تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شاہ رخ سے خوفزدہ کون؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 27 محرم 1437هـ - 10 نومبر 2015م KSA 08:41 - GMT 05:41
شاہ رخ سے خوفزدہ کون؟

شاہ رخ خان پر دلعزیز فنکار ہیں ۔ کچھ سال قبل ٹائم میگزین نے نہیں دنیا کا سب سے بڑا فلم اسٹار قرار دیا تھا اور انہیں ہالی ووڈ کے اداکاروں ول اسمتھ اور ٹام کروز پر بھی مقدم رکھا تھا۔ مشرق وسطیٰ اور دنیا کے ان ممالک میںجہاں ہندی بولنے اور سمجھنے والوں سے میرا سابقہ پڑتا ہے تو ہندوستان سے میرے تعلق کا علم ہو کر ان کے چہرہ کھل اٹھتا ہے کیونکہ ان کی زبان پر ہندوستان کا نام آنے کے ساتھ ایک اور شخصیت کا نام آتا ہے اور وہ ہیں شاہ رخ خان !! شاہ رخ ہندوستان کے افق پر چمکنے والا ایک درخشا ں ستارہ ہیں اور قابل ذکر ہے کہ ان کا پس منظر بالی ووڈ سے نہیں لیکن کچھ تو وصف ہے ان میںجس کی وجہ سے کروڑوں دل ان پر فریفتہ ہیں۔

شہنشاہ جذبات دلیپ کمار اور میگا اسٹار امیتابھ بچن کی شخصیات میں جو مقناطیسی کشش ہے، اسی کشش کے مالک شاہ رخ خان بھی ہیں ۔ انہوں نے ٹی وی سیریل 'فوجی' سے اپنا کیرئیر شروع کیا تھا ۔ میں اور میرے ساتھی ایک ساتھ بیٹھ کر دور درشن پر یہ سیریل دیکھا کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے ہم بڑے ہوتے گئے ویسے شاہ رخ خان کے ساتھ ہمارا دلی تعلق بھی پرورش پاتا گیا اور یہاں تک کہ گزشتہ دنوں ہم اس لمحے کے بھی شاید ہو گئے کہ جب کنگ خان نے اپنی 50ویں سالگرہ منائی ۔ وہ غیر معمولی ذہانت کے حامل ہیں۔ ان کی حس مزاح تو خیر سے دلچسپی کا باعث بنتی ہے، ان میں بلا کی برجستگی بھی ہے۔ کس موقع پر کیا کہنا ہے، وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں ۔

اپنی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر انڈیا ٹو ڈے کے راج دیب سردیسائی اور این ڈی ٹی وی کی برکھا دت کو انٹرویو دیتے ہوئے شاہ رخ نے اپنی باتوں اور تبصروں کو فلموں تک ہی محدود و مرکوز رکھا تھا لیکن دونوں صحافیوں نے ملک کے موجودہ حالات پر جب رائے طلب کی تو انہوں نے انتہائی محتاط انداز میں جواب دیا کہ ''ہاں، میرا خیال ہے عدم رواداری ہے اور یہ بڑھتی جا رہی ہے''بیف کے تنازعہ پرجنونی فرقہ پرستوں کی نہ تھمنے والی اشتعال انگزیوں پر انہوں نے این ڈی ٹی وی کو دئیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ''ہم نے اسے ایک بڑا موضوع بنا دیا ہے لوگوں کے کھانے پینے کی عادات کو آخر کس طرح مسئلہ بنایا جا سکتا ہے ؟ یہ بالکل احمقانہ ہے۔ اس ملک میں سیکولر نہ رہنا اور مذہبی عدم رواداری کا مظاہرہ کرنا بدترین جرم ہے''۔

ہندوستانی مسلم ہونے کے ناطے جب ان سے حب الوطنی اور پاکستان بھیجنے جیسی دھمکیوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بے جستہ جواب دیا کہ ''میری حب الوطنی پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔ یہ جرات کوئی کیسے کر سکتا ہے؟ یہ شرمناک اور پریشان کن ہے مجھ سے حب الوطنی کے بارے میں سوال کیا جائے۔ میں اسی ملک میں پیدا ہوا ہوں ۔ میں ایک ہندوستانی ہوں اور اس پر کس طرح کا سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ میں ایک ہندوستانی فلم اداکار ہوں اور مجھے اس ملک میں رہنے کا پورا پورا حق ہے اور میں یہ ملک چھوڑ کر نہیں جانے ولا۔ اس لیے اس موضوع پر لوگوں کو خاموش ہو جانا چاہیے''۔

ان تشویشناک حالات پر دانشوروں کے ذریعے اپنے ایوارڈ لوٹانے کی تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہوئے شاہ رخ نے بھی اپنے تمام ایوارڈ لوٹانے کا اشارہ دیا تھا۔ یہ دونوں انٹرویوز چینلوں پر خوب دکھائے گئے اور ناظرین نے شاہ رخ کے خیالات کی حمایت بھی کی لیکن دوسری طرف اسے ہندو تو ادی چراغ پا ہو گئے اور اس حق بیانی کو بھی اپنی اشتعال انگیزی کا بہترین موقع سمجھا۔اشاہ رخ خان کے انٹرویو سے پیدا ہونے والے غیر ضروری تنازع کے دوران اس وقت تنگ نظری کی انتہا ہو گئی جب بی جے پی کی ایک لیڈر نے شاہ رخ کا موازنہ ممبئی حملوں کے مطلوبہ ملزم حافظ سعید سے کیا، اسی دوران بھی کہا گیا کہ شاہ رخ رہتے تو ہندوستان میں ہیں لیکن ان کا دل پاکستان میں ہے۔ ان کی فلموں کا بائیکاٹ کرنے کا انتباہ دیا گیا اور یہاں تک دھمکی دی کہ''دیگر مسلمانوں کی طرح اس سے بھی کبھی سڑک پر آمنا سامنا ہو گا''۔

شاہ رخ خان کے حالیہ معاملہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے ایک مقبول عاما ور ہر دلعزیز فنکار، جسے پوری دنیا میں یکساں مقبولیت حاصل ہے نیز ہارورڈ اور ایڈنبرگ جیسی یونیورسٹیاں بھی جن کیلیے اعزازی اجلاس منعقد کر چکی ہیں، ان کی حق بیانی پر جب اس طرح کا طوفان کھڑا ہو سکتا ہے تو ملک کے ایک عام مسلمان کے ساتھ یہ شر پسند کیا کچھ نہیں کر سکتے؟ دراصل اس ملک کی حقیقی صورتحال یہ ہے کہ یہاں جتنی تیزی سے حالات بدلتے ہیں ، مسائل کی جڑیں اتنی ہی گہری ہوتی جاتی ہیں ۔

ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری پر خود بی جے پی کے کئی لیڈروں نے صفائی پیش کرنے کی کوشش کی لیکن اس طرف جب صبرو تحمل اور رواداری کے حق میں آواز بلند کرنے والے متحد ہو رہے ہیں تو دوسری طرف ہندو توا کے حامی و مددگار پوری شدومد سے اس کوشش میں ہیں کہ حالات کو سنبھلنے نہ دیا جائے۔ مختصر یہ کہ ملک کہ ہم آہنگی اور سالمیت کے لیے گاندھیائی نظریات کی تشہر بھی کر رہے ہیں ۔ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب شرپسند کسی نہ کسی مسئلے اور موضوع پر ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں پر حملہ کرنے کے بہانے تلاش کرنا ان کا مذموم مقصد ہے، پھر ستم ظریفی یہ ہے کہ 'سب کا ساتھ ، سب کاوکاس 'اور'سوچھ بھارت' جیسا نعرہ دینے والے اوراسکیمیں شروع کرنے والے وزیراعظم نے ناقابل قبول خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ وزیراعظم کو جس جوش اور جذبہ سے شدت پسندی اور شرپسندوں کے خلاف بیان دینا چائیے ، وہ کہیں نظر نہیں آتا۔ ان مخدوش حالات میں ادیبوں اور فنکاروں کے متحدہ احتجاج نے عوام کو امید کی کرن دکھائی ہے۔ اس کے علاوہ صدر جمہوریہ نے ایک دو نہیں بلکہ تین مرتبہ فرقہ واریت کی مضبوط ہوتی ہوئی جڑوں پر تشویش کا اظہار کر کے قومی ہم آہنگی اور یگانگت کا پیغام دیا ہے بلکہ اسے ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلیے ناگزیر قرار دے چکے ہیں۔ علاوہ ازیں نائب صدر جمہوریہ نے بھی ان حالات پر اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ صرف ہندوستان میں نہیں ، فرقہ پرستی کی صورتحال اور اس پر حکومت کے رویے پرغیر ملکی میڈیا کی بھی نظر ہے۔ نیویارک ٹائمز مودی کو تنقید کا نشانہ بنا چکا ہے ۔

اب یہ مضحکہ خیز نہیں تو اور کیا ہے کہ وزیر خزانہ ارون جیٹیلی کو ملک میں کہیں عدم رواداری نظرنہیں آتی۔ راجناتھ سنگھ نے قدرے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے بہرحال ایوارڈ لوٹانے والے ادیبوں سے مشورے طلب کیے ہیں کہ حالات کو بدلنے کے لیے کچھ کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو اب اس بات کا اندازاہ ہو جانا چائیے کہ بے لگام فرقہ پرستوں سے دلی برداشتہ انصاف پسند عوام کے صبر و تحمل کا مزید امتحان نہیں لیا جا سکتا۔                                                                                                                               بشکریہ روزنامہ 'انقلاب' ممبئی

------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند