تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی پاکستان کے نقش قدم پر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 19 صفر 1437هـ - 2 دسمبر 2015م KSA 08:54 - GMT 05:54
ترکی پاکستان کے نقش قدم پر

پچھلے ہفتے ترکی نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے ایک روسی جنگی جہاز مار گرایا۔ روس نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترکی پر معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی شام کی خانہ جنگی میں دن بدن ویسے ہی پھنستا جا رہا ہے جیسے افغانستان میں پاکستان پھنسا تھا۔ ترکی اسی طرح دمشق مخالف مسلح گروہوں کی پشت پناہی کر رہا ہے جیسے پاکستان نے امریکہ کے ایما پر مجاہدین کی مدد کی تھی۔ ترکی پاکستان کی طرح دہشت گردی کا شکار ہو سکتا ہے اور اس کے معاشی ترقی کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔

سب سے پہلے سوال پیدا ہوتا ہے کہ ترکی نے روسی جنگی طیارہ کیوں گرایا؟ ترکی کا دعویٰ ہے کہ روسی بمبار طیاروں نے کچھ سیکنڈوں تک اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ ترکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے روسی بمبار وں کو گرانے سے پہلے وارننگ دی تھی۔ روس ان دعوئوں کی تردید کرتا ہے اور اس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے اسے پشت میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ روس نے ترکی سے معاشی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے ترک معیشت کو کافی دھچکا لگ سکتا ہے۔ اگرچہ اس معاشی جنگ میں روس کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن ترکی کے مخصوص شعبوں اور علاقوں میں اس کے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ ترکی کے شامی خانہ جنگی میں روس کے مخالف موقف اور پاکستان کی افغان معاملات میں مداخلت ، دونوں میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ اگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی اس دلیل کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ہم نے افغانستان میں دنیا کی ایک سپر پاور کو دھول چٹوا دی تب بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے اس کی خود کتنی قیمت چکائی ہے: پاکستان معاشی ترقی میں اپنے بڑے حریف ہندوستان سے کئی دہائیاں پیچھے رہ گیا ہے۔ روسی جہاز کے گرائے جانے کے احوال سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ترکی پہلے سے ہی اس تاک میں تھا وگرنہ چند سیکنڈوں کی خلاف ورزی کو نظرانداز کیا جا سکتا تھا۔ بنیادی طور پر ترکی کو غصہ یہ تھا کہ روسی جہاز ان گروپوں کے خلاف بمباری کر رہے ہیں جن کو وہ بشارالاسد کی حکومت گرانے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ امریکہ کی طرح ترکی بھی ہر قیمت پر بشار الاسد کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔

دوسری طرف روس، ایران اور لبنان کی حزب اللہ اسد حکومت کو ہر قیمت پر قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ روس نے اس مقصد کے لئے اپنی ہوائی طاقت کا استعمال شروع کر رکھا ہے۔ روس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ دہشتگرد داعش کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے جبکہ امریکہ ترکی اور نیٹو ممالک روس پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ داعش کی بجائے ان معتدل گروپوں کے خلاف بمباری کر رہا ہے جو اسد حکومت کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ ترکی نے روسی جہاز اپنے حمایت یافتہ اسد دشمن گروہوں کو محفوظ کرنے کے لئے گرایا ہے۔ اس کے شدید ردعمل کے طور پر روس نے فضائی میزائل شامی اڈوں پر نصب کر دئیے ہیں۔ یہ فضائی میزائل ترکی کی حدود میں اس کے جہازوں کو گرا سکتے ہیں۔

ترکی نیٹو کا ممبر ملک ہے۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ روسی جہاز کو گرانے کے پس پردہ ترکی کی یہ چال بھی ہے کہ وہ نیٹو کو روس کے خلاف متحرک کر سکے۔ نیٹو ممالک پہلے ہی روس کی یوکرین میں در اندازی کے خلاف نبرد آزما ہیں ۔ نیٹو اور امریکہ نے ترکی کی برملا حمایت کی ہے۔ اسی لئے بعض مبصرین روسی جہاز کے گرائے جانے کو تیسری عالمی جنگ کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔ اگر روس کے خلاف نیٹو اور امریکی اتحاد شام کی خانہ جنگی میں ترکی کے حق میں متحرک ہوتا ہے تو نقصان ترکی کا ہی ہو گا کیونکہ ہاتھیوں کی لڑائی میں بربادی گھاس کی ہی ہوتی ہے۔ ترکی کا ایک بہت بڑا مسئلہ اس کے کرد علاقے ہیں جو طویل عرصے سے علیحدگی کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں۔ شام کے کرد جنگوئوں نے امریکہ کی مدد سے داعش کو بہت بڑے علاقے سے نکال کر اپنی حکومت قائم کر لی ہے۔ اگر شام میں کردوں کو مزید کامیابیاں ملتی ہیں تو ترکی کے کرد علاقوں میں گڑ بڑ بڑھ سکتی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ روس اب ترکی کے اندر کرد بغاوت کی اعانت کرنا شروع کر دے گا جس سے ترکی کے لئے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ یہ بھی پاکستان کے بلوچستان میں بغاوت سے مماثلت رکھتا ہے: ہندوستان اور افغانستان بلوچ باغیوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ غرضیکہ شامی خانہ جنگی میں ترکی کا وہی کردار بنتا جا رہا ہے جو پاکستان کا افغانستان میں تھا۔

بے انتہا نقصان کے بعد پاکستان کے بعض حلقوں میں اب یہ سوال پیدا ہونا شروع ہوا ہے کہ اس کی ترجیحات درست نہیں تھیں۔ پاکستان افغانستان کی خانہ جنگی میں کودنے کی وجہ سے خود دہشت گردی کا شکار ہوا ہے۔ ترکی میں بھی ابھی تک اکا دکا خود کش بمباری کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اگر ترکی شام کی خانہ جنگی میں آگے بڑھتا گیا تو آخر میں اسے ویسی ہی صورت حال کا سامنا ہو گا جو پاکستان کو درپیش رہی ہے۔ اگر اسد حکومت کا خاتمہ ہو بھی جاتا ہے (جیسا کہ کابل کی کمیونسٹ حکومت کا ہوا تھا) تو اس سے ترکی کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھ سکتے ہیں: امریکہ اور نیٹو ممالک تو بوریا بستر لپیٹ کر چلے جائیں گے اور ترکی کو ویسے ہی نامساعد حالات کا سامنا ہو گا جیسا کہ پاکستان کو افغان جنگ کے نتیجے میں ہوا۔ بشکریہ روزنامہ "جنگ"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند