تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
دو ہزار روپے کا ایک تربوز !
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 18 صفر 1437هـ - 1 دسمبر 2015م KSA 13:06 - GMT 10:06
دو ہزار روپے کا ایک تربوز !

پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے لیے سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار لنگر لنگوٹ کسے ہوئے ہیں۔پہلے دو مرحلوں کی طرح الیکشن کمیشن تیسرے مرحلے میں بھی امیدواروں سے ضابطہِ اخلاق منوانے سے قاصر ہے۔ الیکشن کمیشن اس کام کے لیے سرکاری انتظامیہ کا محتاج ہے اور انتظامیہ کے لیے الیکشن کمیشن کی خواہشات سے زیادہ صوبوں میں برسرِ اقتدار جماعتوں کی خوشنودی اہم ہے۔

اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترامڑی چوک میں جب تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے ریلی منعقد کی تو خود الیکشن کمیشن نے اسے غیرقانونی اور ضابطہِ اخلاق کی اس شق کی پامالی قرار دیا جس کے تحت ارکانِ پارلیمان بلدیاتی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے۔مگر خان صاحب کے نزدیک یہ کوئی خلاف ورزی نہیں تھی۔ انھیں تو موجودہ الیکشن کمیشن پر بھی تحفظات ہیں تو اس کے مرتب کردہ ضابطہِ اخلاق کا احترام کیا معنی ؟ جب اسلام آباد انتظامیہ نے الیکشن کمیشن سے اس بابت ایکشن لینے کے لیے رہنمائی طلب کی تو الیکشن کمیشن نے واضح فیصلہ کرنے کے بجائے گرم آلو یہ کہتے ہوئے مقامی انتظامیہ کی جانب دوبارہ اچھال دیا کہ خود ہی دیکھ کے کوئی مناسب سی کارروائی کر لو۔چنانچہ کچھ بھی نہ ہوا۔

کراچی میں بھی ایم کیو ایم ، تحریکِ انصاف ، جماعتِ اسلامی ، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ارکانِ پارلیمان دھڑلے سے بلدیاتی انتخابی مہم میں شریک ہیں۔ایم کیو ایم کے کچھ پارلیمانی ارکان کے خلاف غیر قانونی ریلی نکالنے پر الیکشن ضابطہِ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کے بجائے مقامی انتظامی پابندیاں توڑنے پر مقدمات ضرور درج ہوئے لیکن دیگر جماعتوں کے ساتھ انتظامی رویہ بس یہ رہا کہ ’’ دیکھئے حضور جو آپ کر رہے ہیں یہ کسی طور مناسب نہیں۔اس سے دوسروں کو شہ ملے گی۔ہوسکے تو باز آ جائیے‘‘۔

کراچی کے ضلع شرقی کے ڈپٹی کمشنر آصف صدیقی نے البتہ الیکشن کمیشن کو یہ خط ضرور لکھا کہ عمران خان اور سراج الحق نے بطور ارکانِ پارلیمان انتخابی ریلیوں کی قیادت کر کے ضابطہِ اخلاق کی جو خلاف ورزی کی ہے اس پر ایکشن لیا جائے؟ جس انتظامیہ پر الیکشن کمیشن ضابطہِ اخلاق کے نفاذ کے لیے تکیہ کر رہا ہے اگر وہی ایسے بنیادی سوالات پوچھ لے تو کمیشن کیا جواب دے ؟اس بے چارے نے بلدیاتی انتخابات کے پہلے دو مرحلوں میں کیا کر لیا جو اب توقع ہے۔

اس تناظر میں وفاقی وزیرِ ریلوے اور برسرِ اقتدار مسلم لیگ ن کے جیالے رہنما خواجہ سعد رفیق کا یہ فرمودہ قابلِ توجہ ہے کہ بلدیاتی انتخابی ضابطہِ اخلاق کی بعض شقیں سیاسی آزادی کے حق سے متصادم ہیں۔میاں نواز شریف ، عمران خان اور سراج الحق پارلیمنٹیرین ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی پارٹیوں کے لیڈر بھی تو ہیں۔ان سے کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ووٹروں سے رابطہ نہ کریں۔لہذا الیکشن کمیشن ایسے قوانین نہ بنائے جن پر عمل نہ ہو سکے۔

سعد رفیق کا موقف عملی لحاظ سے اگرچہ زمینی حقائق کی بھرپور ترجمانی کرتاہے۔لیکن برسر اقتدار جماعت سے وابستگی اور ایک ذمے دار وفاقی وزیر ہونے کے ناتے وہ یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ الیکشن کمیشن کو ضابطہِ اخلاق مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاہم حکومت پابند ہے کہ خامیوں کے باوجود موجودہ ضابطہِ اخلاق پر نہ صرف خود عمل کرے بلکہ دوسروں سے بھی عمل کروانے کے لیے الیکشن کمیشن کی ہر طرح سے مدد کرے۔

سعد رفیق کے خیالات کتنے ہی حقیقی سہی لیکن انھیں کسوٹی مان لیا جائے تو پھر تو بہت سے مسئلے چٹکی بجاتے سلجھ سکتے ہیں۔جیسے آئین میں آرٹیکل چھ کی کیا ضرورت ہے جب عملاً لاگو ہی نہیں ہو سکتا۔قانون کی دفعہ تین سو دو کی کیا ضرورت ہے جب با اثر مجرم قصاص و دیت کا قانون توڑ مروڑ کے یا گواہوں کو خوفزدہ کر کے چھوٹ سکتے ہیں۔بینکنگ قوانین کی کیا ضرورت ہے جب اربوں روپے کے قرضے بیک ڈور سے رائٹ آف ہوجاتے ہیں۔امیگریشن قوانین کی کیا ضرورت ہے جب ہیومن اسمگلنگ پر ہی قابو نہیں پایا جا سکتا۔ جنگلاتی پابندیوں کی کیا ضرورت ہے جب غیر قانونی کٹائی روکنا ممکن نہیں۔بلڈنگ کوڈ کی کیا ضرورت ہے جب دھڑا دھڑ غیرقانونی تعمیرات نہیں روکی جاسکتیں۔لیبر قوانین کی کیا ضرورت ہے جب ان پر عمل درآمد ہی نہیں ہوسکتا۔ فہرست بڑھاتے چلے جائیں حتیٰ کہ بات وہاں تک پہنچ جائے کہ خود ریاست ہی کی کیا ضرورت ہے اگر وہ اپنے ہی اداروں کی انتظامی رٹ نافذ نہیں کروا سکتی۔

ہمارے قرب و جوار میں بھارت نامی ایک چھوٹا سا ملک بھی موجود ہے۔وہاں کے الیکشن کمیشن کے اختیارات ، الیکشن قوانین اور ضابطہِ اخلاق کا بنیادی ڈھانچہ کم و بیش وہی ہے جو پاکستان میں ہے۔لیکن بھارتی الیکشن کمیشن کے پاس ایسی کیا گیدڑ سنگھی ہے کہ اس کے کہے پر عمل درآمد ہو جاتا ہے اور کوئی چوں بھی نہیں کرتا۔

وہاں بھی الیکشن کمیشن کے قوانین کی پامالی ہوتی ہے ، وہاں بھی انتخابی اخراجات قانونی حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔ مگر سب کے دل میں دھڑکا سا بھی رہتا ہے کہ پکڑے گئے تو کوئی بچانے نہیں آئے گا۔لہذا بھارتی الیکشن کمیشن کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی جب وہ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کو حکم دیتا ہے کہ جس کسان کی کھڑی فصل پر تم نے اپنا انتخابی ہیلی کاپٹر اتار کے فصل برباد کی اب اس کا نقصان بھی بھرو یا مقدمے کا سامنا کرو۔

جب بی جے پی کا امیدوار ورون گاندھی ایک انتخابی ریلی کے دوران جوشِ خطابت میں مسلمانوں کے ہاتھ کاٹ ڈالنے کی دھمکی دیتا ہے تو الیکشن کمیشن کو بھی معلوم ہے کہ ورون اندرا گاندھی کا نواسا ہے پھر بھی اسے جیل بھیجا جاتا ہے جب تک وہ الفاظ واپس لے کر معذرت نہ لکھے۔کوئی امیدوار لوک سبھا کے الیکشن میں کھڑا ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ محکمہ انکم ٹیکس کا تازہ سرٹیفکیٹ الیکشن افسر کو جمع نہ کروائے۔

پاکستان میں قومی اسمبلی کے انتخابی اخراجات کی حد پندرہ لاکھ اور صوبائی اسمبلی کے انتخابی اخراجات کی حد دس لاکھ روپے مقرر ہے۔تاہم انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے مہنگائی کے تناسب سے اخراجات کی حد علی الترتیب تیس لاکھ اور بیس لاکھ مقرر کرنے کی سفارش کی ہے اور قوی امید ہے کہ اگلے عام انتخابات میں اخراجات کی حد یہی ٹھہرے گی۔

بھارت میں الیکشن کمیشن نے اگلے عام انتخابات کے لیے لوک سبھا کے امیدوار کے لیے انتخابی اخراجات کی حد چالیس لاکھ سے بڑھا کے ستر لاکھ روپے اور ریاستی اسمبلی کے امیدوار کے لیے سولہ لاکھ سے بڑھا کر اٹھائیس لاکھ کر دی ہے۔لیکن سب جانتے ہیں کہ دونوں ممالک میں امیدواروں کا حقیقی خرچہ کہیں زیادہ ہوتا ہے۔طے شدہ حد سے اوپر جتنا خرچہ ہوتا ہے وہ بظاہر مخیر حامیوں کے ’’چندے‘‘ سمیت کئی طریقوں سے دکھایا جاتا ہے۔دونوں ممالک میں الیکشن کمیشن کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہر کامیاب امیدوار کی پیش کردہ اخراجاتی رسیدوں اور داخل کیے جانے والے حلف نامے کی روشنی میں حقیقی مالیاتی چھان پھٹک کر سکے۔عموماً امیدوار کے دعوے کو ہی تھوڑی بہت رد و کد کے بعد درست مان لیا جاتا ہے۔اس معاملے میں امریکا اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کی الیکشن اتھارٹیز بھی مروت دکھانے پر مجبور ہیں کیونکہ امیدواروں کے پاس حقیقی اخراجات پوشیدہ رکھنے کے بیسیوں راستے ہیں۔

البتہ اتنا فرق ضرور ہے کہ جب ریاست کرناٹک کے ایک ریاستی حلقے میں ایک امیدوار نے بڑھے ہوئے انتخابی اخراجات میں کالے دھن کو سفید دکھانے کے لیے یہ ترکیب لڑائی کہ ایک تربوز والے سے دو ہزار روپے فی تربوز کے حساب سے سارا اسٹاک خرید لیا تو مخالف امیدوار کی شکایت پر ریاستی الیکشن کمیشن نے تربوز والے کو طلب کر کے پوچھ لیا کہ اتنا مہنگا دنیا کے کس کونے سے امپورٹ کیا رسیدیں لے آؤ۔جب تربوز والے نے جان بچانے کے لیے سچ اگل دیا تو امیدوار کو چار گنا جرمانہ بھر کے نا اہل بھی ہونا پڑا۔

پاکستان میں کوئی جیتا ہوا امیدوار مقررہ حد سے زائد انتخابی اخراجات کی پاداش میں نااہل ہوا ہو تو میرے علم میں ضرور اضافہ کیجیے گا۔کیا یہی غنیمت نہیں کہ جیسا کیسا سہی انتخابی کاروبار چل تو رہا ہے۔وہ جو کہتے ہیں کہ جیسا منہ ویسی چپیڑ۔۔ بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند