تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ہمارے’’دانشورانِ میکدہ‘‘
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 6 صفر 1437هـ - 19 نومبر 2015م KSA 12:36 - GMT 09:36
ہمارے’’دانشورانِ میکدہ‘‘

پہلے وزیراعظم نوازشریف صاحب کے’’لبرل پاکستان‘‘کے بیان اور اب حالیہ پیرس دہشت گرد حملہ نے ہمارے’’چُسکی‘‘لگانے والے ’’سیانوں‘‘ کو کیا خوب موقع دیا کہ وہ پاکستان کی اسلامی اساس کو ختم کرنے کےلیے کھل کر سامنے آ گئے۔ حملہ کرنے والے مبینہ دہشت گرد پیدا تو پیرس، بیلجیئم اور دوسرے یورپی ممالک میں ہوئے، انہی ’’پروگریسیو‘‘ اور ’’روشن خیال‘‘ معاشروں میں وہ پلے بڑھے، وہیں تعلیم حاصل کی۔ نہ کسی کا پاکستان سے تعلق، نہ کوئی ہمارے کسی مدرسے میں رہا۔ اس کے باوجود ہمارے ’’دانشورانِ میکدہ‘‘ کی ضد ہے کہ پاکستان کی ریاست اور اسلام کو آپس میں لاتعلق کر دیں۔ یہ سیانے فرماتے ہیں کہ اگر پاکستان سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ہے تو ریاست اور مذہب کو جدا کرنا ہو گا اور پاکستان کو بھی مغرب کی طرح ایک سیکولر اور لبرل سوسائٹی بنانا ہو گا۔

کوئی پوچھےاگر یہ سچ ہے تو پھر آخر کیا وجہ ہے کہ داعش میں شمولیت اختیار کرنے والوں کی بڑی تعداد کا تعلق اُن مسلمان نوجوانوں سے ہے جو امریکا و یورپ میں ہی پلے بڑھے۔ اور تو اور یہاں تو ’’جونز‘‘ بھی داعش کے ’’جہادی‘‘ بن گئے۔ لیکن یہ سب کچھ یکسر بھول کر نشانہ بنایا جا رہا ہے اسلامی پاکستان کو جان بوجھ کر اپنے اندر چھپے بغض کی بنیاد پر اسلامی ریاست کا مطالبہ کرنے والوں کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں’’کون سا اسلام؟‘‘ اور پھر اسلامی ریاست کا ایک ایسا نقشہ کھینچتے ہیں جس میں اقلیتوں اور عورتوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ بہت کچھ جانتے بوجھتے، یہ سیانے اسلام کی تعلیمات کو چھپاتے ہیں اور مغرب اوراس کے سیاسی اور معاشرتی نظام کو آئیڈیالائز کرتے ہیں۔ اپنے پڑھنے، دیکھنے اور سننے والوں کو گمراہ کرنے والے یہ سیانے دراصل پاکستان میں ایک ایسا کھلا ڈلا ماحول چاہتے ہیں جو ایک اسلامی ریاست میں ممکن نہیں اور جہاں مغرب کی طرح شراب پر کوئی پابندی نہ ہو، مردوں اور عورتوں کو بغیر شادی کے ایک دوسرے سے تعلق رکھنے کی اجازت ہو۔ مہ خانے کھلے ہوں، ڈانس کلبوں اور کسینوز (Casino) کی اجازت ہو تاثر یہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے اسلام دنیاوی تعلیم کے رستے میں رکاوٹ ہے۔ ان سیانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ ترقی کو شراب، بے شرمی اوربے حیائی سے جوڑتے ہیں۔ ورنہ اسلام نے کب روکا کہ تعلیم پر پیسہ نہ لگاو!!

اسلام تو ہمیں علم حاصل کرنے کی تلقین کرتا ہے چاہے اس کے لیے ہمیں کتنا ہی سفر کیوں نہ طے کرنا پڑے۔ اپنی خواہشوں کےلیے کچھ سیانے تو اس حد تک بے چین ہیں کہ اسلام ہی کو بدل کر رکھ دیں۔ مشورہ دیتے ہیں کہ اجتہاد کے بند دروازے کو کھول دیں۔ کیا اجتہاد سے اللہ کے قانون کو بدلا جا سکتا ہے؟ کیا اس سے شراب اور سود کو حلال قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا ایک اسلامی ریاست میں ہم جنس پرستی اور عورت مرد کے درمیان ناجائز تعلقات کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ کسی اسمبلی، کسی جمہوریت، کسی اسلامی اسکالر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اسلامی ڈریس کوڈ (Islamic dress) یا پردے کے احکامات کو ہی بدل دے؟ یا اسلام کو ایسی جدت دی جائے کہ فحاشی و عریانیت، ناچ گانا جائز بن جائیں؟

مسئلہ تعلیم نہیں، ترقی نہیں، سائنس وٹیکنالوجی نہیں۔ یہ سب کچھ کیوں نہیں کرتے۔ بچوں اور بچیوں کےلیے علیحدہ علیحدہ کالج بنائیں، یونیورسٹیاں قائم کریں، پی ایچ ڈی کروائیں۔ کب کسی نے روکا ہے۔ ہاں اگر اصل منشا عیاشی، شراب و جوا ہے جسے کوئی پروگریسیو سے تشبیہ دیتا ہے تو کوئی اسے روشن خیالی سے جوڑتا ہے، تو اس پر اسلام راضی نہیں اور نہ ہی اسے بدلا جا سکتا ہے چاہے سیانے کتنی ہی ’’سیانی‘‘ باتیں کرلیں۔

جہاں تک ہمارے معاشرے میں شدت پسندی کا تعلق ہے تو اس کا علاج یہ نہیں کہ اسلام کو ہی غائب کر دیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اس بات کو یقینی بنائے کہ ہم اپنے بچوں کو اسکولوں، کالجوں اور مدرسوں میں دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن اور حدیث کا فہم دیں تاکہ وہ حلال اور حرام کے درمیان فرق کو سمجھ سکیں، تاکہ وہ جان سکیں کہ فرقہ واریت کی تو اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔ مسلمان کے علاوہ ہماری کوئی دوسری پہچان نہیں، قرآن و سنت میں نہ کوئی شیعہ ہے نہ سنی، نہ بریلوی نہ دیوبندی اور نہ اہل حدیث، اگر آپ اسلام کو ماننے والے ہیں تو اپنے معاشرے میں بسنے والی اقلیتوں کا خیال رکھیں، عورتوں کو اُن کے حقوق دیں، کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے انسان کی جان لے، اگر کوئی جرم کرے گا تو سزا کا تعین ریاست کرےگی۔

اگر انتہا پسندی کو روکنا ہے تو ضروری ہے کہ ریاست اور حکمرانوں کے فیصلے اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوں۔ اگر اسلامی ممالک میں شدت پسندی کو روکنا ہے تو بشمول پاکستان دنیا بھر میں مسلمان حکمرانوں کو طاغوتی قوتوں کا اہلکار بن کر مسلمانوں پر ہی ظلم کرنے کی روش کو ختم کرنا ہو گا اور کشمیر، فلسطین، برما وغیرہ جیسے مسئلوں کے حل کے لیے یک زبان ہو کر آواز بلند کرنی پڑے گی ورنہ القاعدہ، داعش اور طالبان جیسی تنظیمیں بنتی ہی رہیں گی۔ آپ ایک کو ختم کریں گے،کوئی دوسرا پیدا ہو جائے گا۔ افغانستان، امریکا و یورپ کی چاپلوسی اور ان کی مسلم کش پالیسیوں کی حمایت کی بجائے پوری انسانیت کی فلاح کےلیے ہمیں مغرب کو یہ بتانے کی ضرورت ہے وہ کیا غلطیاں کر رہا ہے،وہ کس طرح لاکھوں مسلمانوں کے قتل و غارت کا سبب بنا، اُن کی پالیسیوں نے کیسے دنیا بھرکوغیر محفوظ بنا دیا۔ بشکریہ روزنامہ'جنگ'
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند