تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارتی رویہ اور اسلامی الائنس؟ کنفیوژن نہیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 11 ربیع الاول 1437هـ - 23 دسمبر 2015م KSA 10:14 - GMT 07:14
بھارتی رویہ اور اسلامی الائنس؟ کنفیوژن نہیں

نومبر میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے اہم دورہ واشنگٹن کے بعد اب 16 اور 17دسمبر کو امریکہ اور پاکستان کے دفاعی مشاورتی گروپ کے 24ویں اجلاس کا مشترکہ اعلان بھی سامنے آگیا ہے۔ 9پیراگراف اور 50سطور پر مشتمل اس دو صفحاتی اعلان میں بھی بظاہر کوئی انکشافاتی عبارت نہیں بلکہ اسی پاک امریکہ گروپ کے دسمبر 2014کے اجلاس کے تسلسل میں دوطرفہ تعاون کا اعادہ ہے۔ جس نوعیت کے رسمی اور تعمیری ریمارکس اور بیانات جنرل راحیل شریف کے دورے کے دوران سامنے آئے تھے ویساہی مفید و مثبت الفاظ پر مشتمل بیان دسمبر میں سامنے آیا ہے۔ لیکن وسط نومبر سے وسط دسمبر کے ایام میں عملاً بہت کچھ دیکھنے میں آ رہا ہے اور مخلوق خدایہ جاننے کی متمنی ہے کہ ہماری فوج کے سربراہ کے دورہ واشنگٹن کے کیا مقاصد و نتائج حاصل ہوئے ہیں اور دفاعی مشاورتی گروپ کے اجلاس میں پاکستانی مفادات کے مستقبل کی نوعیت اور سمت کیا متعین کی گئی ہے؟ اگر آپ باریک بینی کے ساتھ بھی دفاعی مشاورتی گروپ کا مشترکہ اعلان پڑھیں تو دونوں ممالک کا اس اشتراک پر اظہار اطمینان اور جاری رکھنے کا فیصلہ متفقہ ہے۔ شمالی بحیرہ عرب کے علاقے میں امن و امان کیلئے پاکستانی قربانیوں اور کوششوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔ باہمی سیکورٹی مفادات کی حفاظت و استحکام اور دہشت گردی کے خلاف تعاون اور مشترکہ اقدامات کا ذکر ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کے طویل قیام اور کوالیشن سپورٹ فنڈ اور سیکورٹی کیلئے معاونت کا ذکر موجود ہے لیکن تفصیلی اور عملی اقدامات کا ذکر نہیں ہے۔ گزشتہ سالوں کی طرح خطے میں سیکورٹی اور استحکام کا ذکر بھی ہے۔ اسی طرح جنرل راحیل شریف کے دورہ واشنگٹن کے دوران بھی ان تمام اہم ملاقاتوں کے بعد یہی خیرمقدمی جملے اور روایتی یکجہتی، مفید ملاقات کے تاثرات کے حامل الفاظ استعمال ہوئے۔ کن امور پر اختلاف رائے برقرار رہا؟ کن معاملات کو فی الحال التواء میں رکھا گیا؟ اور کن پر اتفاق رائے کے بعد نفاذ کیلئے کام شروع کرنا ہوگا؟ اس بارے میں نہ کوئی رہنمائی نہ کوئی تفصیل ملتی ہے۔ جنرل راحیل شریف کے دورے کے بعد اچانک صورتحال کچھ اس طرح تبدیل ہونا شروع ہوئی ہے۔ (1) بھارتی رویے میں لچک اور مذاکرات کی بحالی کے اشارے کنایئے ملنا شروع ہوگئے، (2) 34مسلم ممالک بشمول پاکستان، ترکی و مصر سمیت ایک نئی مشترکہ فورس قائم کی جا رہی ہے جس کا ہیڈ کوارٹر سعودی دارالحکومت ریاض میں ہوگا اور اس فورس کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے۔ (3) پاکستان کی جانب سے ابہام کی حکمت عملی کہ پاکستان اس گلوبل اتحاد میں شامل ہے یا نہیں؟ جبکہ سعودی ترجمان واضح طورپر ترکی اور پاکستان کو داعش اور دہشت گردی کے خلاف اس گلوبل اسلامی اتحاد میں شامل قرار دے چکے ہیں۔ تادم تحریر یہ کنفیوژن برقرار ہےکہ (34) مسلم ممالک پر مشتمل جو ’’گلوبل اسلامی اتحاد‘‘ کی مشترکہ فورس قائم کی جا رہی ہے وہ کیا نوعیت رکھتی ہے کیا ہم اس میں شریک ہیں؟ اس فورس کے آپریشن کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

مختصر الفاظ میں یہ کہنے کی اجازت دیںکہ دہشت گردی کے خلاف گزشتہ 14سال سے جاری جنگ اب ہماری اور مسلم دنیا کی بقاکی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ہمیں اپنی بقا کی یہ جنگ ہر طرح کے کنفیوژن سے نکل کر واضح دوٹوک انداز میں اپنی ترجیحات اور حکمت عملی کو طے کر کے لڑنا ہوگی۔ مبہم خاموش فیصلے اور عمل ہماری موجودہ مشکل صورتحال کو مزید مشکل اور پیچیدہ بنانے کا باعث بنیں گے۔ یہ بھی واضح حقیقت ہے کہ امریکہ مسلم دنیا کے تعاون کے بغیر دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ نہیں جیت سکتا۔ بالخصوص پاکستان کا رول آج بھی انتہائی اہم ہے پاکستان کے بغیر مسلم دنیا کا اپنا دفاع، غیر یقینی اور مخدوش ہے۔ آج کے مشرق وسطیٰ میں کوئی ایک ایسا ملک نہیں جو اپنے تمام تر معاشی وسائل کے باوجود دہشت گردی کی اس جنگ میں خود اپنی بقا اور دفاع کے چیلنج کا سامنا کر سکتا ہو۔ یہ حقیقت تو اب ان ممالک پر بھی واضح ہوچکی جو پاکستان کو ایک غیر عرب ملک قرار دیتے ہوئے پاک بھارت تناظر میں دیکھ کر بھارت کے ساتھ ترجیحی سلوک کرتے رہے ہیں۔ آج انہیں گزشتہ 14سال سے مسلسل دہشت گردی کے خلاف مصروف پاکستان کی ان کے اپنے دفاع و بقاکیلئے ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف 14سالہ جنگ کے اثرات اور ہمارے بعض حکمرانوں کے غلط فیصلوں سے متاثرہ پاکستان اب کنفیوژن اور اپنی استطاعت سے زیادہ فیصلوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ عالمی طاقتوں اور اپنے پڑوسی ممالک سے محض عارضی خوش اخلاقی، ماضی کی قربانیوں کی زبانی تعریف اور اہم رول کے اعترافات پر خوش ہو کر دہشت گردی کی جنگ کے اس دلدل میں مزید قدم اٹھانے کی بجائے پاکستان اپنی بقا کے مفادات کو پورا کرنے کا تقاضا بھی ان ممالک اور قوتوں سے کرے جو اس کو دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر مصروف کار رکھنا چاہتی ہیں۔

عالمی جنگ اور امن دونوں حالتوں میں عالمی ڈپلومیسی اور ’’الائنس‘‘ میں کوئی ’’فری لنچ‘‘ اور اخلاقی تقاضے عملاً وجود نہیں رکھتے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی تاریخ سب کے سامنے ہے بلکہ اس سے قبل بھی وہی اصول کارفرما نظر آتا ہے۔ گزشتہ چند روز سے بھارت کے رویے میں پاکستان کیلئے نرمی کا جو پہلو سامنے آیا ہے اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ دہشت گردی کی جنگ کے اگلے مرحلے میں پھر پاکستان کی ضرورت آن پڑی ہے۔ جس طرح گزشتہ 14 سالوں میں پاکستان کو امن ترقی و خوشحالی اور پڑوسیوں سے تنازعات کے حل کروانے کے وعدوں پر ’’انگیج‘‘ رکھا گیا اور پاکستانی حکمران محض اخلاقی اصولوں، وقار اور زبانی تعریفوں کا حوالہ دیکر اس جنگ کے فوائد حاصل کرنے کی بجائے چند ڈالرز لیکر رضاکارانہ انداز میں جنگ لڑتے رہے آج وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ پڑوسی بھارت نے دہشت گردی کی جنگ سے خود کو دور رکھ کر بھی وہ تمام مراعات و فوائد حاصل کئے جو پاکستانی حکمرانوں کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھے۔ آج جب دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ہمیں محض زبانی یقین دہانیوں، وعدوں، ماضی کی قربانیوں کے اعترافات اور بھارت کے وقتی نرم رویے سے متاثر ہو کر فیصلے کرنے کی بجائے واضح اور دوٹوک عملی فیصلوں کی ضرورت ہے۔ بھارت کے وقتی نرم رویئے اور ڈائیلاگ کیلئے اشاروں پر مچلنے اور کامیابی کے خیال کی بجائے عالمی طاقتوں کو 14سال قبل کے وعدے یاد دلاکر پاک بھارت تنازعات کے حل کی جانب عمل کا مطالبہ بھارت کے حامیوں اور سرپرستوں سے کرنا ضروری ہے۔ ورنہ وقت گزرنے کے بعد پھر بھارت پاکستان دشمنی کی پالیسی اختیار کرلے گا۔ امریکہ اس وقت انتخابی سیاست کے دبائو میں ہے لیکن صدر اوباما اپنے انتظامی اختیارات کی رینج میں رہ کر پاک بھارت تنازعات کے حل کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ایک لازمی ضرورت قرار دے کر بھارت پر عالمی دبائو بڑھا سکتے ہیں کہ ایسا کرنے سے پاکستان اور بھارت میں تعاون اور دوستی دہشت گردی کی حوصلہ شکنی کرے گی۔ بھارت امریکی دوستوں کے کہنے پر پاکستان کو وقتی طور پر ’’انگیج‘‘ رکھنے کیلئے اچانک نرم رویہ اختیار کر رہا ہے۔ خود صدر ریگن کا مشہور سلوگن تھا کہ ’’بھروسہ کرو مگر تصدیق کرلو‘‘ (TRUST BUT VARIFY)۔ کنفیوژن اور زبانی خفیہ وعدوں اور یقین دہانیوں کی بجائے ہوش مندی اور عملیت کے ساتھ قومی مفادات کے تحفظ و حصول کی بنیاد پر واضح فیصلوں کی ضرورت ہے ورنہ ہم ماضی کی طرح حال اور مستقبل میں بھی مشکلات کا شکار رہیں گے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند