تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نئی تباہی، پاکستان کی دہلیز پر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 17 رمضان 1440هـ - 22 مئی 2019م
آخری اشاعت: منگل 10 ربیع الاول 1437هـ - 22 دسمبر 2015م KSA 07:59 - GMT 04:59
نئی تباہی، پاکستان کی دہلیز پر

انجینئر مومند افغانستان کے معروف پشتو گلوگار ہیں۔ ان دنوں امریکہ میں مقیم ہیں۔ وہ سابق افغان صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کے عزیز ہیں اور ان کے دور میں کابل ریڈیو کے شعبہ موسیقی کے انچارج تھے۔ کابل پر مجاہدین کے قبضے کے بعد وہ پاکستان ہجرت کرآئے اور اس امید سے کہ ان کی اسی طرح مہمان نوازی ہوگی جس طرح کہ کمیونسٹ دور میں پاکستان کے پشتون قوم پرستوں کی کابل میں ہوا کرتی تھی، وہ بلوچستان کے ان پختون قوم پرستوں کے ہاں پہنچے جو ڈاکٹر نجیب اللہ کے دسترخوان سے خوب مستفید ہوئے تھے۔ لیکن چند روز بعد انہیں اندازہ ہوا کہ ان کے میزبانوں کے تیور بدلے ہوئے ہیں چنانچہ وہ پشاور چلے آئے۔ باری باری ایک ایک اس پختون قوم پرست کو آزمایا جو کمیونسٹ دور میں ان جیسے لوگوں کے ہاں مستقل مہمان رہے تھے لیکن مختصر عرصے میں ان کو سب کی حقیقت کا پتہ چل گیا۔ انجینئر مومند کو بخوبی اندازہ ہوگیا کہ افغانوں کے نام پر سیاست کرنے والے ان پختون قوم پرستوں کو اپنی ذات اور خاندان کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔ چنانچہ مایوس ہو کر وہ ہم جیسے مزدوروں کے پاس آبیٹھے اور خود پشاور میں محنت مزدوری کرنے لگے۔ وہ مجھے رباب سکھانے کی ناکام کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ ہر وقت افغانستان سے متعلق تاریخی قصے اور لطائف سناتے تھے۔ انجینئر مومند افغانوں کی ہجرت اور اس کے دل دہلانے والے اثرات سے متعلق "جاڑی د کابل جینکئی، کابل ئے وروان کڑو" والا پشتو گیت ایسے سوز اور درد کے ساتھ گاتے کہ ہم روئے بغیر نہ رہ سکتے۔ انجینئر مومند جتنا زیادہ ہمیں رلاتے تھے، اس قدر زیادہ لطائف سنا کر ہمیں ہنساتے بھی تھے۔ وہ پختونوں کی صفوں میں بے اتفاقی اور حسد کا اکثر رونا روتے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہ خطہ دوزخ کے کنوئوں میں سے ایک کنواں ہے کہ جس میں ہم سب گر گئے ہیں۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ لکھ کر رکھ دو کہ اس خطے کا کوئی بندہ دوزخ میں نہیں جائے گا۔ میں نے اس یقین کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ افغانستان اور سرحدی پختون پٹی کے باسی عملاً دوزخ میں رہ رہے ہیں اور رب کائنات کبھی ایسا نہیں کریں گے کہ کسی قوم کو اس دنیا میں بھی دوزخ میں رکھیں اور ا ُس دنیا میں بھی۔ اسی طرح وہ اکثر یہ لطیفہ سنایا کرتے کہ ایک ولی اللہ خواب میں دوزخ کا معائنہ کررہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ تمام کنوئوں کے کناروں پر فرشتے کھڑے ہیں اور جو دوزخی نیچے کے ساتھیوں کے تعاون سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو کنارے پر کھڑا فرشتہ ان کو دوبارہ دھکا دے کر نیچے پھینک دیتا ہے لیکن ایک کنواں ایسا تھا کہ اس کے اوپر کوئی فرشتہ تعینات نہیں تھا۔ بزرگ نے وجہ پوچھی تو انہیں بتایا گیا کہ اس میں افغان ہیں۔ ان کی نگرانی کے لئے اس لئے فرشتے کی ضرورت نہیں کہ اگر کوئی نیچے سے ذاتی کوشش کے ذریعے کنارے تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے تو نیچے سے دوسرا اس کی ٹانگ کھینچ کر گرا دیتا ہے۔

میں جب ان دنوں افغانستان، فاٹا اور پختونخوا کے حالات دیکھتا ہوں تو انجینئر مومند کی یہ باتیں بہت یاد آتی ہیں اور اس خطے کے باصلاحیت، محنتی، جفاکش لیکن بدقسمت لوگوں کی حالت پر رونے کو جی چاہتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا اس خطے کے لئے فکر مند ہے لیکن اگر فکر مند نہیں ہے تو خود یہاں کی مقامی قیادت نہیں ہے۔ افغانستان کو دیکھیں تو خود اس کے اندر امن کی کوئی لابی موجود نہیں۔ فریقین کی سیاسی بقا جنگوں کی مرہون منت ہے۔ طالبان اور حزب اسلامی، سیاسی عمل کا حصہ بنتے ہیں تو کابل کے موجودہ حکمرانوں کی حیثیت اور اہمیت صفر ہوجاتی ہے اور جنگ کا خاتمہ ہوتا ہے تو طالبان کے موجودہ جنگی قائدین کی جگہ سیاسی لوگوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ جنگ کی صورت میں کابل کے حکمرانوں کو بھی پیسہ مل رہا ہے اور طالبان کو بھی کئی ممالک سے اسلحہ اور دولت فراہم کی جاتی ہے لیکن امن کی صورت میں ہر ایک کو اپنا آپ بے روزگار نظر آتا ہے ۔ یوں بظاہر دونوں فریق امن کی بات تو بہت کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی اہمیت اور بقا جنگ ہی میں ہے۔ بات افغانی وقار اور شان کی کرتے ہیں لیکن جو ڈاکٹراشرف غنی پوری دنیا کے آگے جھکے رہنے کو تیار ہیں، اپنے افغان طالبان کے آگے جھکنے پر آمادہ نہیں۔ اسی طرح طالبان کی افغانیت اور اسلامیت بیرونی ممالک کے پراکسی بننے سے تو مجروح نہیں ہوتی لیکن اپنی افغان حکومت کے بارے میں وہ بڑے بے لچک بن جاتے ہیں۔ سرحد کے اس پار دیکھ لیجئے۔ اسفند یار ولی خان یوں تو پوری پختون قوم کی سیاست کے دعویدار ہیں اور بیگم نسیم ولی خان کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام پختونوں کی ماں ہیں لیکن ولی باغ کے اندر خان عبدالولی خان کی بیوی اور بیٹا ایک ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔ محمود خان اچکزئی جو آر پار پختونوں کو ایک کرنے کے خواب دکھاتے ہیں، اپنے قبیلے کے مخالفین کو توکوئی رعایت دینے کو تیار نہیں لیکن جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگانے والے میاں نوازشریف کی خاطر چین پاکستان اکنامک کاریڈور کے معاملے پر خاموشی سے ان کی پختون ولی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

پختون قوم پرست قیادت کا ایک ہاتھ قندھار کے کمانڈر کی جیب میں ہوتا ہے اور دوسرا کورکمانڈر کوئٹہ کے ہاتھ میں۔ اسی طرح ایک میاں نواز شریف کے قدموں میں ہوتا ہے اور دوسرا آصف علی زرداری کے کاندھے پر لیکن کوئی عام پختون جب اپنی بقا کی خاطر کسی حکمت اور مصلحت سے کام لیتا ہے تو اسے اپنے لوگوں کی نظروں میں غدار بنا دیتے ہیں۔ دوسری طرف پختون بیلٹ میں سیاست کرنے والے مذہبی سیاسی رہنما ہیں، جو سروں کے سوداگر ہیں۔ ان کی سیاسی دکان گزشتہ تیس سال سے افغانستان کے نام پر چل رہی ہے لیکن ان کے پاس اس خطے کی کسی مشکل کا کوئی علاج نہیں ۔ پہلے انہوںنے جنرل ضیاء الحق کی قیادت میں تمام پختون قوم حتیٰ کہ اپنے ایمان کو سوویت یونین کے مقابلے میں جھونک دیا۔ وہ کہتے تھے کہ بس سوویت یونین نکل جائے تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ سوویت نکلا تو افغانستان تو کیا ساتھ ، پاکستان بھی جہنم بن گیا۔پہلے تو افغان غیروں کے ہاتھوں مرتے رہے لیکن پھر افغان افغان کے ہاتھوں، مسلمان مسلمان کے ہاتھوں اور مجاہد، مجاہد کے ہاتھوں مرنے لگا۔ گزشتہ پندرہ سال ان لوگوں نے عمران خان کے ساتھ مل کر جنرل پرویز مشرف کے ڈبل گیم کو خوب گرم رکھا۔ وہ کہتے رہے کہ بس امریکہ شکست کھا کر نکل جائے تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ آج امریکہ کے نکلنے کا وقت آگیا لیکن اب کسی کے پاس کوئی کلیہ اور کوئی فارمولا نہیں۔ جس دن امریکی افواج نے انخلاء کا شیڈول جاری کیا، اس دن افغانستان میں پراپرٹی کی قیمت پچاس فی صد گر گئی۔ اب تماشا یہ ہے کہ پاکستان میں امریکہ اور افغان حکومت کی ناکامی کا خاموش جشن منایا جارہا ہے لیکن افغانستان پر تباہی کے ایسے بھیانک بادل منڈلا رہے ہیں کہ خاکم بدہن ہم ماضی کی تمام تباہیوں کو بھول جائیں گے۔ سوویت یونین کے انخلاء کے بعد افغانستان میں صرف دو طرح کی تقسیم تھی یعنی اسلامسٹ اور لبرل کمیونسٹ کی لیکن اب اسلامسٹ بھی درجنوں گروہوں میں تقسیم ہیں اور کابل کے حکمران بھی۔ اسلحہ کے انبار اس سے کئی گنازیادہ ہیں جوسوویت انخلاء کے بعد تھے ۔ تب افغانستان میں صرف پاکستان کی لابی تھی، ایران کی یا پھر روس کی لیکن اب کی بار چالیس سے زیادہ ممالک نے اپنے اپنے پراکسی بنا رکھے ہیں ۔ ازبکوں کے دو تین گروپ، تاجکوں کے چار پانچ گروپ، ہزارہ قوم کے خلیلی اور محقق گروپ ۔ پختونوں میں اشرف غنی کا الگ ،حامد کرزئی کا الگ اور اسی طرح کم وبیش ہر اہم شخصیت کا الگ گروپ۔ پھر اسلامسٹ میں طالبان میں ایک ملا اختر منصور کا گروپ ۔ دوسرا ملا رئوف کا گروپ۔ تیسرا ٹی ٹی پی کا گروپ۔ پھر ازبک، پھر چیچن، پھر عرب۔ اسی طرح اب داعش۔ پھر حزب اسلامی۔ غرض اب کی بار سینکڑوں گروپ آپس میں دست وگریبان ہوں گے اور خاکم بدہن گھر گھر لڑائی ہوگی۔

سوویت انخلاء کے بعد کی افغان خانہ جنگی میں لسانی رنگ کم تھا لیکن اب کی بار کی خانہ جنگی میں لسانی اور فرقہ وارانہ عنصر بھی زیادہ ہوگا جبکہ اس لڑائی کو پاکستان منتقل ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا بلکہ دنیا کی کئی طاقتیں اس آگ کو پاکستان منتقل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گی۔ ماشاء اللہ میاں نوازشریف کو ان باتوں کی کوئی فکر نہیں ۔ وہ صرف موٹروے بنارہے ہیں اور جب یہ آگ پشاور اور کوئٹہ پہنچے گی تو پھر ان موٹرویز کے ذریعے اس کے لاہور اور کراچی پہنچنے میں دن نہیں بلکہ چند گھنٹے ہی لگیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عاجز التجائیں کررہا ہے کہ افغان حکومت کی حماقتوں کا جواب دینے کی بجائے ہر قیمت پر افغانستان میں امن لانا، پاکستان کی ضرورت ہے۔ نہ جانے یہ بات ہمیںکب سمجھ آئے گی کہ افغانستان میں استحکام اور امن، افغانستان سے بڑھ کر پاکستان کی ضرورت ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند