تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
State Of Denial Syndrome
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 28 صفر 1437هـ - 11 دسمبر 2015م KSA 17:23 - GMT 14:23
State Of Denial Syndrome

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں پیش آنے والا فائرنگ کا واقعہ مسلمانوں کے خلاف یہود و ہنود کی ایک اور خطرناک سازش ہے۔ جس طرح افغانستان پر حملہ کرنے کے لئے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کی سازش گھڑی گئی اور اس کا ملبہ القاعدہ پر گرا دیا گیا، اسی طرح یہ واقعہ بھی کسی نئے گھنائونے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس سے پہلے فرانس میں اپنے لوگ مروا کر مسلمانوں کو دہشتگرد ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور اب امریکہ میں ایک سیدھے سادے جوڑے کو اپنے جال میں پھنسایا گیا ہے۔ امریکی حکام نے جھوٹ پر مبنی جو کہانی گھڑی اس کا کوئی سر ہے نا پیر۔ مثال کے طور پر رضوان فاروق جسے حملہ آور قرار دیا گیا اور بتایا گیا ہے کہ پولیس حکام سے فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا، اس کی تصویر پر غور کریں۔ اوندھے منہ لیٹے اس شخص کے ہاتھ پیچھے بندھے ہیں۔ اگر اسے گرفتار کر کے ہتھکڑی لگا لی گئی تھی تو پھر گولی کیوں ماری گئی؟ اور اگر وہ پولیس مقابلے میں مار ا گیا تو پھر کسی مرے ہوئے شخص کے ہاتھ باندھنے کی کیا ضرورت تھی؟ تاشفین ملک کے بارے میں بہت سے سوالات ہیں، مثلاً سی این این نے اس کے شناختی کارڈ کا جو عکس جاری کیا وہ مضحکہ خیز ہے۔ نادرا کے شناختی کارڈز میں تو اس طرح کا فونٹ استعمال ہی نہیں ہوتا ۔اس سے اچھی جعلسازی تو ہم کر سکتے ہیں باراک اوباما کا اصلی شناختی کارڈ بنا کر۔

اس طرح کے بھونڈے دلائل اور بے تکی باتیں سن کر مجھے آسٹریا کا مشہور سائنسدان سگمنڈ فریڈ یاد آتا ہے جسے نفسیاتی طریقہء علاج کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سگمنڈ کے خیال میں انسانی رویئے پر اثر انداز ہونے والے تین اہم نفسیاتی محرکات ہیں جو ہمارا طرز عمل متعین کرتے ہیں ۔1۔آئی ڈی، 2۔ایگو، 3۔سپر ایگو۔ آئی ڈی کا تعلق خوشی سے ہے ،ایگو حقیقت پسندی پر مائل کرتی ہے ،اور سپر ایگو اخلاقیات سے متعلق ہے۔ سگمنڈ کے مطابق آئی ڈی بنیادی انسانی جبلت کی عکاس ہے اگر دیگر دو محرکات نہ ہوتے تو انسان محض سکھ پانے اور دکھ مٹانے تک ہی محدود رہتا لیکن ایگو جز وقتی دکھ جھیلنے پر قائل کرتی ہے تاکہ کل وقتی سکھ حاصل ہو سکے۔ سپر ایگو جس کا تعلق ضمیر سے ہے اگرچہ یہ صحیح اور غلط میں فرق کرنے کے لئےضروری ہے مگر یہ غیر حقیقت پسندی کی انتہا کی طرف لے جاتی ہے۔جب سپر ایگو اور آئی ڈی میں کشمکش ہوتی ہے تو ایگو مصالحت کار کا کردار ادا کرتی ہے اور مدافعانہ نظام کے تحت تنائو کم کرتی ہے۔ مدافعانہ نظام کی بنیاد اِنکار پر استوار ہے ۔مثال کے طور پر جب کسی مرگ ناگہانی کی صورت میں کوئی اپنا بچھڑ جاتا ہے تو مدافعانہ نظام کے تحت ہماری عقل اس حادثے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ 

ہم ’’نہیں یہ نہیں ہو سکتا ‘‘ کی عملی تصویر بن جاتے ہیں اور یوں وقتی طور پر جذباتی صدمے کی شدت کم ہو جاتی ہے ۔اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ جس کسی شخص کو مہلک بیماری کے بارے میں معلوم ہوتا ہے تو اس کا دماغ یہ حقیقت تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے ۔مگر یہ انکار عارضی پناہ گاہ ہے جیسے جل جانے پر برف کی ڈلی وقتی سکون کا باعث بنتی ہے اسی طرح یہ کیفیت عارضی ہوتی ہے ۔اگر کوئی شخص مسلسل حالت ِانکار میں رہے تو اسے state of denial syndrome کا مریض سمجھا جاتا ہے ۔افراد ہی نہیں ،اقوام اور معاشرے بھی اس نفسیاتی عارضے کا شکار ہوتے ہیں ۔یوں تو مفکرین کے پاس قومی سطح پر حالت انکار کی بیشمار مثالیں ہیں مگر میرے خیال میں پاکستانی معاشرہ اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ ہم آج تک اپنے تابناک ماضی کے رومانوی خیالات سے باہر نہیں نکل سکے۔ ہم بدترین اخلاقی، فکری ،سماجی اور معاشی زوال کا شکار ہیں مگر خیالات کے گھوڑے آج بھی دجلہ و فرات میں دوڑتے پھرتے ہیں۔ جب بھی کوئی واقعہ ہمیں جھنجھوڑنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم اسے من گھڑت قرار دیکر جھٹلادیتے ہیں۔ پاکستان میں خودکش حملے اور دہشتگردی بڑھنے لگی تو کہا گیا، کوئی مسلمان تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا، یقینا یہ ہمارے دشمنوں کی سازش ہے ۔جس طرح آج کیلی فورنیا دہشتگردی کے بعد رضوان فاروق کی تصویر پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ،اسی طرح ملالہ یوسف زئی کی تصاویر پر شکوک و شبہات پیدا کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ایسا کوئی واقعہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا ۔

اجمل قصاب کے حوالے سے ایسی ہی سازشی تھیوریاں پیش کی گئیں ۔حامد میر پر حملہ ہونے کے بعد یہ بے تکی باتیں کی گئیں کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرنے والوں کو سزائے موت بھی ہو گئی مگر بعض لوگ ابھی تک یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ہمارے بچوں کو بے رحمی سے قتل کرنے والے طالبان تھے۔تاشفین ملک اور رضوان فاروق کے اہلخانہ نے تصدیق کر دی ،بہائوالدین ذکریا یونیورسٹی کے ریکارڈ سے معلومات سامنے آگئیں ،عزیز و اقارب اور کلاس فیلوز نے تمام معلومات فراہم کر دیں مگر ہمارے یہ بانکے نرالے ماننے کو تیار ہی نہیں کہ اس کا تعلق پاکستان سے تھا ۔رضوان فاروق کی مرنے کے بعد کی تصویر اور تاشفین ملک کا شناختی کارڈ دھڑا دھڑ شیئر ہو رہا ہے اور بھانت بھانت کے تبصروں کا سلسلہ جاری ہے ۔کسی نے یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی رضوان فاروق کو ہتھکڑی کیوں لگائی گئی اور کب لگائی گئی ؟بات صرف اتنی سی ہے کہ امریکی قانون کے مطابق اگر کوئی شخص پولیس مقابلے میں مارا جائے تو قریب جاتے ہی سب سے پہلے اسے اوندھے منہ لٹا کر ہاتھ پیچھے باندھ کر ہتھکڑی لگائی جاتی ہے تاکہ اگر وہ مرنے کی اداکاری بھی کر رہا ہوتو دوبارہ اٹھ کر کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ اسی طرح سی این این نے جو شناختی کارڈ جاری کیا وہ بھی اصلی ہے۔

کوئی بھی شخص نادار کے شارٹ کوڈز7000یا 8300 میں سے کسی ایک پر شناختی کارڈ نمبر لکھ کر ایس ایم ایس کرتا تو اسے معلوم ہوجاتا کہ شناختی کارڈ جعلی ہے یا اصلی مگر ایسا کرنے کی صورت میں سازشی تھیوریوں کی دکان کیسے چلتی ؟ فونٹ کا معاملہ یہ ہے کہ جب نادرا سے منسلک ڈیٹا بیس سے کسی کا شناختی کارڈ چیک کیا جاتا ہے تو ہو بہو شناختی کارڈ کا عکس ہی نظر آتا ہے مگر جب اس کا پرنٹ لیاجاتا ہے تو فونٹ تبدیل ہو جاتے ہیں تاکہ کوئی غلط استعمال نہ کر سکے۔ سی این این نے شناختی کارڈ کا جو عکس جاری کیا وہ اسکین کر کے نہیں جاری کیا گیا بلکہ نادرا کے ڈیٹا بیس سے پرنٹ لیکر دکھایا گیا ہو گا۔

گزشتہ ہفتے صدر ممنون حسین کے حوالے سے شائع ہونے والے میرے کالم پر ایوان صدر سے ہمارے دوست فاروق عادل نے ایک وضاحت جاری کی ہے جو پیش خدمت ہے ’’ایک تقریب کے دوران صدر ممنون حسین نے کہا کہ کاروباری لوگ ٹیکس دینے سے تو یہ کہہ کر گریز کرتے ہیں کہ یہ غیر اسلامی ہے اور دین میں اس کی گنجائش نہیں حالانکہ اسلامی حکومت کو ریاست چلانے کے لئے دین کی روشنی میں فیصلہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ ممتاز اسکالر ڈاکٹر حمید اللہ نے تو علماء سے یہ تک کہا ہے کہ غریب آدمی چونکہ ساری زندگی اپنا گھر تک نہیں بنا سکتا اس لئے گھر بنانے کے لئے قرضے پر مارک اپ کی ادائیگی کی گنجائش ہونی چاہئے۔ بعض لکھنے والوں نے اس بات کو صدر مملکت سے منسوب کر کے شور مچا دیا اور سیاق وسباق کو بالکل نظر انداز کر دیا۔ صدر مملکت باعمل مسلمان ہیں، باقاعدہ مدرسے میں تعلیم حاصل کی۔ وہ خلاف اسلام بات کیسے کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ایوان صدر میں اسراف کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ یہ بھی خلاف واقعہ ہے، صدر مملکت اخراجات پر نظر رکھتے ہیں اور کبھی خلاف ضابطہ اخراجات کی اجازت نہیں دیتے‘‘،

نوٹ: میں نے اسراف کی نشاندہی کرتے ہوئے جو اعداد  وشمار پیش کئے تھے ،ان کی توجیہ تو پیش کی گئی مگر انہیں جھٹلایا نہیں گیا۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند