تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فیس بک بیٹی…!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 21 صفر 1437هـ - 4 دسمبر 2015م KSA 10:00 - GMT 07:00
فیس بک بیٹی…!

واہ…! کیا شان ہے اس بیٹی کی جس کی پیدائش پر اس کے ماں باپ نے اپنی دولت کا 99 فیصد شیئرز خدمت خلق کے لئے وقف کرنے کا اعلان کیا۔ انٹر نیٹ کے سوشل میڈیا المعروف فیس بک کے بانی کی بیٹی کی پیدائش پر اس حیران کن اعلان نے پوری دنیا میں دھوم مچا دی ہے۔ فیس بک کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ اور اس کی اہلیہ پریسیلا چن نے اپنی بیٹی کی پیدائش پر فیس بک پر اپنے 99 فیصد شیئر عطیہ کرنے کا اعلان کر کے نہ صرف بیٹی کی پیدائش پر اظہار تشکر کیا ہے بلکہ بیٹی کی پیدائش کو ویلکم نہ کرنے والے بد نصیب لوگوں کے منہ پر طمانچہ بھی رسید کیا ہے۔ بیٹی میکس کی پیدائش کی خوشی میں عطیہ کیئے جانے والے شیئرز کی مالیت 45 ارب ڈالر ہے اور یہ اعلان اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ دنیا میں کسی بھی ادارے کی جانب سے خیرات میں دی جانے والی یہ سب سے بڑی رقوم میں شمار ہوتی ہے۔ فیس بک کے بانی31 سالہ مارک زکر برگ کا تعلق نیویارک سے ہے اورقیام کیلی فورنیا میں ہے۔ تین سال قبل چینی نژاد امریکن ڈاکٹر سے شادی کی۔ اہلیہ ڈاکٹر پریسیلا چن کا تعلق تارکین وطن پناہ گزین خاندان سے ہے۔غریب خاندان کی اس ذہین اور محنتی لڑکی نے ہارورڈ یونیورسٹی سے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی، دوران تعلیم اس کی ملاقات مارک سے ہوئی۔ دس سال کی ملاقاتوں کے بعد شادی کا ارادہ کر لیا۔ مارک کی کامیابی کے پیچھے اس کی ذہین، محنتی اور مضبوط شخصیت والی بیوی کا ہاتھ ہے۔ مارک کی بیوی زمانہ طالبعلمی سے ہی رفاعی خدمات میں سرگرم تھی، پھر اس نے ایک تنظیم بنائی اور آج میاں بیوی نے اس تنظیم کے حوالے سے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس فیصلے کے پیچھے بھی مارک کی اہلیہ کی خواہش کارفرما ہے۔ یہ امریکی جوڑا اس سے پہلے بھی انسانی ہمدردی کے کاموں پر 1.6 روپیہ عطیہ کر چکے ہیں۔ مارک برگ ہاروڈ یونیورسٹی میں کمپیوٹر سافٹ ویئر کا طالب علم تھا۔ دوران تعلیم اس نے اپنے چند روم میٹس کے ساتھ مل کر ہاروڈ یونیورسٹی کا سوشل نیٹ ورک تیار کیا جو سٹوڈنٹس میں بہت مقبول ہوا اور یوں مارک برگ کا یہ کامیاب آئیڈیا ساری دنیا کو ایک کمرے میں بند کرنے یعنی فیس بک بنانے میں مددگار ثابت ہوا۔ اور 2007 میں 23 سالہ مارک فیس بک کے بانی کی حیثیت سے دنیا کا امیر ترین شخص بن کر ابھرا۔ بیٹی کی پیدائش پر دل کھول کر خیرات کرنے والے یہ ماں باپ خدا کے شکر گزار ہیں کہ اس نے انہیں انمول نعمت سے نوازا۔ اگر اس تحفہ کا اعلان لڑکے کی پیدائش پر کیا جاتا تو سب سے پہلے پاکستانی معاشرے سے تنقید سنائی دیتی کہ’’دیکھو جی گورے بھی لڑکے کی پیدائش کا جشن مناتے ہیں‘‘ اور پنجاب خاص طور پر دیہی علاقوں سے یہ جملہ متوقع تھا ’’گوروں کو دھی پتر کی پیدائش سے کیا فرق پڑتا ہے، نہ دھی کا رشتہ ڈھونڈنے کی خواری، نہ اس کی عمر ڈھلنے کا خوف، نہ عزت و آبرو جانے کا ڈر، ان کے لیئے دھی پتر برابر ہیں‘ ایک یادو بچے پیدا کرتے ہیں، ہم دیکھتے اگر اتنی دولت تیسری یا چوتھی بیٹی کی پیدائش پر عطیہ کرتے۔" یہ انداز تنقید برصغیر پاک و ہند کا مقبول کلچر ہے۔ کسی کی اچھی بات کو بھی حسد اور منفی انداز سے دیکھا جاتا ہے اور کوئی نہ کوئی قابل اعتراٖض نقطہ نکال لیا جاتا ہے۔ جبکہ ایسا ہرگز نہیں، انسان خواہ گورا ہو، کالا یا بادامی رنگ والا، ہر انسان بیٹے کی خواہش رکھتا ہے۔ پوری دنیا میں ماں اور باپ کے جذبات فطری ہیں۔ بیٹی اور بیٹا دونوں طرح کے کھلونے چاہتے ہیں البتہ مغرب میں بیٹیوں کی پیدائش پر نہ عورت کو طلاق دی جاتی ہے اور نہ بیٹیوں کو بوجھ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ’’جہیز یا رشتہ‘‘ نہیں بلکہ شعور ہے۔ ہر پڑھا لکھا انسان جانتا ہے کہ بیٹی پیدا کرنے میں عورت کا عمل دخل نہیں اور خوشی و تکلیف دونوں اولاد کی ایک جیسی محسوس ہوتی ہے۔ بیٹی ہو یا بیٹا ماں باپ دونوں کو ہنستا بستا آباد اور خوش و خرم دیکھناچاہتے ہیں۔ دونوں کو تعلیم میں اعلیٰ اور برتر دیکھنے کے متمنی ہیں۔رہا نسل چلانے کا تعلق تو نبی پاک ﷺ کی نسل بیٹی سے آگے چلی۔ اس ملک امریکہ میں بھی داماد اور بہو کے ایشوز عام ہیں۔ ایک ساس سے کسی نے پوچھا کہ ’داماد کی آئو بھگت زیادہ کیوں کی جاتی ہے ؟ ساس نے جواب دیا ’کیوں کہ اس کے گھر کا طوفان داماد نے سنبھال رکھا ہے‘‘۔ ہر ماں کو اپنی اولاد کی عادات اور فطرت کا بخوبی علم ہوتا ہے۔بیٹی کو شادی کے لڈو میں لپیٹ کر بیگانے گھر رخصت کر دیتی ہیں، اس کے بعد داماد جانے اور اس کانصیب۔ شکوہ شکایت کرے تو لڑکی کی ماں کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ ’’ہماری بیٹی شادی سے پہلے تو ایسی نہ تھی ‘‘۔ اور ادھر لڑکے کے ماں باپ سر پیٹ رہے ہوتے ہیں کہ ’’ ہمارا بیٹا بھی پہلے ایسا نہ تھا ‘‘۔ ماں باپ نام ہی پردہ پوشی کا ہے۔لڑکا ہو یا لڑکی، والدین کو پردہ پوشی کرنا پڑتی ہے بلکہ ماں تو بچوں کے سگے باپ سے بھی اولاد کی کمزوریاں چھپاتی ہے۔ جب ایشوز میں لڑکا اور لڑکی کے تمام معاملات ایک جیسے ہیں تو پھر پیدائش پر اظہار تشکر میں ڈنڈی کیوں ماری جاتی ہے ؟ بیٹی خواہ پہلی ہو یا چوتھی، چہروں پر نحوست لانے سے خدا کے نافرمان بننے سے گریز کیا جائے۔ بیٹا ہو یا بیٹی اظہار تشکر ضروری ہے کہ اس ذات پاک نے صاحب اولاد تو بنایا۔ تندرست بچہ کی پیدائش بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔ معذور لڑکے سے صحت مند خواہ دسویں لڑکی پیدا ہو جائے سجدہ شکر ادا کرنا چاہیے۔رہا رشتہ، شادی، نصیب، مقدر، تو یہ سب پروردگار کے پاس راز ہے، لڑکے کی نافرمانی بھی اتنی ہی تکلیف دہ ہے جتنا صدمہ لڑکی کی گمراہی سے ہوتا ہے۔’’فیس بک بیٹی‘‘ کی پیدائش پر والدین کا اظہار تشکر ان لوگوں کے لیئے اچھی خبر ہے جن کے فیس بیٹی کی پیدائش کی خبر سے بگڑ جاتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند