تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تاج برطانیہ اور پاکستان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 23 صفر 1437هـ - 6 دسمبر 2015م KSA 11:25 - GMT 08:25
تاج برطانیہ اور پاکستان

فارمولے نافذ کرنے والے برطانوی ہمیشہ دنیا کے جس خطے میں گئے وہاں برطانوی سامراجیت کی یادیں ضرور چھوڑ کر آئے ہیں۔ برصغیر میں جب انہوں نے قدم رکھا تو مغل سلطنت کا تختہ الٹ کر چند ہی سالوں میں متحدہ ہندوستان کے حاکم بن گئے۔ 90 سال کے طویل عرصے تک تاج برطانیہ برصغیر پر حکمرانی کرتا رہا ،اس عرصے میں برطانوی سامراج نے ہمیں وہ نظام دیا جو آج تک ہم لے کر چل رہے ہیں۔ پاکستان و ہندوستان کی سول سروس کا مکمل ڈھانچہ ہو ،دونوں ملکوں میں موجود اعلیٰ عدلیہ کا اسٹرکچر یا پھر تعزیرات پاکستان، سب کچھ وہی چلتا آ رہا ہے جو گورے ہمیں ورثے میں دے کر گئے۔ یہ درست ہے کہ برطانوی سامراج کے انڈیا اور پاکستان کو دئیے گئے کچھ تحفے قابل تعریف ہیں جو آج بھی ریاست کا نظام و انصرام چلانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ جن میں ایک سول سروس بھی ہے۔

ایک دفعہ ولب بھائی پٹیل نے جواہرلال نہرو سے کہا کہ آپ ہندوستان میں اتنی اصلاحات لے کر آئے ہیں آپ سے گزارش ہے کہ سول سروس کو بھی ختم کر دیں ،یہ ہمیں برطانوی سامراج کی یاد دلاتی ہے۔ نہرو مسکرائے اور کہنے لگے کہ میں سول سروس کو ختم نہیں کر سکتا کیونکہ یہ قوم کا سرمایہ اور ریاست کا نظام چلانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے وہ کیا ہے جو میں نہیں کر سکا۔ (نہرو نے سی ایس ایس کا امتحان دیا تھا مگر فیل ہو گئے تھے)۔ تو یوں کچھ اچھی یادیں بھی ہیں مگر مجموعی طور پر تاج برطانیہ کا کردار برصغیر میں کچھ خاص اچھا نہیں رہا۔ برطانوی آقاؤں کی وجہ سے ہی برصغیر میں لوگوں کی بڑی تعداد بھوک سے ہلاک ہو گئی تھی۔ 1877-78 دکن ،ہندوستان کے قحط میں 29ملین افراد صرف اسلئے ہلاک ہوئے تھے کہ ہندوستان میں غلہ ہونے کے باجود برطانوی وائسرائے نے حکم صادر کیا تھا کہ غلہ برطانیہ برآمد کیا جائے۔ اس کے بعد بچ جانے والے فاقہ زدہ کسانوں سے پچھلے سالوں کا ٹیکس وصول کر کے ان کو مالی طور پر بھی کنگال کر دیا گیا تھا۔

شاید تاج برطانیہ کی انہی بے رحمانہ پالیسیوں کی وجہ سے سلطنت برطانیہ اپنی وسعت کے اعتبار سے تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت شمار کی جاتی تھی۔ ایک لمبے عرصے تک برطانیہ کا دنیا پر راج رہا اور یہ عالمی طاقت کے طور پر دنیا کے نقشے پر قائم رہی۔1921 میں اپنی طاقت اور وسعت کی انتہا پر یہ 33 ملین مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی تھی اور اس کے زیر نگیں 45 کروڑ 80 لاکھ لوگ تھے۔ جو کہ اس وقت تک عالمی آبادی کا ایک چوتھائی شمار کئے جاتے تھے۔ یہ دنیا کے پانچوں آباد براعظموں پر موجود تھی۔ اور اس کے لئے کہا جاتا تھا کہ سلطنت برطانیہ پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ سلطنت برطانیہ کے اقتدار کی شروعات آئرلینڈ میں 1541سے ہوئی۔1607میں امریکہ میں جیمز ٹاؤن پہلی انگریز آبادی تھی۔1707میں اسکاٹ لینڈ اور نگلستان متحد ہوئے۔ برطانوی نوآبادیاں جنوبی امریکہ، افریقہ، ایشیا، شمالی امریکہ اور آسٹریلیا تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اسی عرصے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی آزادی اور سلطنت برطانیہ سے علیحدگی ایک علاقائی نقصان تو تھا لیکن تجارتی اور معاشی تعلقات بدستور استوار رہے۔

برطانوی سامراج کی وسعت کی بات کی جائے تو اس میں سب سے اہم کردار برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ادا کیا۔ اسکی ابتداء 1600میں ملکہ الزبتھ اول کے دور میں بحیثیت ایک تجارتی کمپنی سے ہوئی۔ اس کا مقصد ہندوستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا تھا۔ مغل سلطنت کی جڑیں کاٹنے میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مغل سلطنت کی زبوں حالی کے بعد طاقت کے خلا کو اسی ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورا کیا ۔1857کی جنگ آزادی میں شکست کے بعد برصغیر مکمل طور پر برطانوی سامراج کا حصہ بن گیا۔ اور پھر ٹھیک 90سال بعد متحدہ ہندوستان کو تقسیم کیا گیا تو 14اگست1947کو دنیا کے نقشے پر پاکستان نمودار ہوا۔

برطانیہ آج بھی دنیا پر کسی نہ کسی شکل میں حکمرانی کر رہا ہے۔ امریکہ نے نیٹو فورسز کے ذریعے افغانستان پر چڑھائی کرنی ہو یا عراق میں نہتے انسانوں کا خون بہانا ہو، یورپی یونین کے معاملات ہوں یا مشرقی وسطی میں اقتدار کی منتقلی کا معاملہ تاج برطانیہ کا اہم کردار ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسی کیا وجوہات ہیں کہ عظیم برطانیہ نہ صرف عالمی سطح پر ہر معاملے میں اپنا کردارادا کرتا ہے بلکہ اس کا اپنا نظام بھی منظم طریقے سے چل رہا ہے۔ تو برطانوی اس کی چار بنیادی وجوہات بیان کرتے ہیں۔ ملک کے اندر سیاسی نظم و ضبط، تعلیم کا بہترین نظام، بہت بڑی تجارتی بحریہ جس پر توپیں نصب کرکے انہیں جنگی بحریہ میں تبدیل کیا جا سکتا تھا اور اچھے حکمرانوں کا تسلسل۔ یہ وہ چار چیزیں ہیں جنہوں نے برطانوی سامراج کی وسعت میں اہم کردار ادا کیا۔ تعلیم کے حوالے سے برطانوی حکام کی سنجیدگی دیکھنے کا تو راقم کو خود اتفاق ہوا۔ جب لندن میں حالیہ قیام کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے ہمراہ برٹش کونسل کے ہیڈ کوارٹر اور یونیورسٹی آف لندن کے سینیٹ ہال میں جانے کا اتفاق ہوا۔

پوری دنیا میں اپنے دفاتر اور ذیلی اداروں کو برٹش کونسل کے حکام ایک عمارت میں بیٹھ کر کنٹرول کرتے ہیں۔ جن کی ترجیحات دنیا بھر میں بہترین تعلیمی نظام کے فروغ کےلئے کام کرنا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ برٹش کونسل کے مرکزی ہال میں بیٹھ کر پورے سینٹرل لندن کے دلکش منظر سے بھی لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ برٹش کونسل کے سی ای او سرڈیون بتا رہے تھے کہ انہوں نے حکومت پاکستان کی طرف سے سنجیدگی نہ ہونے کی وجہ سے لاہور میں قائم برٹش کونسل کی اہم لائبریری بند کر دی تھی مگر اب وزیراعلیٰ پنجاب کی کاوشوں سے پاکستان کے طلبا برٹش کونسل لائبریری سے ایک بار پھر لاہور میں مستفید ہوں گے۔ اسی طرح یونیورسٹی آف سینٹرل لندن سے حکومت پنجاب کا انہی شرائط پر معاہدہ کرنا جو انہوں نے بھارتی حکومت سے کیا ہوا ہے قابل تعریف بات ہے۔ جبکہ اطلاعات ہیں کہ صحت اور صاف پانی کے منصوبوں اور دنیا کی جدید ترین فرانزک لیب کے قیام کے حوالے سے بھی پنجاب حکومت نے برطانوی حکام سے معاہدے کئے ہیں۔ اگر ان منصوبوں کی شفافیت اور برق رفتاری سے تکمیل ہوئی تو یہ بلاشبہ پنجاب کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ جب کہ کچھ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پنجاب میں دہشتگردی کا راستہ مکمل بند کرنے کےلئے بھی برطانوی حکام سے کچھ معاملات طے کئے گئے ہیں۔ لندن میں حالیہ قیام کے دوران ہاؤس آف لارڈز کے کچھ ممبران سے ملاقات ہوئی۔ جس میں انہوں نے پہلی بار پاکستان کی کسی حکومت کا مثبت انداز میں ذکر کیا۔ ایک برطانوی رکن اسمبلی بتا رہے تھے کہ آج کا پاکستان بدل رہا ہے ۔یہ پہلی بار ہے کہ برطانوی اداروں نے پاکستان کے ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو اس گرم جوشی سے خوش آمدید کہا ہے اور پنجاب میں اہم منصوبوں پر مل کر کام کرنے کےلئے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔

پاکستان میں صرف تین چیزوں کی کمی ہے اگر ملک میں قانون کی حکمرانی، سویلین بالادستی اور انسانیت آ جائے تو اس کرہ ارض پر وطن عزیز جیسا کوئی خطہ نہیں ہے۔ کیونکہ گزشتہ رات ایک سینئر بیوروکریٹ بتا رہے تھے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی برطانوی محکمہ خارجہ، داخلہ، دفاع سمیت اہم میٹنگز میں انہیں حیرانی اس وقت ہوئی جب برطانوی کہنے لگے کہ براہ کرم کچھ معاملات میں ہمیں پاکستان کی معاونت چاہئے اور پنجاب حکومت ہماری مدد کرے۔ پاکستان آج بھی دنیا پر حکمرانی کر سکتا ہے مگر ہمیں پہلے اپنے رویوں اور نظام میں تبدیلی لانا ہو گی۔ بشکریہ روزنامہ "جنگ"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند