تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارت: مُسلم کشی کی دنیائےعرب میں بازگشت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 9 صفر 1437هـ - 22 نومبر 2015م KSA 12:00 - GMT 09:00
بھارت: مُسلم کشی کی دنیائےعرب میں بازگشت

کرہ ارض کی عظیم الشان 'جمہوریہ' کہلوانے والے بھارت میں نریندر مودی سرکاری کی مسلم دشمنی اور 'تقدیسِ گائوماتا' کی آڑمیں بے گناہ مسلمانوں کے بہیمانہ قتل نے زندہ ضمیر دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

بھارت میں پچھلے چند برسوں بالخصوص نریندر مودی کے اقتدارکےعرصے میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی لرزہ خیز داستانیں اس وقت بین الاقوامی برادری کے مختلف فورمز اورعرب دنیا میں بھی زیربحث ہیں۔ عرب مبصرین بھارت میں"بیف" کے تنازع کو یہاں کے مذہبی، جغرافیائی اور نسلی تضادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت جس مذہبی جنونیت اور شدت پسندی کی راہ پر چل پڑا ہے وہ اپنے جلو میں وہاں پر بسنے والے کروڑوں انسانوں کے لیے تباہی وبربادی کا سامان لیے ہوئے ہے۔ موجودہ تشویشناک حالات بھارتی سرکار بالخصوص گائو ماتا کے پجاریوں کے لیے فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ بھارت کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ کثیرالقومی ملک میں اقلیتوں کو اکثریت کے ساتھ لڑانے کی طرف بڑھنا چاہتا ہے یا بقائے باہمی کے اصول کو اپناتے ہوئے رواداری کا چلن اپنا رہا ہے۔

بھارت میں گائے کے تقدس کی آڑ میں جس بےدردی سے مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے اس نے بھارتی جنتا، سہنا، سرکارحتیٰ کہ پورے سماج کوایک نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب بھارت اندرونی شدید خلفشار، سماجی انتشار اور سیاسی وجغرافیائی اضطرار سے گذر رہا ہے۔

مُلک کی 30 فی صد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسرکررہی ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی کا یہ عالم ہے کہ روزانہ تین لاکھ لوگ فٹ پاتھوں اور پارکوں میں شب بسر کرتے ہیں۔

نریندر مودی نے بہ ظاہر یہ کہہ کرکہ "مسلمان اور ہندو آپس میں نہیں بلکہ غربت سے لڑیں" خود کو حالات سے بری الذمہ قرار دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزمہم میں نریندر مودی کا اپنا ہاتھ ہے۔ مودی کا اپنا دمن گجرات کے بے گناہ مسلمانوں کے خون سے لہو رنگ ہے۔ راشٹریہ سیوک سنگھ سمیت بے ہندو انتہا پسندوں کی کئی تنظیمیں نریندر مودی کی پرودہ ہیں۔ نریندر مودی اپنے لڑکپن کی چائے فروشی کی ذہنیت سے اوپر نہیں اٹھ سکے ہیں۔ بھارت کو ایک ایسے وقت باہمت لیڈر کی ضرورت ہے جو کثیرالقومی ملک کے تمام طبقات کو اپنے ساتھ لے کرآگے بڑھنے کا داعیہ رکھتا ہو۔ بدقسمتی سے تخت دہلی پر براجمان ہونے والا کوئی بھی ہندو لیڈر آج تک پورے ملک کی نمائندگی کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوا ہے۔

صرف نریندر مودی ہی کیا، ان کے تمام پیشرو پرتھان منتری تمام اقوام کے درمیان انصاف کا ترازو قائم کرنے میں ناکام رہے۔ مسلمان خاص طورپر بھارتی حکومتوں کی امتیازی پالیسیوں کا نشانہ بنتے رہے۔ غربت سے لڑنے کا دعویٰ کرنے والے بھارتی سیاسی برہمنوں نے مسلمانوں کو روزگار کے بنیادی حق سے محروم رکھنےمیں کوئی کسرنہیں اٹھا رکھی۔

بھارت میں سات سے 10 کروڑ لوگ ٹوائلٹ سے محروم ہیں۔ 20 کروڑ سے زائد افراد کو صحت اور تعلیم کے شعبے میں پسماندگی کا سامنا ہے۔ 30 فی صد آبادی آج تک بجلی کے نام سے بھی واقف نہیں۔ سڑکوں کا جال بچھانے کے دعوے دار حکومت شری نرسیمارائو کی یاد گار بنانے پر تو کروڑوں روپے صرف کرنے کو تیار ہے مگر بنیادی ڈھانچہ انگریزو دور کا زیراستعمال ہے۔ ایسے میں "بیف" کے تنازع کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بنا کر پیش کرنا اور پوری ریاستی مشینری کی توجہ اس غیراہم معاملے پر مرکوز کرنا بھارتی سرکار کی لاپراہی ہی نہیں بلکہ نااہلی کا بین ثبوت ہے۔

سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کا دعویٰ اپنی جگہ مگر 70 فی صد آبادی یومیہ ایک ڈالر پرگذر اوقات کرنے پرمجبور ہے۔ 400 ملین لوگوں کو غربت نے نڈھال کررکھا ہے۔ بھارت میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے والے باشندوں کی تعداد امریکا کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ ہرماہ 10 لاکھ لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔

ان تمام مسائل کے ہوتے ہوئے نریندر مودی کی ترجیحات ہی الگ ہیں۔ فوج اور دفاع کے شعبے میں بھارتی حکومت نے واقعی خوب ترقی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلحہ کے حصول میں تو نئی دہلی زقندیں بھرتا جا رہا ہے۔ اندرونی اور بیرونی خطرات کو بڑھا چڑھا کر بھارت کو اسلحہ اور گولہ بارود کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ آئے روز افواہوں پر زندہ رہنے والی بھارتی حکومت کی تمام پالیسیاں محض افواہوں کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہیں۔ افواہ کی بنیاد پر پاکستان پردہشت گردی کا الزام تھوپ دیا جاتا ہے۔ بیف کھانے کی افواہ پرمسلمانوں کو بے دردی سے شہید کیا جاتا ہے۔ میڈٰیا کے چھوڑے شوشے ریاستی پالیسیوں کی تشکیل کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

بھاتی 'خردماغوں' کے سرمیں خطے کی تھانیداری کے حصول کا خبط سوار ہے مگر نئی دہلی سرکار یہ بھول گئی ہے کہ امن استحکام اور معاشی ترقی کے لیے جس ویژن اور صبرو حوصلے کی ضرورت ہے وہ اس سے وہ تہی دامن ہے۔ کوئی بھارتی سرکار کوئی بتائے کہ غربت "دہشت گردی کی ماں ہے" بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ دولت توعرب ملکوں میں بھی وافرہے مگر انتہا پسندی اور دہشت گردی کا جن وہاں کیوں بوتل سے باہر ننگا ناچ رہا ہے؟ عالمی سیاست کی معمولی شد بد رکھنے والا بھی جانتا ہےکہ عرب ممالک اور بھارت کی تاریخ، جغرافیائی ہیئت اور دونوں خطوں میں بسنے والی اقوام تاریخی پس منظر ایک دوسرے سے جدا ہیں۔

عرب ممالک قدرتی وسائل بالخصوص تیل کی دولت سے مالا مال ہیں مگر دہشت گردی کے محرکات غربت یا بے روزگاری نہیں۔ بھارت ایک کثیرطبقاتی ملک ہے۔ خود ہندو ذات پات اور چھوت چھات کے سحر سے باہر نہیں آسکے۔ جو قوم اپنی ہم مذہبوں کو ہیچ اور نیچ خیال کرے۔ نچلی ذات کو اپنی مقدس مذہبی تعلیمات سے دور رکھے اورانہیں انسان کے بجائے کیڑے مکوڑوں کا درجہ دے وہ بھلا مخالف مذہب کے لوگوں کو کیسے برداشت کرسکتی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جاری نفرت ہندئوں کی اسی تقسیم پرمبنی فطرت کا شاخسانہ ہے۔

------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند