تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قلب آسیا کانفرنس اور تبدیلی ہائے قلوب
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 17 رمضان 1440هـ - 22 مئی 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 29 صفر 1437هـ - 12 دسمبر 2015م KSA 07:10 - GMT 04:10
قلب آسیا کانفرنس اور تبدیلی ہائے قلوب

چند روز قبل افغانستان بھی برہم تھا اور ہندوستان بھی دھمکیاں دے رہا تھا لیکن اسلام آباد میں منعقدہ قلب آسیا (Heart of Asia) کانفرنس، میں تبدیلی ہائے قلوب کے ایسے مناظر دیکھنے کو ملے کہ دنیا حیران رہ گئی۔ کل تک ڈاکٹر اشرف غنی کی پاکستان آمد ناممکنات میں سے نظر آرہا تھا لیکن آج ان کو اکیس توپوں کی سلامی دی جارہی تھی اور کل تک جو سرتاج عزیز اور سشما سوراج ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں تھے، آج یوں دکھائی دے رہے تھے کہ جیسے جوانی کے بچھڑے قریبی دوست ہوں۔ سوال یہ ہے کہ قلب آسیا کانفرنس کے موقع پر یہ تبدیلی ہائے قلوب کیسے ہوئی، کس کا کیا کردار رہا اور سب سے اہم یہ کہ دوستی یا مذاکرات کا یہ سلسلہ پائیدار رہے گا یا نہیں؟ پہلی حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ جو کچھ ہوا اس کا ہارٹ آف ایشیاء (قلب آسیا) کانفرنس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ وہ ایک ذریعہ اور بہانہ بنی۔ یہ کانفرنس نہ ہوتی تو ملنے کا کوئی اور راستہ یا طریقہ نکالا جاتا۔ جہاں تک ڈاکٹر اشرف غنی کے رویے میں تبدیلی کا تعلق ہے تو اس میں بنیادی کردار امریکہ نے ادا کیا۔ امریکہ پاکستان سے شدید ناراض بھی ہے اور اس کے ہاں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ افغانستان میں اس کی ناکامی میں بنیادی کردار پاکستان نے ادا کیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ حقیقت بھی تسلیم کر چکا ہے کہ سردست وہ افغانستان میں اپنا کوئی بھی ہدف پاکستان کے تعاون کے بغیر حاصل نہیں کرسکتا، اس لئے وہ اس موقع پر پاکستان کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ اسی طرح مدعا اور ہدف الگ الگ ہیں لیکن پہلی مرتبہ طالبان کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے پاکستان اور امریکہ ایک صفحے پر آگئے ہیں۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات قریب آرہے ہیں اور صدر اوباما چاہتے ہیں کہ ان سے قبل بے شک عراق کی طرح عارضی یا مصنوعی کیوں نہ ہو لیکن افغانستان میں سیاسی مفاہمت کا کوئی راستہ نکلے تاکہ امریکی عوام اور دنیا تک یہ تاثر نہ جائے کہ امریکہ شکست کھا کر اور افغانستان کو تباہ حال چھوڑ کر بھاگ گیا۔

امریکی یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ افغان حکومت جس تیزی کے ساتھ کمزور ہورہی ہے اور طالبان کی کارروائیوں میں جس طرح شدت آرہی ہے، اس کے تناظر میں کسی سیاسی اور سفارتی حل کے بغیر ڈیڑھ سال بعد افغانستان ایک بار پھر بدترین انتشار کی طرف جاچکا ہوگا ۔ چنانچہ جب امریکہ نے دیکھا کہ اس کی اور چین کی نگرانی میں طالبان کے ساتھ شروع ہونے والے مذاکرات ،افغان حکومت کے رویے کی وجہ سے منقطع ہوگئے تو اس نے اس پر دبائو ڈالنا شروع کیا۔ امریکہ مری مذاکرات کے انقطاع پر خوش نہیں تھا اور پاکستان پر دبائو ڈال رہا تھا کہ وہ دوبارہ اس سلسلے کو شروع کروائے لیکن پاکستان کی طرف سے امریکہ کو جواب دیا جاتا رہا کہ جب تک افغان حکومت رویہ درست کرکے اسے کردار ادا کرنے کا نہ کہے ،تب تک وہ کسی قسم کا کردار ادا نہیں کرسکتا۔ اس کے جواب میں امریکہ نے وزیراعظم اور آرمی چیف کے واشنگٹن کے دوروں کے موقع پر یقین دلایا تھا کہ وہ افغان حکومت کو مجبور کردے گا۔ چنانچہ اگر ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس نہ ہوتی تو بھی امریکہ کے اس دبائو کی وجہ سے ڈاکٹر اشرف غنی نے پاکستان کے ساتھ معاملات دوبارہ بہتر بنانے تھے۔ دوسری طرف افغان حکومت کی ناراضی اور برہمی کا سرکل بھی مکمل ہوگیا ۔ اندرونی دبائو کی وجہ سے ڈاکٹر اشرف غنی نے ملا عمر کی موت کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف اپنا غصہ تو نکال دیا لیکن اس کا انہیں اندرونی محاذ پر کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا۔ ایک طرف طالبان کی کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں۔ دوسری طرف اندرونی سیاسی انتشار مزید بڑھ گیا اور تیسری طرف پاکستان نے نازنخرے اٹھانے کی بجائے بے اعتنائی کا رویہ اپنا لیا۔ اسی طرح جب افغان حکومت دوبارہ ہندوستان کی طرف گئی تو وہاں سے بھی کسی خاص گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں ہوا۔ چنانچہ افغان حکومت کے پاس بھی اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا کہ دوبارہ پاکستان سے معاملات بہتر بنائے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنائے۔ بعینہ پاکستان کے پاس بھی اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ راہ و رسم بڑھائے کیونکہ یہاں پر بھی صاحبان عقل اس حقیقت کا ادراک کررہے ہیں کہ ماضی کی طرح دوبارہ طالبان، افغانستان کے تنہا حاکم نہیں بن سکتے اور یہ کہ افغانستان میں انتشار کا سب سے زیادہ نقصان امریکہ یا ہندوستان نہیں بلکہ خود پاکستان کو اٹھانا پڑے گا۔

پاکستان سے متعلق ہندوستان کے رویے میں تبدیلی میں بھی داخلی صورت حال کے ساتھ ساتھ امریکی دبائو کا عامل شامل رہا اور یہاں بھی امریکی دبائو کا محرک افغانستان ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ نریندر مودی جہاں ایک طرف ہندوانتہا پسندوں کے نمائندے ہیں، وہاں دوسری طرف انہیں وہاں کے کارپوریٹ سیکٹر نے بھی سپورٹ کیا۔ یوں ان کی کیفیت،ایمان مجھے کھینچے ہیں تو روکے ہے مجھے کفر، والی ہے۔ سال رفتہ کے دوران انہوں نے جس طرح ہندوانتہا پسندوں کو آزاد چھوڑا اور اقلیتوں کے خلاف جو اقدامات ہوئے، اس کی وجہ سے جہاں ہندوستان کے اندر مودی سرکار کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، وہاں اس کا عالمی امیج بھی بری طرح متاثر ہوااور یہ صورتحال کارپوریٹ سیکٹر کے لئے پیغامِ موت ہے۔ یوں اندرونی محاذ سے ان پر کارپوریٹ سیکٹر کا دبائو بڑھ گیا۔ دوسری طرف ردعمل میں پاکستانی حکومت کو بھی اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا کے دبائو میں سخت رویہ اپنانا پڑا کیونکہ اس کے جارحانہ رویے کی وجہ سے مجھ جیسے جنگ زدہ اور امن پسند لوگوں کو یہ کہنا پڑا کہ ہندوستان کے ساتھ مذاکرات اور دوستی بھاڑ میں جائے۔ دوسری طرف امریکہ کو یہ ادراک ہوگیا ہے کہ اگر افغانستان میں پاکستان اس کے حسب منشاڈیلیور نہیں کررہا تو اس کی وجہ وہاں پر ہندوستانی اثرورسوخ ہے۔

پہلے مرحلے میں امریکہ نے ڈاکٹر اشرف غنی کو مجبور کیا کہ وہ ہندوستان کے حوالے سے پاکستان کے خدشات دور کرے۔ اب شاید امریکیوں کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ اگر خود ہندوستان آن بورڈ نہ ہو اور پاکستان کے ساتھ اس کا تنائو رہے تو صرف افغان حکومت ان خدشات کو دور نہیں کرسکتی۔ اس دوران جب امریکہ پاکستان پر دبائو ڈالتا رہا تو یہاں کے پالیسی سازوں کی طرف سے واضح جواب ملتا رہا کہ ایسے عالم میں جبکہ مشرقی سرحد پر بھی ہندوستان جنگ کی تیاری کررہا ہو، وہ کسی بھی صورت مغربی سرحد کو ہندوستان کے اثر میں نہیں دے سکتااور یہی وہ جگہ ہے کہ جہاں پر وہ امریکہ کی بات بھی نہیں مان سکتے۔ چنانچہ اس تناظر میں امریکہ نے ضروری سمجھا کہ پاکستان اورہندوستان کے تنائو کو کم کردے اور اسی لئے اس نے ہندوستان کو مجبور کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کردے۔ بہر حال یہ امر خوش آئند ہے کہ افغانستان کے ساتھ سلسلہ جہاں سے کٹ گیا تھا، وہاں سے دوبارہ جڑ گیا اور ہندوستان کے ساتھ بھی معاملات جہاں رکے تھے، وہاں سے دوبارہ چل پڑے ہیں لیکن افسوس کہ کشیدگی اور تنائو کے اس وقفے نے تینوں فریقوں کا کام آسان نہیں بلکہ مزید مشکل بنا دیا ہے اور تینوں کی قیادتوں کا ایک ایسا امتحان شروع ہوگیا ہے کہ جو آخری چانس کا درجہ رکھتا ہے۔ اپنی نالائقی یا ہٹ دھرمی سے انہوں نے یہ موقع ضائع کردیا تو پھر خطے کو تباہی کے ایک نئے سلسلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس نئے امتحان کے ضمن میں جس بھی فریق نے زیادہ نالائقی اور ہٹ دھرمی دکھائی تو اسے زیادہ قیمت چکانی پڑے گی اور جس نے بھی زیادہ سنجیدگی اور فہم وفراست کا مظاہرہ کیا، اس کا نقصان اتنا ہی کم ہوگا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہٹ دھرمی یا ناکامی کے مرتکب فریق کو صرف خطے کے حالات کی سزا نہیں ملے گی بلکہ امریکہ کی قیادت میں اسے عالمی برادری کے غیض و غضب کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں اور طالبان کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ امن کے لئے اس سے بہتر کوئی موقع ہاتھ نہیں آسکتا۔ ایسا موقع پھر ہاتھ نہیں آسکتا کہ پاکستان اور افغانستان مل کر طالبان کے ساتھ مذاکرات کررہے ہوں اور اس میں امریکہ اور چین بطور ضامن یا معاون بیٹھے ہوں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند