تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
میک اے وش کے بچے کی ملالہ سے ملاقات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 4 ربیع الاول 1437هـ - 16 دسمبر 2015م KSA 10:45 - GMT 07:45
میک اے وش کے بچے کی ملالہ سے ملاقات

امریکی ہفت روزہ ’’ٹائم میگزین‘‘ کا شمار دنیا کے مشہور اور دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے جریدے میں ہوتا ہے۔ یہ میگزین ہر سال دنیا کی اہم ترین شخصیات کی فہرست شائع کرتا ہے جس میں کسی شخصیت کا شامل ہونا اُس شخصیت اور اُس کے ملک کیلئے بڑے اعزاز کی بات سمجھی جاتی ہے۔ حال ہی میں ٹائم میگزین کی جاری ہونے والی سال رواں کی اہم ترین شخصیات کی فہرست میں نوبل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو دنیا کی دوسری اہم ترین شخصیت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فہرست میں عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس تیسرے، امریکی صدر باراک اوباما چوتھے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آٹھویں اور جرمنی چانسلر اینجلا مرکل دسویں نمبر پر ہیں۔ ملالہ نہ صرف وہ واحد پاکستانی ہے جسے اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے بلکہ اس سے قبل ٹائم میگزین ملالہ کی تصویر اپنے سرورق پر بھی شائع کر چکا ہے۔

2015ء کا سال ملالہ کیلئے کامیابیوں کا سال رہا اور جاتے جاتے اسے دنیا کی اہم ترین شخصیات کا خطاب دے گیا۔ ملالہ کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے امریکی صدر باراک اوباما، برطانوی ملکہ الزبتھ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون اور حال ہی میں دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس سے بھی ملاقات کی لیکن ملالہ کو ملنے والی ہر کامیابی کو پاکستان میں شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے ملالہ کی شخصیت تنازعات کا شکار ہے۔ گزشتہ دنوں مجھے ملالہ سے ملنے اور قریب سے دیکھنے کا اُس وقت موقع ملا جب میں میک اے وش پاکستان کے ایک بچے کو اس کی خواہش کے مطابق ملالہ سے ملاقات کیلئے لندن لے کر گیا۔ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا 17سالہ انور اللہ خان جو کراچی میں آرمی پبلک کالج کا فرسٹ ایئر کا طالبعلم ہے، نے میک اے وش پاکستان سے کچھ ماہ قبل اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ملالہ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ ادارے نے جب انور اللہ سے اس کی خواہش کی وجہ معلوم کرنا چاہی تو اس نے بتایا کہ وہ ملالہ کو رول ماڈل تصور کرتا ہے جس نے بچوں کی تعلیم کیلئے جدوجہد اور قربانیاں دے کر جرات کا مظاہرہ کیا اور اس کی خوش نصیبی ہو گی کہ وہ زندگی میں ملالہ سے ملاقات کرسکے۔

ادارے کیلئے یہ ایک آسان وش نہ تھی کیونکہ ملالہ برطانیہ میں رہائش پذیر ہے اور بچے کو بیماری کی حالت میں برطانیہ لے جانا آسان کام نہ تھا۔اس سلسلے میں جب ملالہ کو خط تحریر کیا گیا تو ملالہ کی سیکرٹری کی جانب سے یہ جواب موصول ہوا کہ ملالہ سے ملاقات کیلئے سال بھر کوئی جگہ خالی نہیں جس پر میں نے برطانیہ میں میک اے وش کی نمائندہ فاز ضیاء سے رابطہ کر کے ملالہ کو یہ پیغام بھجوایا کہ جو بچہ آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے، اپنی بیماری کے باعث شاید ایک سال انتظار نہ کر سکے جس کے بعد ملالہ نے فوراً ہی انور اللہ سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کر دی۔ ادارے کو دوسری مشکل کا سامنا اُس وقت کرنا پڑا جب برطانوی سفارتخانے نے انور اللہ اور اُس کے والد امان اللہ خان کو ویزا دینے سے انکار کر دیا۔ ایسی صورتحال میں، میں نے کراچی میں متعین برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر سے ملاقات کر کے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا جنہوں نے اس شرط پر انور اللہ کو ویزا دینے پر آمادگی ظاہر کی کہ میں خود انور اللہ کو اپنے ساتھ لے کر جائوں اور ملاقات کے بعد اپنے ساتھ واپس لائوں۔ وہ لمحہ بھی بڑا دلچسپ تھا جب انور اللہ کے والدین اور رشتے دار ایئرپورٹ پر اسے رخصت کرنے آئے۔ روانگی سے قبل انور اللہ نے ملالہ کیلئے کچھ تحفے لئے جس میں سوات کی بنی ہوئی شال بھی شامل تھی۔

لندن پہنچنے پر انور اللہ کی خوشی چہرے سے عیاں تھی اور وہ ملالہ سے ملاقات کیلئے بے تاب نظر آ رہا تھا۔ ملالہ اپنے والدین کے ساتھ برمنگھم میں رہائش پذیر ہے۔ یہ وہی شہر ہے جس کے اسپتال میں ملالہ کو زخمی حالت میں لایا گیا تھا جہاں وہ کافی عرصے تک زیر علاج رہی۔ ہم چاہتے تو برمنگھم کی فلائٹ بھی لے سکتے تھے مگر کیونکہ لندن میں انور اللہ کی کچھ اور مصروفیات بھی رکھی گئی تھیں، اس لئے لندن میں قیام کا فیصلہ کیا۔ اگلی صبح میں انور اللہ اور فاز ضیاء کے ہمراہ لندن میں مقیم اپنے دوست شہزاد خان کے ساتھ ان کی کار میں برمنگھم کی طرف روانہ ہوا۔ لندن سے بذریعہ کار برمنگھم کا سفر ڈھائی گھنٹے پر محیط ہے۔ یہ بات ہمارے لئے حیران کن تھی کہ ملالہ سے ملاقات کے مقام کو سیکورٹی وجوہات کی بناء پر آخری وقت تک صیغہ راز میں رکھا گیا اور ہمیں یہ بتایا گیا کہ برمنگھم پہنچنے پر آپ کو ملاقات کے مقام کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ راستے بھر ہم انور اللہ کی باتوں سے محظوظ ہوتے رہے ، وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چل سکا اور ہم جائے مقام پر پہنچ گئے جہاں سادہ لباس اہلکاروں کی سخت سیکورٹی نظر آئی جبکہ بی بی سی نیوز کے نمائندے بھی ملاقات کی کوریج کیلئے وہاں موجود تھے۔ اس موقع پر انور اللہ کی بے تابی قابل دید تھی۔ کچھ ہی دیر بعد ملالہ اپنے ہاتھوں میں گلدستہ تھامے والدین کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئی اور فرداً فرداً تمام لوگوں سے ملاقات کر کے انور کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ میں نے ملالہ کو میک اے وش فائونڈیشن پاکستان کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔ ملالہ نے کہا کہ جب اسے انور اللہ کی وش کے بارے میں بتایا گیا تو اسے یقین نہیں آیا کہ میک اے وش کے کسی بچے کی آخری خواہش مجھ سے ملاقات کی ہو سکتی ہے، اس بناء پر میں نے اپنی تمام مصروفیات کو نظر انداز کرکے انور اللہ سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔

ملالہ سے ملاقات سے قبل ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ ملاقات صرف آدھے گھنٹے پر محیط ہو گی مگر ملاقات تین گھنٹے سے زائد تک جاری رہی۔ اس دوران ملالہ نے انور اللہ سے اس کی صحت اور خاندان کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے سوال کیا کہ وہ چاہتا تو کچھ اور بھی خواہش کر سکتا تھا، اس کے دل میں مجھ سے ملاقات کی خواہش کیسے آئی؟انور اللہ نے ملالہ سے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں اور یقین نہیں آ رہا کہ آج میں آپ سے ملاقات کر رہا ہوں، آپ میری پسندیدہ شخصیت اور رول ماڈل ہیں اور تعلیم کیلئے آپ کی جدوجہد و قربانیاں قابل قدر ہیں۔ اس دوران ملالہ نے اپنے بھائی کے ہمراہ انور اللہ کے ساتھ مونوپلی گیم کھیلا اور انور کو گیم جیتنے کا موقع دیا۔ اس موقع پر ملالہ کی فیملی نے تمام مہمانوں کیلئے لنچ کا اہتمام کیا جس کے بعد ملالہ نے مہمانوں کو یہ کہتے ہوئے کافی کی پیشکش کی کہ آج وہ اپنے خصوصی مہمان اور دیگر مہمانوں کیلئے خود کافی بنائے گی۔ ملالہ چاہتی تو اپنے کسی اسٹاف سے کافی بنانے کا کہہ سکتی تھی لیکن اتنی شہرت اور دنیا کا اعلیٰ ترین اعزاز حاصل کرنے کے باوجود ملالہ کی شخصیت میں عاجزی و انکساری پائی اور اسے ایک مشرقی لڑکی پایا۔ مجھے یہ سن کر بھی خوشی ہوئی کہ ملالہ لڑکیوں کی تعلیم کی جدوجہد کیلئے سفر بھی کرتی ہے اور اگلے روز نارمل طالبعلم کی طرح خود اسکول جاتی ہے۔ اس دوران میں ملالہ کے والد ضیاء یوسف زئی اور ان کی اہلیہ سے باتوں میں مشغول رہا۔ مجھے ان کے والد کی شخصیت نے بھی متاثر کیا جنہوں نے اپنی بیٹی کی ہر قدم پر حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی۔

ملالہ کی والدہ نے بتایا کہ وہ اپنی بچی کو انتہائی نازک حالت میں برمنگھم لے کر آئی تھیں جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی دعائوں کی بدولت صحت یابی عطا فرمائی۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا ان کا دل یہاں لگ گیا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کو بہت یاد کرتے ہیں۔ ملالہ کے والد نے مجھ سے یہ بھی شکوہ کیا کہ پاکستان میں کچھ لوگ ملالہ اور انکے والدین کے بارے میں غلط خیالات رکھتے ہیں جو بالکل درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ ہیں اور جب بھی موقع ملا پاکستان ضرور واپس جائیںگے۔ کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار ملالہ نے بھی کیا۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ پاکستان آنے اور اپنی دوستوں سے ملنے کیلئے بے تاب ہیں۔

ملالہ اور اس کی فیملی انگلینڈ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہے لیکن ملالہ کے ذہن میں اپنے مخالفین کیلئے ذرہ برابر بھی انتقامی جذبات یا غصہ نہیں اور وہ اپنے دشمنوں پر لعن طعن اور غصے کا اظہار کرنے کے بجائے یہ دعا کرتی ہے کہ مجھ پر حملہ کرنے والوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کریں۔ ملالہ سے ملاقات کے بعد لندن میں انور اللہ کے ساتھ کچھ روز قیام کا احوال اگلے کالم میں ملاحظہ فرمائیں۔ بشکریہ روزنامہ"جنگ"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند