے فیصلے مین کہاا کہ ’شہدا کی پرورش کرنے والی ایرانی قوم محض ایک ایٹمی معاہدے کے لالچ میں امریکہ مردہ باد کے نعرے کو ترک کرنے کے لئے ہر گز تیار نہیں ہے‘۔ اس اعلامیے کا مطلب یہ ہے کہ امریکا مردہ باد کا نعرہ جمعہ کے خطبات، مظاہروں، اور اہم مواقع پر لگایا جاتا رہے گا، جیسا کہ ۴ نومبر کا دن جو ۱۹۷۷ میں امریکی سفارتخانے کے محاصرے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کا فیصلہ ملک میں جاری اندرونی سیاسی کشمکش اور غیر لچکدار خارجہ پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ایٹمی معاہدے کے بعد ایران کے بنیاد پرست عناصر نے اسے اپنی کامیابی تصور کیا اور اعتدال پسندوں کو یہ پیغام دیا کہ حقیقی بالادستی انہی کی ہے اور یہ کہ اس معاہدے کا مطلب شیطان اعظم کے ساتھ مکمل صلح نہیں ہے، اور یہ کہ اعتدال پسندوں کوامریکہ کے ساتھ معاملات میں ہر قدم احتیاط سے اٹھانا ہو گا کیونکہ وہ پہلے ہی ایک حد کو پار کر چکے ہیں۔

اشتعال انگیز نعرے میں نرمی

دوسری جانب اس امر کی نشاندہی کرنا بھی ضروری ہے کہ ماضی کے بر عکس ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای سمیت دیگر حکام نے اس نعرے میں بتدریج نرمی پیدا کی ہے اور ’امریکہ مردہ باد‘ کے حقیقی معنیٰ کی وضاحت پیش کی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس ہفتے خامنہ ای نے تہران میں طلبہ کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ ’آپ کے امریکہ مردہ باد کے نعرے اور ایرانی قوم کی فریاد کی پشت پر ایک وسیع منطقی حمایت موجود ہے۔ اور طاہر ہے کہ امریکہ مردہ باد سے ہمارا مطلب امریکی عوام کی موت نہیں ہے کیونکہ امریکی قوم بھی دوسری قوموں کی طرح ہے بلکہ اس کا مطلب امریکی پالیسیوں اور اس کی خود سر کی موت ہے‘۔

ایک اور پیغام میں انہوں نے کہا کہ امریکہ مردہ باد کے نعرے کی پشت پر ایک دلیل اور دانش ہے، اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کا مطلب امریکی قوم کی موت ہے۔ اگرچہ ایران اس نعرے پر اصرار جاری رکھے ہوے ہے لیکن قیادت کی جانب سے اس نعرے کے منفی مفہوم کو کم کرنے کی کوششیں تہران اور واشنگٹن کے درمیان بتدریج بہتر ہوتے ہوے تعلقات کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری ایرانی لیڈرون سے کہ چکے ہیں کہ وہ اس نعرے کوبالکل چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران کیوں اس نعرے کو مکمل طور پر ترک نہیں کر دیتا؟ کیا ایسا کرنے سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان تنأو میں کمی نہیں ہوگی اور نتیجتاً عالمی سطح پر ایران کی مقبولیت میں اضافہ نہیں ہوگا؟

دوہری شناخت ایران کا جزو لا ینفک

جو حکومتیں انقلابات کے نتیجے میں بنتی ہیں اور اپنے سیاسی و سماجی کردار کو انقلابی تصورات پر استوار کرتی ہیں ان کے لیے بعد میں ان انقلابی تصورات سے خود کو آزاد کرا نا تقرہباً نا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی فرد واحد کی مرضی سے نظام کا بدلنا ممکن نہیں ہوتا خواہ وہ فرد واحد سپریم لیڈر ہی کیوں نہ ہو، اور نظام کا چلنا انقلابی تصورات پر ہی منحصر رہتا ہے۔

۱۹۷۹ کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کی فطرت اور شناخت دو عناصر پر تھی، مغرب دشمن اقدار بالخصوص مشرق وسطی مین امریکی پالیسیوں کی مخالفت، اور شیعہ اسلامی نظریات کی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت۔ مغرب مخالف کردار کی جڑیں ایران کی پالیسیوں اور اس کے سخت گیر اداروں میں تھیں جن میں فوج، باسیج سپاہ، قدس فورس، انٹیلی جنس، عدلیہ شامل ہیں۔ شیعہ ازم کے پھیلأو کی تحریکوں کا علمبردار بننا اور امریکہ مخالف قوتوں کا اتحادی بننا ایسی پالیسیاں تھیں جو تہران کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کام کرنے والی قوتوں میں سر فہرست لے آئیں۔ ایران نےانقلابی گارڈ فورس جیسے متعدد سخت گیر ادارے تشکیل دیے اور ان پر قومی بجٹ اور تیل می آمدنی کا بڑا حصہ خرچ کیا، گذشتہ ۳۰ سالوں میں ان اداروں کی مالی اور سیاسی اجارہ داری اور ان کا کردار مکمل طور پر کٹر مغرب مخالف نظریات پر استوار ہو گیا۔ ان اداروں نے سپریم لیڈر کے آہنی اختیارات کو یقینی بنایا اور جواباً اس نے سماجی، سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں ان کی اجارہ داری کو مزید مستحکم کیا۔

اس صورتحال میں سپریم لیڈر اچانک امریکہ مردہ باد کا نعرہ ترک کرنے کا اعلان نہ تو کر سکتےہیں اور نہ ہی کریں گے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کی سیاسی اور سماجیی بنیادوں میں شگاف پڑ جئیں گے جو ان سخت گیر اور فوجی اداروں کے سہارے کھڑی ہیں۔ ایرانی حکومت نے ہمیشہ اندرونی مخالفتوں کو کچلنے کے لیے امریکہ مخالف پالیسیوں کو ایک مضبوط اور موثر حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا ہے اور اپنی اقتصادی بد انتظامیوں کا الزام بڑی آسانی سے امریکہ پر تھوپا ہے۔

تاہم اس صورتحال کے باوجود اس نعرے کو اپنائے رکھنے کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں ہے کی امریکہ اور ایران کے تعلقات بہتر نہیں ہو رہے ہیں۔ اس نعرے کے باوجود تہران اور واشنگٹن مشترکہ مفدات میں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں اور ان مفادات کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔

------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند