تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارت میں چند روز
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 13 رجب 1440هـ - 20 مارچ 2019م
آخری اشاعت: منگل 11 صفر 1437هـ - 24 نومبر 2015م KSA 08:46 - GMT 05:46
بھارت میں چند روز

ان دنوں ٹریک ون کے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں توبھارت کے ساتھ ٹریک ٹو کے مذاکرات سے خاک کوئی نتیجہ نکلے گا۔ اس حوالے سے کسی غلط فہمی کا شکار ہر گز نہیں تھا لیکن پاکستان کے جناح انسٹی ٹیوٹ اور بھارت کے سی ڈی آر (Centre for Dialogue and Reconciliation) کے زیر اہتمام نئی دہلی میں ہونے والے ٹریک ٹو ڈائیلاگ میں شرکت کی حامی اس لئے بھری کہ اس طرح کی نشستوں میں بھارت کی سوچ، عزائم اور دلائل سے آگاہی بخوبی ہو جاتی ہے۔ ایک اور لالچ یہ تھا کہ ہندوستان گئے کئی سال گزر چکے تھے اور خواہش تھی کہ نریندر مودی کے بدلے ہوئے ہندوستان کی نئی شکل بھی قریب سے دیکھ لوں۔ یہ دونوں مقاصد بخوبی پورے ہوئے اور یوں یہ موقع فراہم کرنے پر جناح انسٹی ٹیوٹ کا مشکور ہوں۔

نئی دہلی کے کلیرجز ہوٹل میں منعقدہ اس دوروزہ ڈائیلاگ میں پاکستان کی نمائندگی، پیپلز پارٹی کی نائب صدروجناح انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ شیری رحمان، سابق سیکرٹری خارجہ عزیز احمد خان، سابق سفارتکار شفقت کاکا خیل، سابق سیکرٹری خارجہ و ہندوستان میں سابق سفیر سلمان بشیر، آزادکشمیر اسمبلی کے اسپیکر شاہ غلام قادر، ماروی سرمد، سینئر صحافی زاہد حسین، جناح انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروگرام حسن اکبر، پروگرام منیجر صفوان احمد اور اس طالب علم جبکہ بھارت کی نمائندگی اس کے سابق سیکرٹری خارجہ سلمان حیدر، سابق سفارتکار ایس کے لامبا، پاکستان میں بھارت کے سابق سفیر ستیابراتا پال، نیشنل کمیشن فار منیارٹیز کے سابق چیئرمین وجاہت حبیب اللہ، کمیونسٹ پارٹی مقبوضہ کشمیر کے یوسف تریگامی، سری نگر سے تعلق رکھنے والے نوجوان دانشور گوہر گیلانی، ممتاز صحافی سدھارتھ وردھاراجن، دی سٹیزن کی چیف ایڈیٹر سیما مصطفیٰ اور سی ڈی آر کی شوبرا چھاترودی نے کی ۔ تعارفی اور اختتامی سیشنز کے علاوہ چھ سیشنز ہوئے۔ پہلے سیشن کا موضوع دوطرفہ تعلقات، دوسرے سیشن کا کشمیر، تیسرے کا افغانستان اور چوتھے سیشن کا موضوع میڈیا کا رول تھا۔ ان مذاکرات کے اختتام پر جو سفارشات تیار کی گئیں وہ تو جناح انسٹی ٹیوٹ اور سی ڈی آر کی طرف سے باقاعدہ طور پر دونوں حکومتوں اور میڈیا کے سامنے لائی جائیں گی لیکن میرا مشاہدہ اور مطالعہ چونکہ میری ذاتی ملکیت ہے، اس لئے ان کا خلاصہ قارئین کے سامنے رکھنا اپنا صحافتی فرض سمجھتا ہوں۔

میں نے صرف ڈائیلاگ میں شرکت اور اس کے شرکاء کے ساتھ تبادلہ خیال پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وہاں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کے ساتھ لنچ پر تفصیلی ون ٹوون گفتگو بھی کی۔ اسی طرح پاکستان سفارتخانے میں عشائیے کے موقع پر پاکستان کے سفارتی عملے اور وہاں جمع ہونے والے بعض بھارتی مہمانوں سے بھی سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ۔ آزاد کشمیر اسمبلی کےا سپیکر شاہ غلام قادر کے ساتھ دہلی کے بازاروں میں بھی گھوما اور دکاندار سے لے کر ٹیکسی ڈرائیور تک، جس سے بھی موقع ملا ، تبادلہ خیال کیا۔ اس سفر سے میری یہ رائے مزید پختہ ہوئی کہ سردست ہندوستان کے ساتھ بات چیت کے لئے حالات سازگار ہیں اورنہ اس کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ وجہ صرف نریندر مودی کی حکومت کی ہٹ دھرمی نہیں بلکہ میں نے محسوس کیا کہ اس وقت پاکستان کے بارے میں ایک عام بھارتی بھی ایک غیر ضروری احساس تفاخر (Superiority Complex) کا شکار ہے۔ یہ بیماری ان کے حکمرانوں سے لے کر عام آدمی تک اور دانشوروں سے لے کر سیاستدانوں تک ہر سمت پھیلی نظر آرہی ہے۔ ان کے رویے سے یہ معلومات ہوتا ہے کہ جیسے تعلقات بھی پاکستان کی ضرورت ہے اور مذاکرات بھی اس کی مجبوری ہے۔

وہ اپنے آپ کو بہت پارسا اور پاکستان کو ہر معاملے میں مجرم گردانتے ہیں جبکہ کرکٹ کھیلنے کو بھی ہمارے اوپر احسان سمجھتے ہیں۔اسی طرح اب بھارتی حکومت کی پاکستان سے متعلق پالیسی کا معمار ان کا دفتر خارجہ نہیں رہا بلکہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول بن گئے ہیں۔ اگرچہ بھارتی دفتر خارجہ کی پاکستان سے متعلق سوچ بھی بہت منفی اور روایتی ہے لیکن اجیت دوول کی سوچ تو وہی ہے کہ جو بھارتی خفیہ ایجنسی را(RAW) کی ہے۔ یوں پہلی بار پاکستان سے متعلق بھارت کی پالیسی مکمل طور پر ان خطوط پر استوار نظر آتی ہے کہ جو را کی سوچ ہے اور ظاہر ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی حریف ملک سے متعلق سوچ اور اپروچ یکطرفہ اور ضرورت سے زیادہ منفی ہوا کرتی ہے۔خود اجیت دوول ذاتی لحاظ سے بھی انتہائی پاکستان مخالف سوچ کے حامل ہیں اور ان کے ذہن میں بھرے ہوئے زہر کو ان کی ایک لیک شدہ ویڈیو میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ بھارت کا میڈیا ہے۔

پاکستان کو گالی دینا اور جنگجویانہ فضا برقرار رکھنا بھارتی میڈیاکا ایک فیشن بن گیا ہے۔ اگرچہ میڈیا کو شروع میں اسٹیبلشمنٹ اور حکومتیں استعمال کرکے اس طرح کا سبق پڑھاتی ہیں لیکن بعد میں حکومتیں خوداس میڈیا کی یرغمال بن جاتی ہیں۔ اب بھارتی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔ نریندرمودی کی جگہ اگر آج اٹل بہاری واجپائی ہوتے تو انہیں بھی یہ میڈیا پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے نہ دیتا۔ پاکستانی میڈیا میں بھی جنگجویانہ فضا پیدا کرنا ایک فیشن بن گیا ہے لیکن یہاں ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کی بھی کمی نہیں لیکن بھارتی میڈیا میں خارجہ پالیسی کے ضمن میں اختلاف کرنے والوں کی شرح آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔

بھارت کے اندر اگرچہ نریندرمودی اور آر ایس ایس جیسی تنظیموں پر تنقید ہورہی ہے اور سیاسی سطح پر ان کے خلاف ایک اتحاد کی بنیاد بھی ریاست بہار کے انتخابات کے بعد پڑ گئی ہے لیکن مودی کے خلاف جو تنقید ہے وہ پاکستان کے بارے میں ان کی پالیسیوں سے متعلق نہیں بلکہ داخلی حالات سے متعلق ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو بامعنی مذاکرات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے مذاکرات ہوئے بھی تو ان کے نتیجہ خیز ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ بھارتی مزاج اور رویے کو دیکھ کر میری تویہ عاجزانہ اور دیانتدارانہ رائے بن گئی ہے کہ میاں نوازشریف کی طرف سے نریندر مودی کی حلف برداری میں جانا اور ان سے مذاکرات کی خواہش کرنا بڑی غلطی تھی۔ اس سے بڑی غلطی اوفا میں ملاقات اور اوفا اعلامیہ پر رضا مندی تھی اور اگر مزید بھارت سے مذاکرات کی یکطرفہ کوشش کی جائے گی تو یہ ان دونوں غلطیوں سے بھی بڑی غلطی ہوگی۔ دورہ بھارت سے قبل تو کرکٹ کے بارے میں اپنی رائے یہ تھی کہ جب تک بھارتی کرکٹ بورڈ معافی نہ مانگے تو پاکستان کو سیریز نہیں کھیلنی چاہئے لیکن اب تو میں سمجھتا ہوں کہ قومی وقار کی خاطر یہ شرط رکھنی چاہئے کہ جب تک ہندوستان کی ٹیم پاکستان نہیں آتی تو اس کے ساتھ تیسرے ملک میں بھی کرکٹ نہیں کھیلی جائے گی ۔

قومی وقار اور سفارتی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ بھارت کو بھی اس کے لہجے میں جواب دیا جائے اور ضروری سفارتی تعلقات کے سوا باقی تمام سلسلے معطل کئے جائیں ۔ اس وقت ہمارے دفتر خارجہ کی یہ خواہش ہے کہ اسلام آباد میں اگلے ماہ منعقد ہونے والی افغانستان سے متعلق قلب ایشیاء کانفرنس (Heart of Asia Conference) میں بھارتی وزیر خارجہ شریک ہوں لیکن بھارتی رویے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو بس رسمی دعوت دینے پرہی اکتفا کیا جائے ۔ہم اگر سردست ہندوستان کے ساتھ معاملات کو تزویراتی وقفہ (Strategic pause) دے دیں تو بہتر ہوگا ۔ کشمیر اور دیگر ایشوز پر اپنا موقف برقرار رکھیں لیکن تو تو میں میں سے گریز کرکے اسی طرح مناسب وقت کا انتظار کریں جس طرح کہ چین نے ہانگ کانگ کے سلسلے میں کیا یا تائیوان کے سلسلے میں کررہا ہے۔ کبھی کرکٹ اور کبھی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کی ملاقاتوں پر ہمہ وقت میڈیا میں تو تو میں میں کا سلسلہ جاری رہے گا تو کسی وقت حکومتوں کے نہ چاہتےہوئے۔

میڈیا دونوں ملکوں کو جنگ کی طرف لے جاسکتا ہے۔ یہ جو وقفہ ہوگا اور جس کے طویل یا مختصر ہونے کا انحصار بھارتی رویے پر ہوگا ، کے دوران ہمیں داخلی محاذ کو یکسوئی کے ساتھ سنبھالنا چاہئے۔ دیگر علاقائی اور عالمی طاقتوں سے اپنے تعلقات کو بہتر بنانے پر تمام تر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ حقیقی معنوں میں ملک کے اندر انتہا پسندی کی ہر شکل کو ختم کرکے عالمی سطح پر اپنے امیج کو بہتر بنانا چاہئے۔

ہاں البتہ اس عرصے میں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کی طرف سے کوئی ایسی حرکت نہ ہو پائے کہ اسے ہندوستان پاکستان سے جوڑ سکے ۔ اس عرصے میں سرحدوں کو مکمل سیل رکھنا چاہئے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ نہ تو اجیت دوول کے فلسفے کے مطابق بھارتی کارندے پاکستان میں کارروائی کرسکیں اور نہ پاکستان سے کوئی بھارت میں کارروائی کے لئے جاسکے۔ اس سلسلے میں ہندوستان کو موقع ہاتھ آگیا تو وہ پاکستان کے اندر ہر طرح کے عدم استحکام کی کوشش کرے گا اور اگر پاکستان سے مداخلت کا کوئی بہانہ ہاتھ آگیا تو اسے وہ بری طرح پاکستان کے خلاف استعمال کرے گا اور ان دنوں عالمی سطح پر حالات بھی اس کے حق میں ہیں۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند