تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
؎یہ بازی اِکے والا ہی جیتے گا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 16 ربیع الاول 1437هـ - 28 دسمبر 2015م KSA 10:26 - GMT 07:26
؎یہ بازی اِکے والا ہی جیتے گا

یہ دنیا کی تاریخ رہی ہے اور اسے کوئی جھٹلا بھی نہیں سکتا کہ دنیا میں سرحدیں کبھی مستقل نہیں رہیں اور یہ تاریخ اُس وقت ایک اٹل حقیقت کی صورت میں سامنے آتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ جغرافیائی اور نسلی و قومی بنیادوں پر تشکیل پانے والے ممالک کے دعوؤں کے برعکس تھوڑے تھوڑے عرصے بعد دنیا کے ہر ملک کی سرحدیں کسی ناں کسی حوالے سے تبدیل ہو جاتی ہیں۔ سرحدوں کی تبدیلی کا یہ عمل کبھی سلطنتوں اور ملکوں کی وسعت اور توسیع کی صورت میں سامنے آیا تو کبھی سلطنتوں اور ریاستوں کی شکست و ریخت، پسپائی، زوال اور ٹوٹ پھوٹ کے عمل کی صورت میں نمودار ہوا۔ اگرچہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سرحدوں کی تبدیلی کا عمل قدرے سُست ہوگیا لیکن یہ عمل مکمل طور پر رُکا نہیں۔ یورپ نے تو تبدیلی کے اِس عمل پر اِس طرح قابو پانے کی کوشش کی کہ سرے سے سرحدوں کا تصور ہی ختم کر دیا اور یوں مغرب میں سرحدوں کی تبدیلی کا عمل بے معنی کرنے کی اپنی سی کوشش کی گئی، لیکن ایشیا اور افریقہ میں مضبوط سرحدوں پر مختلف ممالک کے اصرار کی وجہ سے سرحدوں کا تبدیلی کا عمل رُک نہ پایا۔ مثال کے طور پر مشرق وسطی میں آج جو کچھ ہو رہا ہے اور لبنان سے لے کریمن تک، عراق سے لے کر شام تک اور لیبیا سے لے کر سوڈان تک جارحیت، جنگوں اور خانہ جنگی کے نتیجے میں جو جغرافیائی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں اور ان تبدیلیوں کے نتیجے میں جو صورت حال سامنے آ رہی ہے، وہ اس تبدیلی سے ہرگز کچھ مختلف نہیں ہے جو سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد وسطی ایشیا میں سامنے آئی۔ اگرچہ سرحدوں کی تبدیلی کا اِسی طرح کا عمل جنوبی ایشیا میں دہرانے کا خواب بھی دیکھا جا رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ خواب کچھ ایسا نیا بھی نہیں ہے بلکہ اِس خواب کی بنیاد دو سو سال پہلے ’’گریٹ گیم‘‘ کی صورت میں رکھ دی گئی تھی۔

دراصل تقسیم ہندوستان سے پہلے برطانیہ کو ہر وقت یہ فکر لاحق رہتی تھی کہ شمال مغربی سرحد پر روس کا اقتدار نہ بڑھ جائے یا خود افغانستان کی حکومت شمال مغربی سرحدی صوبہ کے اندر گڑبڑ پیدا نہ کرا دے، اِنہی اندیشوں اور خدشات سے نجات حاصل کرنے کیلئے وائسرائے ہند نے انیسویں صدی کی آخری دہائی میں والی افغانستان امیر عبدالرحمن خان سے خط و کتابت اور مراسلت کا آغاز کیا۔ امیر عبدالرحمن کی دعوت پر ہندوستان کا اُس وقت کا وزیر امور خارجہ ماٹیمر ڈیورنڈ ستمبر 1893ء میں کابل پہنچا اور نومبر 1893ء میں دونوں حکومتوں کے مابین 100 سال کیلئے ایک ’’سرحدی معاہدہ‘‘ طے پاگیا، اس معاہدہ کے نتیجے میں افغانستان اور برطانوی ہند کے درمیان سرحد کا تعین کر دیا گیا۔ یہ معاہدہ ڈیورنڈ لائن (Durand Line) یا خط ڈیورنڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 14 اگست 1947ء کو تقسیم ہند کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا تو پاکستانی حکومت نے بھی اِس معاہدے کو جوں کا توں برقرار رکھا، لیکن دوسری جانب کابل کی حکومت نے ناصرف پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا بلکہ سو سالہ معاہدے اور ’’خط ڈیورنڈ‘‘ کی موجودہ حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کے ساتھ ساتھ یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ دریائے اٹک تک کا علاقہ کابل کی فرماں روائی میں شامل ہے۔ یہیں سے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی کا آغاز ہوا جو آج تک کسی ناں کسی صورت میں برقرار ہے۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہت اتار چڑھاؤ آئے، افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت کے بعد پاکستان نے ناصرف افغان مجاہدین کو مکمل سپورٹ کیا بلکہ تین دہائیوں تک پینتیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کا بوجھ بھی اٹھایا لیکن دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ ممکن نہ ہو سکا، حد تو یہ ہے کہ اِس کشیدگی کو تین دہائیوں تک پینتیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی جیسا عظیم کام بھی ختم نہ کر سکا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کی بنیادی وجہ افغانستان کی احسان فراموشی اورمعاہدوں سے منحرف ہونا ہے، افغانستان صرف ڈیورنڈ لائن جیسے معاہدے سے ہی منحرف نہیں ہوا بلکہ افغانستان نے اِس طرح کے کئی دیگر معاہدوں کی بھی پاسداری نہیں کی۔

یہ معاہدے صرف افغانستان میں موجود پاکستان مخالفین نے ہی نہیں توڑے بلکہ پاکستان کے حمایتی افغانیوں نے بھی کچھ کم نہیں کیا، حد تو یہ ہے کہ افغانستان سے سوویت یونین کی واپسی کے بعد ’’مجاہد‘‘ تنظیموں نے بھی کئی معاہدوں کا پاس نہ کیا۔ اِن میں سے کچھ معاہدے تو مکہ المکرمہ جیسے مقدس شہر میں بیٹھ کر بھی ہوئے۔ اس معاہدہ شکنی کا کوئی فائدہ افغانوں کو ہُوا نہ ہی پاکستان یا خطے کے دیگر ممالک اِس سے فائدہ اٹھا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے دشمن ہوں یا دوست، ان میں کوئی بھی ڈیورنڈ لائن کو سرحد تسلیم کرنے پر دل سے راضی نہیں ہوا، افغان بنیادی طور پر آج بھی بشمول خیبر پی کے، قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کے ایک بڑے حصے کو افغانستان کا حصہ قرار دیتے ہیں اور اِن علاقوں کو افغانستان میں شامل کرنے کیلئے افغانیوں نے کئی تحریکیں بھی چلائیں ، جن میں پشتونستان تحریک کافی عرصہ تک جاری رہی، لیکن پاکستان افغانستان کے اس دعوے بالکل مسترد کرتا ہے کہ یہ علاقے ہرگز پاکستان کے سوا کسی دوسرے کے نہیں ہو سکتے اور یہ کہ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے جو اپنے کسی بھی حصے کو کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کرے گا۔ قارئین کرام! حقیقت تو یہ ہے کہ بات اب ڈیورنڈ لائن سے بھی بہت آگے بڑھ چکی ہے لیکن افغانستان ابھی تک ماضی میں زندہ ہے، سرحدوں کی تبدیلی کے خواب دیکھے والے یہ نہیں سمجھ رہے کہ سرحدوں کی تبدیلی اگرچہ ایک اٹل حقیقت ہے لیکن یہ اٹل حقیقت دوسرے ملک کی شکست و ریخت کی صورت میں ہی نمودار نہیں ہوگی بلکہ اُن کے اپنے ملک کی سکڑنے اور ٹوٹنے کی صورت میں بھی نئی سرحدیں تشکیل پا سکتی ہیں، اس لیے بقائے باہمی کے اصول پر عمل کرنے سے ہی سرحدوں کی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم سے کم کر سکتا ہے۔ اتوار کے روز آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے دورہ کابل میں بھی افغان سرکار کو یہی سمجھانے کی کوشش کی۔ جنرل راحیل شریف نے اپنے ایک روزہ دورے میں کابل میں ناصرف افغانستان کی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کیں بلکہ فوجی قیادت سے ملاقات میں بھی یہ اٹل حقیقت باور کرائی کہ افغانستان پشتون آبادی کے ترپ کے جس پتے پر ساری بازی کھیل رہا تھا، اُس کا اِکا (طالبان) اب کابل کے پاس نہیں ہے۔ ایسے میں بازی کھیلنے کا فائدہ کیا ہوا؟ ایسے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی افغان پارلیمنٹ کی عمارت سمیت افغانستان میں چاہے جتنے مرضی ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر لیں لیکن چیف آف آرمی سٹاف کے دورہ کابل سے یقیناً افغان سرکار کو ایک بات تو سمجھ میں آ گئی ہو گی کہ خطے میں جاری اِس گریٹ گیم میں مخالف کھلاڑی جتنا مرضی چالاک، پھرتیلا اور ہوشیار ہو لیکن یہ بازی اِکے والاہی جیتے گا!

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'
----------------------------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند