تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مودی کو میری دلی مبارک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م
آخری اشاعت: پیر 26 محرم 1437هـ - 9 نومبر 2015م KSA 10:10 - GMT 07:10
مودی کو میری دلی مبارک

وزیراعظم نریندر مودی ، نتیش کمار کو مبارک باد دے رہے ہیں ، لیکن میں اپنے پیارے دوست نریندر مودی کو مبارک دے رہا ہوں۔ بہار میں نریندر مودی کو تو لاٹری کھل گئی ہے۔ اگر مودی بہار میں جیت جاتے تو ان کی بیماری کافی سنگین صورت اختیار کرجاتی۔ وہ لا علاج مریض بن جاتے۔ان کاغرور آسمان کو چھونے لگتا۔ وہ اپنے آپ کوملک کا سب سے بڑا لیڈر سمجھنے لگتے۔ بھاجپا کے کارکنوں کی مستی بڑھ جاتی، سربراہ آرایس ایس موہن بھاگوت کی جانب ابھی بناوٹی پیار دکھائی دیا جاتا ہے، وہ اصلی شکل اختیار کر لیتا۔ لال کرشن ایڈوانی اور مرلی منوہرجوشی جیسے لوگوں کا ابھی صرف مذاق ہی اڑایا جا رہا ہے، پھر ان کی بے عزتی بھی شروع ہو جاتی۔ اپوزیشن کی جانب سرکار کا رویہ کافی نفرت والا ہو جاتا۔

ملک میں رفتہ رفتہ تقریباً ایمرجنسی کی حالت بن جاتی۔ ملک کے عام و خاص لوگ یہ سوچنے لگ جاتے کہ مودی کا نعم البدل ابھی ڈھونڈنا ہے ۔لوگو ں کی سوچ یہ ہوتی کہ یا تو مودی کو بیچ میں ہی اقتدار سے آزاد کر دیا جائے ، اگر وہ کسی طرف ساڑھے تین ساک کھینچ کرلے گئے تو بی جے پی اگلے دو تین دہائی تک جنگل میں چلی جائے گی۔ بہار نے اس بات پر سوالیہ نشان لگا دیا ۔ بہار نے مودی کو اب جو دوا دی ' وہ کسی ''جمال گھوٹے''سے کم نہیں ہے۔

گزشتہ ڈیڑھ برس سے ان کو جو قبض پریشان کر رہا تھا اب وہ دستوں میں بدل جائے گا ۔ مودی کا پیٹ اور دماغ دونوں صاف ہو جائیں گے۔دلی کی دوا بے اثر ثابت ہوئی، مودی نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا، بہار میں بھی نیتش کے مقابلے میں خود کو کھڑا کر لیا، دلی میں بھی یہی کیا تھا۔کچھ سدھرے تو ایک کاغذ کی پتلی کو لے آئے، بہار میں تو کسی پتلی کی آڑ نہیں خود ہی اڑ لیے۔ اپنی رونق کو چکناچور کروا لیا۔ بحث کی سطح بھی اوپر نہیں رکھی۔ بہار کے عام آدمی نے خود سے پوچھا کہ کیا نیتش کو شکست دے کو مودی بہار کے وزیراعلیٰ بنیں گے؟ایک 'بہاری 'نے سچ مچ 'باہری' کو پٹکنی مار دی۔ اب اصلی سوال یہ ہے کہ مودی بہار سے بھی کوئی سبق لیں گے یا نہیں ؟ انہیں طے کرنا ہے کہ بھارت کے وزیراعظم ہیں یا وزیر پرچار؟

بہار کے چناو نے2019ء کے لوک سبھا کے چناو کی بنیاد ابھی سے رکھ دی ہے ۔ اپوزیشن پارٹیاں ایک ہونے کی کوشش کریں گی لیکن 1977ء کی طر ح وہ انہیں جوڑنے والا کوئی جے پرکاش نارائن ڈھونڈ نہیں پائے۔ ڈھونڈیں تو شائد مل جائے! ورنہ ہماری حزب اختلاف تو آج بھان متی کا کینہ ہی ہے۔ مودی کو یہ سمجھ تو ہو گی ہی اور وہ اب بھی سنبھل جائیں تو بہتر ہو گا!

امیت شاہ اور مودی

اخباروں کی خبرہے کہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے اتوار کو اپنے پارٹی لیڈروں اور وفاقی وزرا کو پھٹکار لگائی ' جن کے غلط بیانات کے سبب پارٹی اور سرکار کی بدنامی ہو رہی ہے ۔ اس خبر کی ہیڈ لائن دیکھ کر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ 'دیر آید دست آید'!بی جے پی لیڈروں کی نیند تو کھل گئی! گویا جب جاگے تبھی سویرا!پھر راشٹر یہ سوئم سیوک سنگھ کے سربراہ کا بیان بھی دیکھا، اس نے 'پانچ جنیہ'اور 'آرگنائزر'کو سنگھ کا خاص میگزین ماننے سے انکار کیا اور پانچ جنیہ میں چھپے ایک لیکھ سے سنگھ کو الگ کیا جس میں گائے کے قتل کا قتل وید کے حساب سے جائز بتایا گیا تھا۔

مجھے لگا کہ امیت شاہ اور نریندر مودی کو اب ڈیڑھ سال بعد سمجھ آئی کہ بھارت میں کامیاب حکومت چلانے کا فن کیا ہے۔ انہوں نے اس گرو منتر کو اپنایا ہے کہ گجرات بھات نہیں اور بھارت گجرات نہیں، لیکن میری خوشی کچھ ہی پل میں کافور ہو گئی، جب میں انہی خبروں کے آخر میں پہنچا۔ میں نے یہ پڑھا کہ جن لوگوں نے امیت شاہ سے بات کی تھی'ان میں سے کچھ نے کہا کہ ہماری شاہ سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تو ایک نے کہا کہ ملاقات ہوئی تھی لیکن اس مدعا پر ان سے کوئی بات نہیں ہوئی،اگر خبر کا یہ آخری حصہ ٹھیک ہے تو ماننا پڑے گا کہ اخباروں میں اس خبر کوچپکایا گیا ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ۔ یہ شک اس لیے بھی کنفرم ہوتا ہے کہ اخباروں نے یہ صاف صاف نہیں بتایا کہ امیت شاہ والی خبر کے ذرائع کیا ہیں؟ اگر یہ شک حقیقت ہے تو بہت افسوس ناک ہے ۔ یہ تو کریلا اور نیم چڑھاوالی بات ہو گئی!

اگر سچ مچ مودی اور شاہ اپنی سرکار اور پارٹی کی عزت بچانا چاہتے ہیں اور اپنے عہدوں پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو انہیں داوری جیسے واقعا ت کی سخت لفظوں میں مذمت کرنی چاہیے۔کوئی وجہ نہیں کہ وہ لوگ مال لغات کا استعمال کریں ۔پارٹی اور سرکار کے جن لوگوں کو اوٹ پٹانگ بیانات دینے کی عادت ہے، ان کے ساتھ ان کے لائق برتاؤ ہونا چاہیے۔ اگر ضروری ہو تو انہیں سزا دینے کی ہمت بھی ہونی چاہیے۔

پارلیمنٹ نیچی، عدالت اونچی

سپریم کورت نے تختہ الٹ دیا ۔ لیڈر لوگ کہ رہے ہیں کہ عدالت نے پارلیمنٹ کی خودمختاری کو للکار دیا ہے۔ اس نے عدالت کو اونچا اور پارلیمنٹ کو نیچا کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ اس لیے نیچی ہو گئی کہ جس قانون کو پارلیمنٹ نے سبھی کی اتفاق رائے اور زیادہ تر ودھان سبھاوں نے پاس کیا تھا 'اسے سپریم کورٹ نے غیر آئینی اعلان کر دیا۔ وہ کون سا قانون تھا؟ وہ تھا ججوں کی تقرری کا۔ اب تک ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری ججوںکی ایک جماعت ہی کر دیتی تھی اور صدر اور گورنر اس پر مہر لگا دیتے تھے، لیکن موجودہ سرکار نے ججوں کے ذریعے ججوں کی تقرری کو کافی غلط پایا۔ اس نے اس سسٹم میں ترمیم کی۔ چھ آدمیوں کا سیلیکشن کمیشن بنایا، جس میں وزیر قانون، دو مشہور آدمی، چیف جسٹس اور دیگر جج تھے۔ اس ترمیم کو عدالت نے گرا دیا۔

یوں تو دنیا کے خاص ممالک میں ججوں کی تقرری میں سرکار کا ہاتھ ہوتا ہے ،لیکن یا تووہ عمل کافی سخت اور دوراندیش ہوتا ہے یا پھر تقرریوں کیلیے پارلیمنٹ کی رائے لینی پڑتی ہے۔ ایسے میں من مانی اور دھاندلی کرنا مشکل ہوجاتا ہے، لیکن بھارت کے نئے اور پرانے سسٹم میں کافی غلطیاں ہیں ۔ پرانے سسٹم میں سپریم کورٹ کے جج اپنوں کو ریوڑی بانٹنے رہے تو انہیں روکنے والا کوئی نہیں تھا جبکہ نئے سسٹم میں سرکاری دخل اندازی مشکوک بنی ہوئی ہے۔ دونوں سسٹم کولھو میں گڑ پھوڑنے والے ہیں۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے سرکار کر گڑکا دیا ہے لیکن اسے پتا ہے کہ اس میں بہت کمیاں ہیں۔ سپریم کورٹ کا یہ لیچیلا پن یہ بتاتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور سرکار کو نیچا دکھانے پر تارہ نہیں ہے ۔ اس نے آئینی ترمیم کو رد کر یا تو یہ اس کاحق ہے۔اسے پارلیمنٹ کی توہین کیوں کہا جا رہے ؟ کیا ہماری عدالتیں آزاد نہیں ہیں ؟ کیا وہ پارلیمنٹ کی نوکرانی ہیں۔ کیا اس نے پارلیمنٹ سے ججوں کی تقرری کا حق چھین لیا ہے؟ ایسا کچھ نہیں ہے۔ بدعنوانی عدالتوںمیں بھی ہے۔ لیکن آج بھی عوام کا اعتماد لیڈروں سے زیادہ ججوں پر ہے۔ ہمارے لیڈر ججوں کی تقرری ہتھیانے کیلیے آئینی ترمیم لے آئے، لیکن انگریزوں کے سڑے ہوئے انصاف کے سسٹم میں کوئی بھی بنیادی سدھار کرنے کی بات نہیں سوچتا۔

پانچ بار وزیراعظم بنے

گزشتہ ماہ ماوریشئیس کے وزیراعظم شری انی روھ جگن ناتھ کے ساتھ لگ بھگ دو گھنٹے کی بات ہوئی۔ کھانا کھاتے وقت ہم دونوں ساتھ ساتھ بیٹھے تھے۔ ان کے ساتھ ماوریشئیس اور بھارت میں پہلے بھی کئی بار کھانا اور گفتگو ہوئی، لیکن اس مرتبہ جنتی کھلی بات ہوئی شاید پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ سرشوسا گررام غلا م کے بعد ' جو پہلے وزیراعظم تھے'ماوریشئیس میں عہدہ وزیراعظم صرف تین لوگوں کے اردگرد گھومتارہاہے۔ پہلے جگن ناتھ ' دوسرے نوین رام غلام اور تیسرے پال برانچے ۔ یہ اتفاق ہے کہ ان تینوں لیڈروں سے میرے کافی گہرے تعلقات ہیں۔گزشتہ تیس پنتیس برسوں سے ہم لوگ ایک دوسرے کے گھر بھی آتے جاتے رہے ، لیکن جب ہم بھارت اور ماوریشئیس کے تعلقا ت کی بات کرتے ہیں تو سرشوسا گررام غلام کے بعد جو نام سب سے زیادہ ابھرتا ہے وہ اتی روھ جگن ناتھ کا ہی ہے۔ وہ اپنا رومن میں فرانسیسی طریقے سے لکھتے ہیں جس کا تہجی ہوتا ہے 'اینی روڈ جگنیٹ' لیکن میں انہیں ان کے نجی نام ہندی ہی سے بلاتا ہوں۔ وہ پانچویں بار ماوریشئیس کے وزیراعظم بنے ہیں ۔ دنیا کی سیاست میں جتنی بھی جانتا ہوں آج تک کسی ایسے لیڈ رکا نام نہیں سنا، جو اپنے ملک کا پانچ بار وزیراعظم منتخب ہوا ہو۔جگن ناتھ جی تو دوبار صدر بھی چنے گئے۔ ان کی بیگم صاحبہ میڈم لیڈی سروجتی بھی بہت دریا دل اور مہذب خاتون ہیں ۔ ماوریشئیس میں ہی سونا دھنیہ ، مرحوم سوامی کرشنا نندجی نے ہی میرا تعارف ان دونوں سے کروایا تھا۔ جگن ناتھ جی کے بیٹے بھی آج کل رکن پارلیمنٹ ہیں۔

جگن ناتھ جی گزشتہ پچاس سال سے بھی زیادہ عرصے ماوریشئیس کی سیاست میں متحرک ہے۔86 سال کی عمر میں بھی ان کا جوش دیکھنے لائق ہے۔ انہوں نے اپنے مخالفین کے بارے میں بھی مجھے بہت وسیع طریقے سے بتایالیکن اب کی زبان میں وہ تیزاب دکھائی نہیں دیا جو تیس سال پہلے ہوا کرتا تھا۔ وہ بھارت ماوریشئیس تعلقات میں چین یا پاکستان کوئی رکاوٹ نہیں مانتے'حالانکہ ان کے بڑھتے اثر کو قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے ماوریشئیس سے بھارت آنے والے اربوں روپیہ کے کالے دھن کی خبروں کو بے بنیاد بتایا اور دو طریقہ کالا دھن سمجھوتے کی اہمیت کا خاکہ کھینچا۔ افریقا میں پھیل رہی دہشت گردی پر جب میں نے خدشات ظاہر کیے تو انہوں نے کہا ماوریشئیس میں ہم خاصے خبردار ہیں، فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند