تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 11 ربیع الاول 1437هـ - 23 دسمبر 2015م KSA 10:16 - GMT 07:16
زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا

خاموشی سے، کسی اعلان یاشور شرابے کے بغیر ہم نے خود پر مسلط کردہ ایک حماقت اتار پھینکی ہے۔ اب آپ اسلام کے اس قلعے میں کسی پراکسی کے بغیر یوٹیوب تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ایک کلک، اور یوٹیوب کی حیرت انگیز دنیا آپ کے سامنے۔ ہوسکتا ہے دنیا کے دیگر حصوں میں مقیم افراد کے لیے یوٹیوب کھلنے پر ہماری خوشی قابل ِفہم نہ ہو ، اگراُنہیں اس محرومی کی اذیت سے گزرنا پڑتا تو ہی بحالی کے لطف کا اندازہ ہوتا۔ یوٹیوب پر پابندی یقینا بہت تکلیف دہ تھی۔اس کے مشتاق یقیناََ کو پراکسی استعمال کرتے ہوئے ’’راہ و رسم‘‘ نکال ہی لیتے لیکن اس میں دیر بھی لگتی اور اکثر سلسلہ منقطع ہوجاتا، اور آپ کو دوبارہ مشق کا آغاز کرنا پڑتا۔باقی دنیا کامعمول دنیا کے ہمارے حصے میں اتنا بھاری پتھر بن چکا تھا کہ اسے اٹھانے، یعنی پابندی کھولنے، میں موجودہ حکومت کوڈھائی سال لگ گئے۔ تاہم اچھی بات ہے، اب کہنا پڑے گا، ’دیر آید ، درست آید‘۔

شکر ہے کہ بعض آتش دہن علما نہ گرجے نہ برسے، حامل ِ تقدیس و صاحبان ِ جبہ و دستارمنبر پر شعلہ فگن ہوئے اور نہ ہی طوفانی جذبات کا قلزم گلیوں میں موجزن دکھائی دیا، دفاع ِ پاکستان کونسل ، اسلامی نظریاتی کونسل ، قبلہ حافظ سعید، سب مہر بہ لب، کوئی تنقید نہ مذمت ، یوٹیوب کھل گئی اور کوئی آسمان نہ گرا۔ تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ یوٹیوب پر پابندی کیوں لگائی گئی تھی؟یہ مانا کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر کیلی فورنیا کے کسی احمق اور انتہاپسند کی بنائی گئی ایک اشتعال انگیز فلم کے حوالے سے احتجاج ہورہا تھا۔ درست، لیکن اُنہیں کس نے مجبور کیا تھا کہ وہ انٹر نیٹ پر ایسی فلم دیکھیں؟میں نے یہ توہین آمیز فلم کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی دیکھوںگا۔ انٹر نیٹ پربہت سا اشتعال انگیز مواد ہے، فحش فلمیں، جرائم، بیہودگی، تشدد، قتل و غارت، لیکن کیا کوئی مجبور کرتا ہے کہ اسے دیکھا جائے؟۔ چنانچہ قصور کس کا ہے؟ فحش اور اشتعال انگیز فلمیں بنانے والوں کا یا انہیں دیکھنے والوں کا؟

کچھ ایسی ویب سائٹس ہیںجن تک چین یا دبئی یادیگر مقامات سے رسائی حاصل نہیں کی جاسکتی، لیکن ہم گھن کے ساتھ گندم بھی پھینک دیتے ہیں۔ اگر کوئی ایسا مواد ہے جو ہمیں ناپسند ہے یا ہمارے احساسات مجروح کرتا ہے ہمیں اُس مواد کو دیکھنے سے پرہیز کرنا چاہیے ، لیکن ہم پور ے چینل کوہی بند کردیتے ہیں۔ یوٹیوب پر پابندی پہلی مرتبہ راجہ پرویز اشرف کے دور میں لگی تھی، لیکن حکومت ملنے کے بعد پی ایم ایل (ن) بھی اسے نہ ہٹاسکی ، یہاں تک کہ ڈھائی سال گزر گئے۔ یہ صورت ِحال میڈیا کو بھی دعوت ِفکر دیتی ہے۔ پی پی پی حکومت میں مختصر مدت کے لیے پابندی ہٹائی گئی لیکن جیسا ہی ایسا کیا گیا، بعض ا ہم ٹی وی چینلز ، نام لینے کی ضرورت نہیں نے اپنی ہیڈلائنز میںاعلان کردیا کہ اشتعال انگیز فلم دیکھی جاسکتی ہے۔ چونکہ پی پی پی کی حکومت کی کارکردگی صفر تھی اور پھر اس پر ہرسمت سے چڑھائی کی جارہی تھی تو اس کے پاس اس کے سوا اور کوئی آپشن نہ تھا کہ وہ یوٹیوب پر پابندی لگا کر احتجاج کرنے والے حلقوں کو خوش کردے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں پہلے ہی حماقت اور جنونیت کی کمی ہے جو میڈیا اتنی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔

یوٹیوب مجھے والہانہ خوشی دیتی ہے کیونکہ میں اس پر ایسا مواد دیکھ اور سن سکتا ہوں جو عام طور پر دستیاب نہیں ہوتا۔ مجھے یاد ہے کہ اپنی جوانی کے زمانے میں جب مغربی کلاسیکی موسیقی سننے کا کوئی ذریعہ میسر نہ تھا سوائے اس کے کہ آپ کسی بیرونی ملک میں سفر کررہے ہوں، گو اُن دنوں بیرونی دنیا کا سفر بھی آسان نہ تھا، تو آپ خوش قسمتی سے کہیں چند ایک ریکارڈ خریدسکتے تھے۔ اُن دنوں کس نے اوپیرا یا بلیٹ سنا ہوگا؟لیکن انسانی ذہن کی اختراعی صلاحیت کے کیا کہنے کہ اس نے ناقابل ِ تصور علم ، کتابوں ، موسیقی ،فن اور عجائبات کا خزانہ ایک کلک کے فاصلے پر کر دیا ہے۔ یہ سب کچھ گزشتہ دہائی کے دوران ممکن ہوا۔ آج گائوں اور دیہات میں بھی تیز رفتار انٹر نیٹ کنکشن دستیاب ہیں۔

ایک وقت تھا ، اور اس میں زیادہ عرصہ نہیں گزرا،جب ایک صحافی کے لیے ضروری تھا کہ وہ صرف کسی بڑے شہر سے ہی ہو ورنہ آپ اپنا مواد اپنے رسالے یا اخبار کو نہیں بھیج سکتے تھے۔ جب میں ’’ویو پوائنٹ ‘‘ کے لیے اپنا ہفتہ وار کالم لکھا کرتا تھا تو ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی دوسری دنیا کی باتیں ہیں۔ یہ میگزین لاہور سے مظہر علی خان مرحوم نکالتے تھے۔ مظہر علی خان صاحب ایوب کے مارشل لا سے پہلے پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر تھے۔ میں اسے ہاتھ سے لکھتا، پھر ٹائپ کرتا ، اور بعض اوقات دو یا تین مرتبہ ٹائپ کرنا پڑتا۔ اس کے بعد میں بھاگم بھاگ آب پارہ جاکر اسے پوسٹ کرتا تاکہ یہ اگلے دن لاہور پہنچ سکے۔ آج میں اپنے گائوں میں بھی بیٹھ کر پوری دنیا کے ساتھ مواصلاتی رابطے میں رہتا ہوں۔ یہ انقلابی پیش رفت ہماری زندگی میں ہی ممکن ہوئی ہے۔

ضروری نہیں کہ اس ترقی کے تمام پہلو اچھے ہوں، اور ہمیں اس بات میں بہت واضح رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس بات کی بھی پروا نہیں کہ دنیا کے دیگر انسان کیا کررہے ہیں۔ یہ دنیا اس کائنات میں ہمارا واحد گھر ہے،اور ہم نے اس کا کیا حشر کردیا ہے؟ہم نے اس کے عظیم سمندر اور دریاخراب کردئیے ہیں ، اپنے ماحول کو ناقابل ِتلافی نقصان پہنچا دیا ہے۔ بڑے شہروں، جیسا کہ بیجنگ اور دہلی پرچھائے ہوئے دھوئیں کے بادل دیکھیں، سانس لینا دشوار ہوچکا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، ہم نے کاربن فیول جلا جلا کر ماحول کو خطرناک آلودگی سے بھر دیا ہے۔ گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، سمندر کی سطح بلندہورہی ہے، شمالی پول کی برف اتنی تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے کہ سائنسدان بھی درست پیش گوئی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

یہ سائنسی ترقی کا تاریک پہلو ہے، لیکن اس کے باوجود اس نے انسان کے لیے ایک نئی دنیا آباد کردی ہے۔ انٹر نیٹ ایک ایسا عجوبہ ہے جس نے مواصلات اور معلومات کی دنیا کو معجزانہ حد تک تبدیل کردیا ہے، تاہم اس میں برائی کا پہلو بھی پوری توانائی سے موجود ہے۔ اس کی وجہ سے ہم ایسی حیرت انگیز چیزیں دیکھ سکتے ہیں جو دنیا کے ہمارے حصے میں ممکن نہ تھیں۔ روسی تھیٹر کا یہاں خواب بھی نہیں دیکھا جاسکتا تھا۔ اگر آپ کسی چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں بھی رہتے ہوں اور اگر آپ کے پاس انٹر نیٹ کنکشن ہے تو آپ ماضی کے عظیم فنکاروں کی پرفارمنس دیکھ سکتے ہیں۔ یہ آپ کی تفریح ہی نہیں ، معلومات کا عظیم خزانہ بھی ہے۔ذرا سوچیں، کمپیوٹر کس نے ایجاد کیا، انٹر نیٹ کی اختراع کس نے کی؟ اور اس کے ساتھ ہی دھیان دیں کہ ہم پاکستان میں کس جال میں جکڑے ہوئے ہیں؟یوٹیوب پر پابندی لگانا نری حماقت تھی، اس کا ہمیں کوئی فائدہ نہ ہوا۔ یقینا سماجی برائیوں کی گنجائش نہیں ہوتی ، لیکن انسانوں کی اخلاقی چوکیداری کی بھی ایک مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں نکلتی۔

بہرحال یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ایک طرف جہاں تحریک ِطالبان پاکستان کو شکست ہورہی ہے اور کراچی ایک مختلف شہردکھائی دیتا ہے تو ہم نے ایک قدم آگے بڑھا کر یوٹیوب بھی کھول دی ہے۔ فوجی آپریشن نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ یقینا ہماری تمام مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں، ابھی بعض قوانین بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں اور ا ن کی وجہ سے بھی شخصی آزادی متاثر ہورہی ہے۔ بہرحال یوٹیوب کا کھلنا ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند