تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حسینہ واجد کے ایوارڈز
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 12 صفر 1437هـ - 25 نومبر 2015م KSA 12:01 - GMT 09:01
حسینہ واجد کے ایوارڈز

شیخ مجیب الرحمٰن کا انجام ہمارے سامنے ہے ۔انہیں پاکستان کی فوج نےنہیں، بنگالیوں نے مار ڈالا۔ محسوس ہوتا ہے کہ حسینہ واجد بھی اب باپ کے نقش قدم پر پاؤں رکھتی، اسی منزل کی طرف رواں دواں ہیں۔ کوئی جذبہ، مثبت ہو یا منفی ،حدود سے تجاوز کر جائے تو آدمی خود اس کا ایندھن بن جاتا ہے ۔

پوچھے ہے کیا وجود وعدم اہل شوق کا !
آپ اپنی آگ کے خس وخاشاک ہو گئے

قیادت کے باب میں ،برصغیر کے عوام بہت بد قسمت واقع ہوئے ہیں ۔تقسیم کے بعد ہر نئے آنے والے پہلے سے بدتر ۔ بھارت نہرو سے مودی آپہنچا ،پاکستان،قائداعظم سے آصف زرداری تک اور بنگلہ دیش مجیب الرحمٰن سے حسینہ واجد تک۔ماضی کے اسیر پست نظر لوگ جو ذات اور تعصب سے اوپر اٹھنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ یوں خود برباد ہوتے ہیں اور عوام کو بھی برباد کرتے ہیں۔ساری دنیا ماضی کو خیر باد کہتے ہوئے، مستقبل میں چھپے امکانات کی تلاش میں ہے ۔اس خطے پر ایسا آسیب کاسایہ ہے کہ کوئی ستر سال پہلے کے حادثے کو رو رہا ہے اور کوئی انیس سو اکہتر سے آگے نہیں بڑھ سکا ۔

حسینہ واجد کا مرض سنگین تر ہے۔ انیس سو چوہتر کے سہ فریقی معاہدے سے سب واقف ہیں ۔پاکستان، بھارت اوربنگلہ دیش نے یہ طے کر لیا تھا کہ گڑے مردے نہیں اکھاڑے جائیں گے ۔ماضی کو بھلا کر مستقبل کی طرف دیکھا جائے گا ۔ حسینہ واجد نے مگر اس سے انحراف کیا۔ دو ہزار نو میں انتقامی عمل کا آغاز کر دیا ۔شمشاد احمد اور سلمان بشیر جیسے سفارت کار اور احمر بلال صوفی جیسے قانون دان واضح کر رہے ہیں کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خالف ورزی ہے ۔یہی نہیں ،عدالتی کاروائی کے بارے میں بھی عالمی تنظیمیں یہ کہ چکی ہیں کہ یہ ایک ڈرامہ ہے جو عدالت کے ایوانوں میں رچایا جا رہا ہے ۔سکرپٹ میں پہلے سے لکھا ہے کہ کسے سزا ہونی ہے۔اس کاروائی کا اصل ہدف جماعت اسلامی ہے۔جماعت نے پاکستان کو متحد رکھنے کی کوشش کی تھی ۔ پروفیسر غلام علی سے لے کر علی احسان محمد مجاہد تک ،لوگوں نے اس کی قیمت ادا کی ۔ اب صلاح الدین قادر چوہدری بھی اس فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔

اس بات کی کوئی شہادت نہیں کہ ’’جنگی جرائم‘‘ کے خلاف مقدمات بنگلہ دیشی عوام کی خواہش ہے۔وہ نسل اب کم و بیش ختم ہوچکی ہے جو انیس سو ستر کی واقعات کی گواہ ہے۔اب معاملات اس نسل کو منتقل ہو چکے ہیں جو اس کے بعد پروان چڑھی ۔اس کے لیے یہ واقعات ماضی کی ایک داستان ہیں،ذاتی تجربہ نہیں ۔ پاکستان سے انہیں کوئی خاص محبت ہے، نہ نفرت۔ مجھے جب ایک بار بنگلہ دیش جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے وہاں کے بازاروں میں جاکر بطور خاص اس بات کو سمجھنا چاہا کہ ایک عام آدمی کا برتاؤ ایک پاکستانی کے ساتھ کیسا ہے؟ میرے ساتھ ملیشیا سے آئی ہوئی ایک مسلمان خاتون بھی تھیں۔ میں نے محسوس کیاکہ وہاں کا دوکاندار اور عام شہری دونوں کو ایک نظر سے دیکھ رہا ہے۔اس کے لیے ہم غیر ملکی گاہک تھے ۔ نہ مجھے پاکستانی سمجھتے ہوئے کسی التفات کا مظاہرہ کیا گیا ، نہ نفرت کا مستحق سمجھا گیا ۔

میرے ماموں ڈاکٹر ممتاز احمد بنگلہ دیش کو اپنا دوسرا گھر کہتے ہیں۔وہاں کے دینی مدارس اور اسلامی تحریکوں پر ان کی تحقیق بین الاقوامی شہرت رکھتی ہے۔ڈاکٹر صاحب وہاں کے ان گنت سفر کر چکے اور اس کے تمام اہم شہروں اور قابل ذکر قصبوں میں جا چکے ہیں۔ان کا تعلق اس نسل سے ہے جس نے'ڈھاکہ کو ڈوبتے دیکھا'۔ڈھاکہ روانہ ہونےسے پہلے ،میں نے ان سے پوچھا کہ مجھے وہاں کی کوئی خاص بات بتائیں۔انہوں نے کہا کہ فلاں محلے میں 'بابو کی بریانی' ملتی ہے جو شہربھر میں مشہور ہے۔تم اس دوکان پر ضرور جانا۔اس بریانی کا آغاز کراچی سے ہوا اور پھر اس کے ماہر ڈھاکہ منتقل ہوگئے۔میں وہاں گیا ۔بریانی کھائی۔اچھی لگی،مگر پاکستان کی کوئی خوشبونہ آئی ۔ میں نے وہاں بیٹھے آدمی کو اپنا تعارف کرایا تو اس کی آنکھوں میں آشنائی کی کوئی چمک نہ دیکھی ۔ اسی طرح نفرت بھی نہیں تھی ۔ دونوں جذبوں کا اگر میں تقابل کروں تو شاید محبت کا پلڑا بھاری ہو ۔ کہنا مجھے یہ ہے کہ حسینہ واجد کے دل میں پلنے والی نفرت کو عوامی جذبات سے کوئی غذا نہیں ملی ۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جماعت اسلامی آج بنگلہ دیش کہ ایک بڑی جماعت ہے۔وہاں کی پارلیمان کا حصہ رہی اور اس کے افراد کابینہ میں بھی رہے۔بنگلہ دیش پر اس کا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی دوسری جماعت کا ۔وہ متحد پاکستان کی حامی تھی لیکن جب یہ حادثہ ہو گیا تو اس نے اپنی توانائیاں بنگلہ دیش کو ایک جمہوری اور اسلامی ریاست بنانےکے لیے وقف کر دیں۔جمہوریت کے لیے اس کی جدوجہد اس بات کا اعلان تھا کہ وہ اپنے تصور ریاست کو بالجبر عوام پر مسلط نہیں کرنا چاہتی۔ وہ قومی دھارے میں ہمیشہ شامل رہی اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی جماعت کے ساتھ اس نے اتحاد بھی بنایا ،جو وہاں کی دوسری بڑٖی قوت ہے۔ یوں حسینہ واجد یہ سزا غیر ملکیوں کو نہیں ، بنگلہ دیش کے شہریوں کو دے رہی ہیں ۔

حسینہ واجد کا انتقامی جوش بنگلہ دیش کے امن کے لیے بھی خطرناک ہے۔دنیا کو اس بارے میں سوچنا ہوگا کہ جمو۔ریت پر یقین رکھنے والی قوتوں کا راستہ جب بالجبر روکا جاتا ہے تو اس سے فساد پیدا ہوتے ہیں۔آج اگر مشرق وسطیٰ میں داعش اور کل القاعدہ جیسی تنظیموں نے جنم لیا تو اس کا ایک بڑا سبب عوام کے جمہوری حقوق کی پامالی بھی تھا ۔مصر میں تیس سال حسنی مبارک مسلط رہے۔جب اتنے عرصے بعد عوام نے اپنا فیصلہ سنایا تو اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ۔عوام کا قتل عام ہوا اور پھر ایک نئی فوجی آمریت مسلط ہوگئی ۔ شام پربشارالاسد کا خاندان اکثریت کی تائید سے محروم سالوں سے اقتدار پرقابض ہے۔باپ نے صرف اپنے اقتدار کے لیےفروری انیس سو بیاسی میں اپنے بھائی کے ہاتھوں حماہ شہر کو تاراج کروایا اور چالیس ہزار افراد کو مار ڈالا۔

کوئی اس کی تفصیل جاننا چاہتا ہے تو آج بھی وکی پیڈیا پر (حماہ قتل عام) کے عنوان سے یہ خوں چکاں داستان پڑھ سکتا ہے۔بیٹے نے چار سالوں میں ساڑھے تین لاکھ شامیوں کو مروا دیا ،مگر اقتدار نہیں چھوڑا۔ اگر عوام کے جمہوری حقوق اس طرح پامال ہوں گے تو اس کا نتیجہ داعش یا القاعدہ کے سوا کیا ہو سکتا ہے؟ اگر دنیا چاہتی ہے کہ جنوبی ایشیا ،خاکم بدہن مشرق وسطیٰ کا نقشہ پیش نہ کرے تواسے حسینہ واجد اور مودی جیسوں سے اعلان براٗت کرنا ہوگا۔جو جمہوریت کے نہ ہونے اور انسانی حقوق کی پامالی پر پابندیاں عائد کرتے ہیں، کیا وہ مصر اور بنگلہ دیش کی طرف نگاہ اٹھائیں گے ؟ اگر نہیں،تو جان لیں کہ داعش کے خلاف ان کی حکمت عملی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔

پاکستان میں لوگ مضطرب ہیں ۔یہ قابل فہم ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے اسباب جو بھی تھے ،یہ ہے تو ایک زخم ہمارے دل پر لگا۔ کون ہے جو اس ملک کو دو لخت دیکھ سکتا ہےَ؟ قربانی صرف جماعت اسلامی نے دی لیکن یہ دکھ تو سب کا ہے۔ جماعت کے لوگوں نے پاکستان کا مقدمہ لڑا۔ قوم اس کو ووٹ نہ دے، لیکن اس کے تاریخی کردار کی تحسین تو کرے۔ بھارت کے اہل دانش نے، ریاست کے ایوارڈ واپس کرتے ہوئے، مودی سرکار کے خلاف اپنے احتجاج کو تاریخ کا حصہ بنا دیا۔ پاکستان کے کچھ دانشوروں کو بھی حسینہ واجد نے ایوارڈ دئیے تھے۔ کیا وہ ان کے مظالم پراحتجاج کرتے ہوئے، یہ ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کریں گے؟ یہ جماعت اسلامی نہیں، متحدہ پاکستان کا مقدمہ ہے۔ یہ انسانی حقوق کا مقدمہ ہے۔ بشکریہ روزنامہ 'دنیا'
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند