تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
المیئہ پیرس اور شیخ الازہر کا رد عمل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 13 صفر 1437هـ - 26 نومبر 2015م KSA 10:52 - GMT 07:52
المیئہ پیرس اور شیخ الازہر کا رد عمل

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دہشت گردی کی جو قیامت صغریٰ برپا ہوئی ہے اس نے ’’مشرق و مغرب‘‘ کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب ہر طرف خصوصاً مغرب میں اس پر شدید ردّ عمل سامنے آ رہا ہے۔ اسلامی دنیا بھی اس شدید ردّ عمل میں کسی سے پیچھے نہیں، عوامی اور سرکاری سطح پر ہر ایک نے شدید ترین الفاظ میں اس کی مذمت کی ہے اور ان مذمت کرنے والے مسلمانوں میں اسلامی دنیا کی قدیم ترین اور مشہور ترین یونیورسٹی جامعہ ازہر کے ریکٹر (شیخ الازہر) کا ردّ عمل ہماری توجہ کے قابل ہے، مصر کے آئین میں شیخ الازھر کا منصب مصر کے وزیر اعظم سے بڑا ہے اور پروٹوکول میں صرف مصری صدر کے بعد آتا ہے۔

اس وقت ریکٹر کے منصب پر فائز سکالر نہ صرف پاکستان کے دوست ہیں بلکہ اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں کئی سال پروفیسر رہے ہیں (میں ان کے ساتھ پی ایچ ڈی کے مقالات کا ممتحن رہا ہوں اور وہ میرے دوست بھی ہیں)۔ ان کا اسم گرامی ہے ڈاکٹر محمد احمد طیب۔ شیخ الازہر نے نام نہاد داعش کے اس اقدام کو انسانیت سوز اور خوفناک اسلام دشمنی قرار دیا ہے جس کا مقصد یورپ میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا ہے اور عراق و شام کے پناہ گزینوں پر دروازے بند کرنا ہے جو اسی داعش اور اس کے سامراجی سرپرستوں کی جنگی تباہی سے بچنے کے لیے پناہ کی تلاش میں ہیں۔الازہر یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر طیب صاحب کی یہ بات خصوصی توجہ کے قابل ہے کہ نام نہاد اسلامی ریاست داعش کی یہ دہشت گردی ایک بیماری ہے جسے مذہبی جنون کہتے ہیں اور اس کا سبب وہ مجرمانہ مالی امداد ہے جو مشرق و مغرب کے اسلام دشمن سامراجی دے رہے ہیں اس لیے مغرب کو اس دہشت گردی کے جواب میں دہشت گردی کرنے کے بجائے اس کے اسباب کو ختم کرنا چاہیے کیونکہ تشدد کو تشدد سے نہیں روکا جا سکتا۔ اس کے لیے مغرب اور اسلامی دنیا کا متعلقہ تعاون اور معقول و پرامن موقف درکار ہو گا۔

شیخ الازہر نے بڑے علماء کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اس قسم کے فساد اور دہشت گردی کی ہر گز اجازت نہیں دیتا بلکہ اسے ممنوع اور حرام قرار دیتا ہے کیونکہ یہ بیگناہوں کی جان لیتا ہے جو صریح ظلم ہے۔ اسلام تو عدل کا حکم دیتا ہے اور یہ عدل و انصاف ہی قیام امن کی ضمانت ہے۔ اسلام نہ تو تشدد سے پھیلا ہے اور نہ پھیلایا جا سکتا ہے، اسلام کی اشاعت تو امن و سکون سے ہوئی ہے اور اب بھی صرف شفقت و محبت کی فضا میں حسن اخلاق اور حکمت و نصیحت سے اس امن اور سلامتی کے دین کا پیغام عام ہو گا، جو لوگ تشدد اور دہشت گردی کرتے ہوئے اللہ اکبر کے نعرے بھی لگاتے ہیں وہ ناپاک زبان سے پاک الفاظ بول کر دنیا کو دھوکا دیتے اور اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔ یہ لوگ پیسہ لیکر ایسا کرتے ہیں اور اجرتی قاتلوں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے ان ظالمانہ اقدامات سے اسلام کو بدنام نہیں کرنا چاہیے۔ مغرب کے روشن خیال اور باضمیر انسانوں سے اپیل ہے کہ وہ اس کی ذمہ داری اسلام اور مسلمانوں پر ڈالتے ہوئے ان کے خلاف جنگ یا دہشت گردی نہ کریں۔

شیخ نے بجا طور پر کہا ہے کہ داعش یا دوسرے تشدد کرنے والے انتہا پسند ایک حقیر اقلیت ہیں جو اسلام کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور دنیائے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرکے ختم کرنا چاہتے ہیں اور یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ بعض سود خور گروہ حرام کا سرمایہ خرچ کرکے خود مسلمانوں کے ہاتھوں نہ صرف دنیا کے بیگناہوں کو قتل کرواتے ہیں بلکہ مسلمانوں کو بھی ان نہاد مسلمانوں سے ختم کروانے کے لیے کوشاں ہیں۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے نہایت معقول اور بر محل مطالبہ کیا ہے کہ ان دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے والوں کا پردہ چاک ہونا چاہیے تاکہ اصل حقیقت سے دنیا آگاہ ہو سکے کیونکہ جس بات سے اسلام منع کرتا ہے اس کا ارتکاب مسلمان نہیں کر سکتا،ضرور کوئی دشمن اسلام ہے جو حرام کے سرمایہ سے خود کش بمبار خریدنے کا موقع دیتے ہیں! خود مسلمانوں کے پاس تو نہ سرمایہ ہے اور نہ وہ حرام کی موت مرنے کے لئے بیگناہوں کا قتل عام کر سکتے ہیں۔ بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں!
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند