تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جسٹن ٹروڈو اور کپتان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 29 محرم 1437هـ - 12 نومبر 2015م KSA 11:40 - GMT 08:40
جسٹن ٹروڈو اور کپتان

43 سالہ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو (JUSTIN TRUDEAU) کی جنرل الیکشن میں کامیابی اور ملک کے 23 ویں وزیراعظم کے طور پر اقتدار سنبھالتے ہی مقبولیت میںمزید اضافہ ہوچکا ہے۔ جسٹن ٹروڈو کو اپنی نوجوانی کی عمر کو عبور کرتے ہی یہ محسوس ہوا کہ یوتھ کسی بھی ملک کی ایک بڑی طاقت ہوتی ہے۔ یوتھ سے قربت کو بڑھانے کے لئے اس نے خو د کو ٹیچر کے روپ میں لاکھڑا کیا اور وہ ایک تعلیمی ادارے سے بطور استاد منسلک ہوگیا۔ وقت کا اتار چڑھائو اسکی تربیت کرتا رہا۔

1996 ء میں برف پراسکینگ کے مقابلوں کے دوران اسکے بھائی کی موت اور پھر 2000 میں اسکے مطابق وزیر اعظم باپ کی موت نے اسکے اندر زندگی کے حقائق کو مزید روشن کردیا۔ بھائی کی موت حادثے اور باپ کی موت کینسر سے ہوئی تھی۔ اس لئے اس نے استاد کے کردار کے ساتھ ساتھ لوگوں کو حادثات سے بچنے کے لئے آگاہی کی مہم بھی چلائی اور کینسر سے بچائو کیلئے اپنا کردار ادا کیا بلکہ ایک موقع پر اس نے کینسر سے بچائو کیلئے ایک نمائش باکسنگ مقابلے میں بھی حصہ لیا۔ اس نے اپنے سیاحت کے شوق کو پورا کرنے کیلئے دوستوں کے ہمراہ دنیاکا ایک طویل سفربھی کیا اور ایک ہی اللہ کی مخلوق کے مختلف روپ آسانیاں ، مشکلات اور پریشانیوں نے نوجوان جسٹن کے اندر مساوات کا ایک دیا روشن کردیا۔

اپریل 2013 ء میں پارٹی کا سربراہ بننے کے بعد جسٹن نے اپنی سوچ، اپنی پالیسیوں اور عوام سے اپنی محبت کا پرچار شروع کیا تو یہ کوئی نہیں سوچ سکتا تھا کہ 43 سالہ بظاہر کھلنڈرا نظرآنے والا یہ شخص اتنے منجھے ہوئے اور گھاگ سیاستدنوں کو پیچھے چھوڑ دیگا اور آخری الیکشن میں جس کی پارٹی نے صرف 36 نشستیں جیتی ہوں وہ پارٹی کوئی معجزہ دکھا سکے گی۔ لیکن پھر سب نے دیکھا کہ نوجوانوں کے دلوں میں گھر کرجانے والے اس شخص نے ہر عمر کے لو گو ں کو اپنا مد ا ح بنا نے کے سا تھ ساتھ ان بدیسیوں کی بھی حمایت حا صل کر لی جو کینیڈا کی شہریت حاصل ہونے کے باوجود اس خوف میں مبتلا تھے کہ شاید ان کے ساتھ امتیازی سلوک برت کر کوئی ایسی پالیسی نہ لائی جائے جو انکے کینیڈا کے ساتھ وابستہ مستقبل کو کمزور یا ختم کردے۔

جسٹن ٹروڈو کبھی ٹرین میں سفر کرتا نظر آتا تو کبھی عوام کے ساتھ ریستورانوں میں گھل مل جاتا۔ مسلمانوں کی مساجد میں ان جیسا لباس پہن کر انکی خوشیوں میں شریک نظرآتا تو کبھی سکھوں کے گردواروں میں سرڈھانپے ادب سے کھڑا نظرآتا لوگ اسے سیاسی اسسٹنٹ بھی کہتے رہے لیکن جسٹن ٹروڈو نے تمام کینیڈین کو ایک جیسا باوقار شہری قرار دیتے ہوئے انکے ساتھ اظہار یکجہتی اور برابری کا سلوک جاری رکھا اور پھر اکتوبر 2015 ء کے الیکشن میں جسٹن نے 36 نشستوں کی تعداد بڑھا کر نہ صرف 184 کر لی بلکہ آئندہ ملک کا وزیراعظم بننے کی راہ بھی ہموار کرلی وزیراعظم کے عہدے تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے ملک کی عوام کے علاوہ دنیا بھر کو اپنی طرف راغب کرلیا۔ اسکی باتیں بھائی چارے اور ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کی پالیسیوں کو فروغ دینے میں مددگار دکھائی دینے لگیں اور جب اس نے اپنی پہلی کابینہ کا اعلان کیا تو اس میں پچاس فی صد خواتین کو شامل کرکے اپنے نعروں کو سچ ثابت کر دکھایا اور اس کابینہ میں سکھوں، مسلمانوں اور ہر رنگ و نسل کے لوگوں کو شامل کرکے قومی یکجہتی کی ایک عمدہ مثال پیش کردی ۔

پاکستان میں 2013 ء کے جنرل الیکشن میں پاکستانی عوام بھی اسی طرح عمران خان کی طرف دیکھ رہی تھی ،خاص طور پر ہماری نئی نسل عمران خا ن سے بہت متاثر تھی اور ایک نیا پاکستان بنتا دیکھنا چاہتی تھی جہاں مساوات ہو ۔ محض سیا سی بنائو سنگھار کی بجائے دنیا میں وقار پیدا کرنے اور عوام کی مشکلات کو آسانی میں تبدیل کرنے کی پالیسیاں دیکھنا چاہتے تھے گو کہ عمران خان کو مرکز میں اکثریت تو نہ ملی لیکن ایک صوبے میں تحریک انصاف اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔عمران کے چاہنے والوں نے اب اپنے لیڈر سے یہ امیدیں وابستہ کر لیں کہ وہ صوبہ کے پی کے میں ایسی حکو مت تشکیل دیں گے جو دکھا وے کی سیاست کی بجائے ایسے کام کریں گے جو نئے پا کستا ن کی عکاس ہو گی، لیکن عوام اور نوجوان نسل جس تبدیلی کو دیکھنا چاتی تھی وہ نظر نہ آئی۔

وہی روایتی سیاست دان وہی کنبہ پروری کرنے والے لوگ، کسی نہ کسی طریقے سے آگے آگے نظر آتے رہے۔ جن لوگوں کو کرپشن کے نام پر علیحدہ کیا گیا ان کے خلاف پریس کانفرنسیں کی گئیں کہ حکومت ختم کرلیں گے ان کے ساتھ سمجھوتہ نہیں ہوگا وہی پھر بغل کا بچہ نظرآنے لگے۔ کیا ہم خواب ہی دیکھتے رہیں گے اور دنیا کہاں سے کہاں پہنچ جائے گی اور یہ اسٹیٹس کو کی سیاست اور اقتدار کے مزے سب ہی لوٹتے رہیں گے یا کینیڈا کی طرح ہمیں بھی کوئی جسٹن ٹروڈو مل سکے گا…!!  بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند