تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پیرس کا اداس ایفل ٹاور
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 28 جمادی الاول 1441هـ - 24 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 20 صفر 1437هـ - 3 دسمبر 2015م KSA 07:43 - GMT 04:43
پیرس کا اداس ایفل ٹاور

آج اداس ایفل ٹاور کے سائے سے نکل کر خون میں نہائی شانزے لیزے کا رخ کرتا ہوں۔ یہ دنیا کی مقبول ترین سڑک حسرت بھری نگاہوں سے اپنے سیاحوں کی منتظر دکھائی دیتی ہے جو دن رات، سردی گرمی کی پروا کئے بغیر شانزے لیزے کے دونوں طرف بنے چوڑے فٹ پاتھوں پر چہل قدمی کرکے اس سڑک کی خوبصورتی کو جلا بخشتے تھے۔ پوری دنیا میں اپنی خوشبو اور فیشن کی وجہ سے مشہور شانزے لیزے کے دونوںاطراف مقبول برانڈز کی دکانیں تو کھلی ہوئی ہیں مگر خریدا ر غائب ہیں۔ اسی سڑک کے بارے میں سیاح کہتے ہیں کہ فیشن اور خوشبو کا دنیا میں آغاز اور اختتام اسی سڑک پر ہوتا ہے۔ ایک طرف ایفل ٹاورکی روشنیاں مدھم ہوچکی ہیں تو دوسری طرف خوشبوؤں کی سڑک شانزے لیزے بھی ویران دکھائی دیتی ہے۔ آج پیرس حملوں کو دو ہفتے کا عرصہ بیت چکا ہے مگر دنیا بھر کے سیاحوں کو بدلا ہوا پیرس نظرآرہا ہے۔ ہر طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکورٹی فورسز کے حصار محفوظ پیرس کے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگانے کے لئے کافی ہیں۔ آج بھی پیرس کے لوگوں میں عجیب سا خوف طاری ہے۔عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ پیرس میں حالیہ دہشت گردی دوسری جنگ عظیم کے بعد گزشتہ 70سالہ تاریخ کا سب سے ہولناک واقعہ ہے۔

استنبول کے بعد اپنی منفرد ثقافتی حیثیت کی وجہ سے مشہور پیرس آج خطرے میں دکھائی دے رہا ہے۔ پیرس کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دس ہزار سال پرانے اس شہر کو پارسیوں نے آباد کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ دنیا کا اہم ترین شہر بن گیا۔ دریائے سین کے کنارے پر واقع پیرس یورپ کے ان چند شہروں میں سے ایک ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران کسی بڑی تباہی سے محفوظ رہے تھے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ جب جرمن فوجیں فرانس میں داخل ہوئیں تو اس وقت کے مئیر آف پیرس نے فورا ہی شہر کی تمام علامتی کنجیاں جرمن ارباب و اختیار کے حوالے کردیں اور ان سے ہاتھ جوڑ کر تاریخی جملہ کہا تھا کہ: میرا اقتدار لے لیں مگر میرے شہر کی تاریخ کو تباہ مت کریں۔ دراصل پیرس کا امن ہی پیرس کی ترقی کی ضمانت تھا۔ اگر یورپ کا سب سے قدیم شہر پیرس مغرب کا معاشی گڑھ سمجھا جاتا تھا تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں آنے والے سیاح تھے۔ جو اس شہر کو محفوظ سمجھ کر اس کا رخ کیا کرتے تھے۔ مگر آج انہی کے منہ موڑنے سے اس شہر کا تشخص خطرے میں پڑا ہوا ہے۔ ماضی میں پیرس قیام کے دوران’’ہمہ یاران پیرس‘‘کے عنوان سے کالم لکھا تھا۔ قارئین کی یادداشت کے لئے اس کالم کی چند سطور دوبارہ تحریر کررہا ہوں۔ ’’اگر آج شانزے لیزے پر روزانہ لاکھوں سیاح خریداری اور گھومنے کے لئے آتے ہیں تو اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ اس شہر میں قانون کی حکمرانی ہے۔ دنیا بھر کے برانڈز کی مقبول چینز اس گلی میں آپ کو ملیں گی تو اس کی وجہ صرف امن ہے۔ کسی کو یہ خطرہ نہیں ہے کہ کوئی مسلح شخص مجھ سے گاڑی چھین لے گا یا میری دھن دولت دیکھ کر اغوا کرنے کی کوشش کرے گا۔ ہر شخص ان باتوں سے بے نیاز اپنی مستی میں مست نظر آتا ہے‘‘مگر آج ایسا نہیں ہے۔ جو کچھ اس طالبعلم نے لکھا تھا آج سچ ثابت ہوگیا ہے۔ پیرس کے آقاؤں کی جانب سے امن کی ضمانت نہ ملنے کی وجہ سے ہی سیاح پیرس سے روٹھ رہے ہیں۔ نومبر کے مہینے میں ہونے والی بدترین دہشت گردی کے بعد موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہونے والی حالیہ کانفرنس کا انعقاد فرانس کی حکومت کے لئے ایک کڑا امتحان تھا۔ مگر پیرس کی ضلعی حکومت نے پورے شہر کو سیل کر کے 155 ممالک کے سربراہان کو دارالحکومت میں اکٹھا تو کرلیا مگر فرانس کی تاریخ میں پہلی بار تھا کہ پیرس اور گرد و نواح کے شہر اور ان سے منسلک شاہرائیں مکمل طور پر سیل کردی گئی تھیں۔ کچھ مخصوص سڑکوں کو کھولا گیا تھا مگر ٹریفک کے غیر معمولی دباؤ کی وجہ سے وہ بھی دو دن تک مکمل بند ہوکر رہ گئیں۔ بٹکلان تھیٹر سمیت تمام اہم مقامات پر فوجی دستوں کا گشت یہ بتانے کے لئے کافی تھا کہ حالات کس قدر سنجیدہ ہیں۔ شانزے لیزے، اوپارہ سمیت پیرس کا کوئی بھی شاپنگ مال ایسا نہیں تھا جہاں پر خریداری کے لئے آنے والے لوگوں کی جامہ تلاشی نہ لی جارہی ہو۔ سڑک پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پٹرولنگ اور ناکے دیکھ کر دنیا بھر سے آنے والے سیاح سکتے میں دکھائی دے رہے تھے۔ تمام تفریحی مقامات پر کم سے کم جانے کی ہدایات دی جارہی تھیں۔ بہرحال مختصر یہ کہا جاسکتا ہے کہ پر امن ترین شہر میں ایمرجنسی کی سی صورتحال ہے۔شاید کہ مجھ سمیت پاکستان میں رہنے والے قارئین کے لئے تمام بالا صورتحال کوئی اچھنبے کی بات نہ ہو مگر پیرس کے باسیوں اور یہاں آنے والوں کے لئے حالیہ صورتحال کسی دھچکے سے کم نہیں ہے۔ پورے شہر میں ایمرجنسی نافذ کر کے فرانس نے عالمی موسمیاتی کانفرنس کا پرامن انعقاد تو یقینی بنالیا لیکن اگر مستقبل میں بھی یہی حکمت عملی رہی تو فرانس سمیت پورے یورپ کا معاشی گڑھ سمجھےجانے والے پیرس کا کیا ہوگا؟ پیرس کی معیشت کا بڑا انحصارسیاحت سے جڑا ہے۔کیا ایسی صورتحال میں سیاح اس شہر کارخ کریں گے؟

پیرس میں حالیہ قیام کے دوران جہاں پر بٹکلان سمیت متعدد تھیٹرز میں مرنے والے انسانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ان مقامات پر جانے کا اتفاق ہواوہیں فرانسیسی حکومت کی شام کے حوالے سے حکمت عملی کے خلاف عرب ممالک کے لوگوں کی طرف سے نکالے جانے والے مظاہروں میں بھی شرکت کی۔اس عاجز کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ دنیا میں جہاں بھی انسانوں پر ظلم کیا جائے ۔ہمیں بطور مسلمان اس کی مذمت کرنی چاہئے۔ ہمارا مذہب ہمیں کبھی کسی انسان پر اس لئے ظلم کرنے کی اجازت نہیں دیتا کہ ان کی حکومت ہمیں نقصان پہنچا رہی ہے۔شام کے حوالے سے فرانسیسی حکومت کی پالیسیاں شرمناک ہیں۔فرانس کی یہی حکمت عملی ان کے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کررہی ہے۔ شام میں نہتے مظلوم لوگوں پر بمباری بالآخر پیرس کے امن کو بھی گہنا دے گی۔ اگر ناحق لوگ شام میں مریں گے تو اس کا اثر براہ راست پیرس کے امن پر بھی پڑے گا۔ پیرس کا امن متاثر کرنے میں جتنا کردار دہشت گردوں کا ہے اس سے زیادہ آپ کی پالیسیوں کا بھی ہے۔ فرانس کے ارباب و اختیار اگر چاہتے ہیں کہ آ ج اداس نظر آنے والا ایفل ٹاور ہمیشہ کے لئے اداس نہ ہو اور شانزے لیزے سمیت پیرس کی کوئی بھی شاہراہ دوبارہ خون میں نہ نہائے تو براہ کرم اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند