تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مغربی میڈیا کو صرف داعش کا جنون
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: پیر 9 ربیع الاول 1437هـ - 21 دسمبر 2015م KSA 22:40 - GMT 19:40
مغربی میڈیا کو صرف داعش کا جنون

دہشت گرد گروپوں کے ساتھ میڈیا خاص طور پر مغربی میڈیا کا رویہ بہت عجیب ہے۔ کچھ دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں کو میڈیا میں بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے جبکہ کچھ دوسرے گروپ جو شاید زیادہ توجہ پانے والے گروپوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کی کارروائیوں کو بہت معمولی یا پھر نا ہونے کے برابر توجہ ملتی ہے۔

مثال کے طور پر تمام بڑے میڈیا ادارے داعش کی سرگرمیوں پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں، لیکن ایران کی پروردہ شیعہ انتہا پسند ملیشیاوں کو جو اسی طرح کی دہشت گرد کارروائیاں کرتی ہیں بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ داعش اور عالمی میڈیا ایک دوسرے کے ساتھ مفادات کے تحفظ کے ایک عجیب و غریب رشتہ میں منسلک ہیں۔ داعش شہرت حاصل کرنے کی لا متناہی بھوک میں مبتلا ہے اور اپنی سرگرمیوں کی درست اور غلط تشہیر کے لئے ہر حد کو پار کرنا چاہتی ہے۔ مغربی میڈیا اسے شہرت حاصل کرنے کے ہر ممکن مواقع فراہم کر دیتا ہے، بدلے میں اپنے ناظرین اور مشتہرین کی تعداد، اور منافع میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے کیونکہ میڈیا نےدنیا بھر کو داعش کے خوف میں مبتلا کر کے اس کی خبروں کا مشتاق بنا دیا ہے۔

اس کے بر عکس کتائب الامام علی (کے آئی اے) جیسا ایرانی پروردہ گروپ جو داعش کی طرح دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہے اور اپنے دشمنوں کے سر قلم کرنے اور ان کو زندہ جلانے کی ویڈیو جاری کرتا ہے، اسے کبھی میڈیا نے نہیں پوچھا۔ ایک اور ایرانی پروردہ ملیشیا 'عصائب اہل الحق 'بھی اسی طرح کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور ایران سے مبینہ طور پر ۲ ملین ڈالر ماہانہ امداد دیتا ہے، مگر یہ میڈیا پر کہیں نظر نہیں آتی۔

داعش کی رپورٹنگ آسان ہے

یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا تن آسانی میں مبتلا ہے اورسچ کی تلاش میں مشکلات اٹھانے کے بجائے آسان کام کرنا چاہتا ہے۔ داعش کے بارے میں بات کرنا بہت آسان ہے جبکہ دوسرے دہشت گرد گروپوں کے بارے میں تحقیق دقت طلب ہے۔ بد قسمتی سے صحافیوں کی اکثریت دوسری قسم کے دہشت گرد گروپوں کے خطرات کے بارے میں آگاہی نہیں رکھتی۔ کے آئی اے اور عصائب اہل الحق کے بارے میں بات کرتے ہوے ایران، عراق اور لبنان کے سیاسی سیٹ اپ سے مکمل آگاہی اور ان گروپوں کے ایرانی پاسداران انقلاب اور دیگر سیاسی جماعتوں سے تعلقات کا ادراک ہونا ضروری ہے۔

داعش میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لئے سخت محنت کرتی ہے اور اس کے لئے درست اور غلط ذمہ داری بھی قبول کرتی ہے، اور سوشل میڈیا پر بھی خاصی دسترس رکھتی ہے۔ مگر ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائیں خفیہ کارروائیاں کرتی ہیں اور ذمہ داری بھی قبول نہیں کرتیں۔ ان ملیشیاوں کا ہدف ریاستوں اور سیاسی اسٹبلشمنٹ کی اعلی سطح تک رسائی حاصل کر کے فیصلہ سازی کے عمل کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ حزب اللہ، لبنان میں اپنے اس ہدف میں کامیاب رہی ہے جبکہ ایرانی پروردہ دیگر شیعہ ملیشیائیں عراق میں ایسے اہداف حاصل چکی ہیں۔

میڈیا کے کچھ ادارے ان ملیشیاوں کو اس لئے جائز سمجھتے ہیں کیونکہ ان کی مالی امداد ایک ریاست (ایران) کرتا ہے۔ ان میں سے اکثر ملیشیائیں براہ راست ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ جب پر تشدد کارروائیاں کرتی ہیں تو ان کو سخت تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا کے ادارے منافع حاصل کرنے کے لئے چلائے جاتے ہیں تاکہ اپنا وجود باقی رکھ سکیں۔ وہ ایسے ہی موضوعات پر لکھتے ہیں جن پر لوگوں کی توجہ ہوتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ناظرین اور قارئین حاصل کر سکیں اور اس طرح بڑی تعداد میں مشتہرین بھی مل جائیں۔ داعش کو زیادہ میڈیا کوریج کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ مشرق وسطی سے باہر کے لوگوں کو نشانہ بناتی ہے۔ امریکااور یورپ کے لوگ سوچتے ہیں کہ جو تنظیم پیرس، لندن، اور سان برنارڈینو جیسے علاقے پر حملہ کر سکتی ہے وہ ایسے حملے دنیا میں کہیں بھی کر سکتی ہے۔

اس حقیقت کے باوجود میڈیا کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ نسبتاً گمنام دہشت گرد گروپوں اور ان کی کاررائیوں کو بھی منظر عام پر لانے کے لئے زیادہ سے زیادہ کوششیں کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند