تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نئی تیزی ، جلد مرنے کا پروگرام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 4 ربیع الاول 1437هـ - 16 دسمبر 2015م KSA 10:46 - GMT 07:46
نئی تیزی ، جلد مرنے کا پروگرام

یکدم تیزی، سالوں کے فاصلے مہینوں میں بلکہ دنوں میں نمٹائے کا عزم دیدنی ہے۔ نواز مودی آمنا سامنا کیا ہوا؟ سشما سوراج کی پاکستان آمد سے لے کر تاپی (ترکمانستان ، افغانستان ، پاکستان، انڈیا) گیس پائپ لائن کے سنگ بنیاد تک سب کچھ آناً فاناً پلک جھپکتے طے ہوتا نظر آتا ہے۔ ایسی ہی کچھ تیزی اور ارتعاش اندرون خانہ سیاست میں بھی۔ جب سے عدالتی آئینی ترمیم کا اطلاق ڈاکٹر عاصم پر، یوں لگتا ہے،قومی سیاست راکٹ ڈیزل بھروا کر ہوا سے باتیں بلکہ ہوا پر تیرنے کا پروگرام بنا چکی ہے۔ سندھ میں کیا ہونے جا رہا ہے، کیا ہونے کو؟ وفاقی حکومت معاملے کی سنگینی کو سمجھ کیوں نہیں رہی یا سمجھنے سے پہلو تہی کیوں؟ حکمرانو!یاد کرو ، اگست 2014 کا وقت، جب ایمپائر کی انگلی کھڑی ہونے کو تھی، کیوں نہ اٹھی کہ پیپلز پارٹی تن من دھن سے آپ کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ بات اصولی تھی، آج کی حکومت ،پیپلز پارٹی اور مخدوم جاوید ہاشمی کی مرہون منت ہی تو ہے۔ مختصراًعرض کان کھول کر سن لیں،سندھ کا گورنر راج پاکستان کی چولیں ہلا دے گا۔ حضور دہشت گردی سے یکسو ہو کر نمٹیں، کہ اس دہشت گردی کو توانا رکھنے کے لئے بھارت مع بین الاقوامی دہشت گرد سب ایک صف میں کھڑے، ہمہ وقت روبہ عمل ہیں۔ کیا مودی تبدیل ہو چکا؟ بھارتی موقف پلک جھپکتے بدل گیا؟ کیاانڈیا کشمیر دینے پر تیار ہو چکا، پاکستان کی تعمیر وترقی میں بنفس نفیس شریک ہونے کو؟ ہمارے سیاستدانوں کی باچھیں کھلنے سے یہی عندیہ ملتا ہے ۔ تجارت، ثقافت، کرکٹ میں وارفتگی یہی کچھ بتلا رہی ہے ۔

آج 16 دسمبر ، پاکستان کی 68 سالہ تاریخ کا سیاہ ترین دن۔14اگست ،جہاں ہمارے لئے عظمت کبریائی، مبارک سلامت ،شادیانے اور فتح ونصرت کے نقارے بجانے کا دن وہاں 16دسمبر1971ہزیمت و بربادی پر یوم نوحہ گری۔ اگر کوئی کسر رہ گئی تھی تو 16 دسمبر 2014کو بازیچہ اطفال کے غنچوں کو مسل، کچل کر باقی ماندہ بے چینی، شرمندگی، سراسیمگی، بے عزتی کی تصویر مکمل کر گیا۔ کیلنڈر سے 16 دسمبر کا دن تو باہر ہو نہیں سکتا، نہیں بھلانے کا۔ 16دسمبر ہر سال آئے گا، ہمارے شعور، ادراک، حمیت، غیرت کی شدت کو جانچ پرکھ، ناپ تول کر ہی جائے گا۔ 16 دسمبر 1971سانحہ مشرقی پاکستان اور 2014 آرمی پبلک اسکول پر حملے کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جا سکتا ہے۔ آج اس بات کا اعادہ کرنا ہوگا کہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں، ولیوں، کفیلوں، رقم اسلحہ تربیت دینے والوں کو تہہ تیغ کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ 16 دسمبر کا دن بھلا ہم کیسے بُھلا سکتے ہیں؟ قوموں کے صلح اور تعلقات کے اصول متعین، نقصان کا ازالہ ہوئے بغیر تعلقات استوار کرنا ممکن نہیں۔ ’’وجہ نزاع‘‘ کا قلع قمع ضروری۔ مردار جانور کو کنویں سے نکالے بغیر70 چھوڑ ہزاروں بالٹیاں نکالیں، سعی لاحاصل ہی رہے گی۔ مسئلہ کشمیر اصل وجہ نزاع، کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا ہوگا۔ ہماری نسل بے حیثیت رہی تو کیا غم، آنے والی نسل سے ناامیدی کیوں؟ پیرومرشد کے شاہین بچے، ’’زاغوں‘‘ کی رہنمائی نہیں چاہئے۔

اے میرے مفاداتی قائدین اور علم ودانش بیچنے والو! قوم کو خواب غفلت کی لوریاں نہ دو۔ ’’غیرت بریگیڈ‘‘ اور’’ بے غیرت بریگیڈ‘‘ کے تضحیکی لفظوں کا جھگڑا، نہ ہی غیرت کی بے غیرتی کو پچھاڑنے کی جنگ۔ کیسے مان لوں کہ بندے کا ڈی این اےDNA پاکستانی ہو اور وہ وطن عزیز کے مفادات سے پہلو تہی کرے۔ حیراں کن بھی اور پریشان کن بھی کہ آج کے سیاستدانوں، حکمرانوں کے قبیلے میں ایک بھی نہیں جو بجلی، گیس، دھاندلی سے زیادہ وطن عزیز کے معاملات کا ادراک یا دلچسپی رکھتا ہو۔ حکمرانوں کے قبیلے سے ذوالفقار علی بھٹو شاید آخری سیاستدان، الیکشن مہم سے لیکر اقتدار کے ایوانوں تک واضح خارجہ پالیسی اور بھارتی امریکی ریشہ دوانیوں سے عوام کو آگاہ رکھا۔ بنگلہ دیش منظور کرنا تھا تو بند کمرے میں ’’دو فریقی جامع مذاکرات‘‘ کا عندیہ نہ دیا بلکہ، جھوٹا سچا، جلسوں میں عوام کے سامنے موقف پیش کیا۔ شملہ (بھارت )جانے سے پہلے کم وبیش پورے ملک کے ہر طبقے کو اعتماد میں لیا۔ حیف کہ موجودہ سیاستدانوں کے ٹولے کو مسئلہ کشمیر میں دلچسپی نہ ادراک۔ الفاظ کے گورکھ دھندوں میں (مرکب) Composite مذاکرات اور جامع Comprehensive مذاکرات سے مطالب اور معانی نکالنا اہم نہیں، اہم یہ کہ بانی پاکستان زندگی کی آخری سانسوں میں بھی یہ بتانا نہ بھولے کہ ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘۔ مرکب اور جامع کے مطالب تلاش کرنے کی بجائے ’’شہ رگ‘‘ کے معنی تلاش کر لیں،’’شہ رگ‘‘ کے مقام و کام کو پھرو لیں۔ جسم میں شہ رگ کا مقام اور کام ہے کیا؟ صد افسوس! کچھ دانشور تعلیم کی مار کھا گئے اور باقیوں کی تربیت بیگار کیمپوں میں رہی، شکایت بنتی نہیں، یہی کچھ حال وطنی سیاستدان کا ۔امریکہ اور کینیڈا کے تعلقات کو بھارت اور پاکستان کے مستقبل پر منطبق کرتے ہوئے عظیم قائد کی کہی بات سیاق وسباق سے علیحدہ رکھنے میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ عظیم قائد کا فرمان ’’ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘، سے صرف نظر کیوں؟

کینیڈا اور امریکہ باہمی تعلقات اور پاک بھارت باہمی مخاصمت میں تضاد ہے ہی نہیں۔ 1867، امریکی سول وار کے اختتام پرجب سے کینیڈا کو خودمختاری ملی، سے لیکر 1949میں مکمل آزادی تک امریکی تعاون شامل حال رہا۔ مزید براں کینیڈا کا امریکہ سے کوئی مذہبی، نسلی، اقتصادی، لسانی تنازع تھا ہی نہیں بلکہ مطابقت ہی مطابقت جبکہ امریکہ نے کینیڈا کی ’’شہ رگ‘‘ بھی نہیں ہتھیا رکھی تھی۔ کروڑوں کینیڈین کو غلام بھی نہیں بنا رکھا تھا۔ کشمیر کے بغیر پاکستان کا وجود برقرار رکھنا ممکن بھی نہیں۔’’ آنے والے دنوں میں پانی کا بحران بجلی گیس کے بحران کو بھلا دے گا‘‘، خواجہ آصف نے اسمبلی فلور پر چند دن پہلے یہی کچھ انکشاف کیا اور یہی کچھ 2006میں بھارتی انجینئرز اور سائنسدان اپنے تحقیقی مقالے میں پیش کر چکے ہیں۔ پچھلے کئی کالموں میں بھارتی سائنسدانوں کی تحقیق کا لب لباب، کہ ’’پاکستان کے خلاف وسائل ضائع نہ کرو، 2016 سے خالی پانی بحران، پاکستان کے وجود پر بھاری رہے گا‘‘، پیش کر چکا ہوں۔ پانی کے بحران کا ماخذ ہی مسئلہ کشمیر ہے۔ تجارت شروع کریں، ثقافت کا تبادلہ ہو گا، کرکٹ کھیلیں تو باقی مسائل ازخود طے ہو جائیں گے ۔ پاکستانی قوم کو ’’درس زاغ‘‘ کیوں؟ پچھلے ہفتے بھارتی وزیر خارجہ کا آن بان ٹھاٹ سے دورہ ایسے شادیانے بجا گیا جیسے وطن عزیز کے ہاں اولاد نرینہ کی آمد کی خبر آئی ہو۔ سب کچھ ہضم کیا جا سکتا تھا، لیکن کشمیر سمیت سارے معاملات پر ’’جامع مذاکرات‘‘ کے ساتھ ’’باہمی ، دو طرفہ ، دو فریقی (Bilateral) کی پخ‘‘ ماننا ممکن نہیں، وضاحت دینا ہو گی۔ کیا کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ بغیر کشمیریوں کی شمولیت کے، عملاً ممکن ہے، ہرگز نہیں۔

سشماسوراج کا اسلام آباد میں مختصر بیان کہ ’’موقف و صورت حال بھارتی پارلیمان میں پیش کروں گی‘‘، یہی کچھ 1948 میں یو این اسمبلی کی قرارداد کی منظوری پر بھارتی موقف تھاکہ’’معاملہ کانگریس کے سامنے پیش کر دیا جائے گا‘‘۔ آج تک یو این قرارداد شرمندہ تعبیر اس لئے نہ ہو پائی کہ کانگریس نے منظوری نہ دی۔ ہماری پارلیمان اور عوام کی کوئی حیثیت بھی؟ ویسے بھی اگر میرے کسی ہم وطن نے کبھی بھی اپنے کسی ایک ممبر پارلیمان کو کشمیر اور بھارت کے اوپر کسی گہری سوچ اور فکر میں مبتلا پایا ہو، تو مجھے بھی اطلاع کر دیں، عین نوازش ہوگی۔ عمران خان کا حالیہ دورہ بھارت اسی تیزی کا معمولی حصہ ہی تو ہے۔ قطع نظر اس بحث کہ ’’مودی نے دعوت دی تھی ، یا عمران خان صاحب نے دعوت مانگی تھی۔ جب باقی امریکی دورے سے مستفید ہو سکتے ہیں تو عمران خان کے دعوت مانگنے پر لے دے کیوں؟

یہاں ایک جملہ معترضہ زبردستی گھسنے کا ارادہ کر چکا ہے، (ماضی قریب میں ایک وجیہہ، شریف النفس سیاستدان، انتہائی دیانتدار، قومی ہیرو ائیر مارشل اصغر خان کو ایک زمانے میں اپنی سیاست کو چار چاند لگانے کے شوق نے گھیرا تو فٹ سے برباد ساکھ کے ایرانی فرمانروا رضا شاہ پہلو ی اوربغیر ساکھ کے افغانی کمیونسٹ صدر نجیب اللہ سے دعوت طلب کرلی، ملاقات کا شرف ضرور حاصل ہوا، مگر ان ملاقاتوں کا مزاحیہ پروگرام کئی کتابوں کی زینت بن چکا ہے)۔ مجھے مودی عمران ملاقات سے غرض نہیں، اعتراض صرف اتنا کہ کشمیر پر لکنت کیوں، زبان کیوں لڑکھڑائی جبکہ صلح، امن، تجارت، ثقافت، کرکٹ پر روانی۔ حافظ سعید کے بارے میں سوال پر ایسا فضول جواب کہ ’’اگر میں نے کچھ کہا تو پاکستان میں میری جان کو خطرہ لاحق رہے گا‘‘۔ کیا عمران خان نہیں جانتا کہ نہ حافظ سعید دہشت گردہے اور نہ ہی جماعت الدعوۃ عسکر ی تنظیم۔ بتائیں، حافظ سعید نے کیا دہشت گردی کی ہے؟ حافظ سعید ایک سچا محب وطن پاکستانی، جس پر ہر پاکستانی کو فخر ہے۔ کیا کشمیر کے اوپر بات کرنا، عسکری قیادت کی حمایت میں تن من دھن حاضر رکھنا، دہشت گردی ہے۔ ’’بے غیرت بریگیڈ یا ایسوں کا، جن کا DNA پاکستانی نہیں، ان سے غرض نہیں، باقی ساری قوم حافظ سعید کی مداح ہے۔ پورا ملک جانتا ہے کہ حافظ سعید پیرومرشد کا مرد مومن ہی تو ہے،

؎
قہاری وجباری وقدوسی وجبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

پاکستان کے ہمدردو! اب علامہؒ کے اس شعر کو کلام سے خارج کروانے کی تحریک شروع نہ کر دینا، کہ ’’یہ شعر،جہاد کے زمرے میں آتا ہے، دہشت گردی پر اکسا رہا ہے‘‘۔
کیا بھارتی یا ہمارے میڈیا نے کبھی مودی اور بال ٹھاکرے کے بارے میں بھی ایسا سوال جمع کروایا کہ ’’ایسے دہشت گردوں کو بھارت گرفتار کیوں نہیں کرتا، جیل میں کیوں نہیں ڈالتا‘‘۔ بابری مسجد، سمجھوتہ ایکسرپس اور گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کو عام کرنے میں لکنت کیوں؟موجود بھارتی مشیر برائے قومی سلامتی اجیت کمار دوول جو سات سال ’’انڈر کور‘‘ نہ صرف پاکستان میں گزار گیا بلکہ اسی نامعلوم حیثیت سے چین، برما، سکم، بھوٹان، نیپال میں ات مچائے رکھی۔ آئی بی چیف کی حیثیت سے چند سال پہلے ببانگ دہل فرما گئے کہ ’’اگر ایک بمبئی حملہ اور ہوا تو بلوچستان کو بنگلہ دیش طرز کا ایک علیحدہ ملک بنا دیں گے‘‘۔

اے میرے دانشمند حکمرانو! برق رفتاری شکوک وشبہات پیدا کر چکی ہے۔ دنیا تیزی سے کروٹیں بدل رہی ہے۔ چند سال پہلے روس چین کی چڑھائی اور امریکہ کی پسپائی، ناقابل تصور تھی۔ آج کئی محاذوں پر امریکہ بوریا بستر لپیٹ چکا ہے۔ خوش بختی پکے پکائے پھل کی طرح ہماری گود میں، پاکستان تاریخ کے مضبوط دائیں پہلو میں مقام پا چکا ہے، ہمیں اللہ کی اس نعمت غیرمترقبہ کا بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔ 69 سال سے مسائل کا انبوہ، قوم نیچے دب چکی۔ ان مسائل کی سب سے بڑی وجہ بھارت، قیامت ڈھائے رکھی۔ آخر بھارت سے جڑنے کی مجبوری کیا ہے، عجلت کیوں؟ لگر بگڑ لولا لنگڑا حل، بھارت کو آسودہ حال ہمیں برباد کر جائے گا۔ ایسی تیزی کیوں؟، اگلی نسل پر چھوڑ جائیں وہ ہم سے بہتر حل ڈھونڈ نکالے گی، مفاداتی سیاستدانوں اور دیہاڑی دار دانشوروں سے بچ بچا کر۔ اے میرے قومی رہنمائوں، گو آپ کے حالات، ارادے اور عزائم آشکار ہوچکے، آپ کے حق میں بہتر یہی کہ آہستہ چلنا ہوگا کہ سرخروئی ہمارا مقدر بن چکی۔ بشکریہ روزنامہ"جنگ"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند