تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
داعش کے پروپیگنڈے کو سنسر نہ کرنے کی پانچ وجوہات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 19 ربیع الاول 1437هـ - 31 دسمبر 2015م KSA 08:56 - GMT 05:56
داعش کے پروپیگنڈے کو سنسر نہ کرنے کی پانچ وجوہات

ہم مغرب میں رہنے والوں کو جب بھی اپنے کلچر یا طرز زندگی کے لئے کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے تو ہم خود کو ایک ’آزاد دنیا‘ قرار دینا پسند کرتے ہیں، ایک ثقافتی کائنات جہاں فرد کی شخصی، اظہار اور ضمیر کی آزادی سب سے مقدم ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تصور اپنی خوبیاں خود ہی بیان کرتا ہے۔ تاہم یہ ہم پر حملوں کی گنجائش بھی چھوڑتا ہے کیونکہ اس کے تحت ہمیں ان لوگوں کہ بھی برابر کا پلیٹ فارم دینا ہوتا ہے جو ہماری آزادیاں چھینّا چاہتے ہیں۔ جب سے آزاد خیالی کا تصور وجود میں آیا ہے اس کا بنیادی مسئلہ یہی رہا ہے۔ لیکن آج داعش ہماری آزاد خیالی کی اقدار کو لاحق بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔

عالمی دہشت گردوں کی تاریخ میں غالباً داعش کے پاس سب سے پڑی میڈیا اور پروپیگنڈا مشینری ہے۔ اس کا انگریزی زبان کا میگزین ہے، یہ اہم تقاریر کئی زبانوں میں انٹرنیٹ پر جاری کرتی ہے، اور اس کا ٹویٹر اکاؤنٹ کئی زبانوں مثلاً انگریزی، عربی، فرانسیسی، اورجرمن وغیرہ میں ٹویٹر پیغامات جاری کرتا ہے جن کو ہزاروں فالوورز اس کی بنائی ہوئی اپلیکیشن ڈاؤن لوٹ کر کے بیک وقت ری۔ٹویٹ کر دیتے ہیں جس سے سوشل میڈیا پر اس کے پیغامات کی بھر مار ہو جاتی ہے۔ یہ ساؤنڈ کلاؤڈ پر آڈیو، انسٹاگرام پر تصاویر، اور واٹس ایپ کے ذریعے گرافکس اور امیجز جاری کرتی ہے اور جب اس کے اکاؤنٹس کو بلاک یا ہیک کیا جاتا ہے تو وہ نئے بنا لیتے ہیں۔

داعش سوشل میڈیا پر اپنے بیانات نشر کرنے میں بہت ماہر ہے اور مغربی ممالک کے مسلمانوں کے لئے ان کی زبانوں میں اور عرب ممالک کے لئے عربی میں پیغامات جاری کرتی ہے۔ اور یہ سلسلہ صرف ٹویٹ اور شذرات تک ہی محدود نہیں بلکہ وسیع النظر ناظرین کے لئے فل لینتھ فلمیں اور دستاویزی فلمیں بھی بنائی جاتی ہیں۔ یہ دور ان دنوں سے بہت آگے کا ہے جب اسامہ بن لادن کیمرے کے سامنے پیغام ریکارڈ کراکے میڈیا کو جاری کرتا تھا۔

اس پر مستزاد یہ کہ مغربی میڈیا کے ادارے داعش کے تمام جرائم اور مظالم، اور اس کے جاری کردہ بیانات معمول کے طور پر نشر کرتے ہیں، جس سے داعش کو مفت کی تشہیر اور خود کو ایک ’برانڈ‘ کے طور پر قائم کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ داعش اب اسلامی دہشت گردی کے لئے ایک گھریلو برانڈ بن چکا ہے اور مغربی اور عرب دنیا میں الگ تھلگ اور انتہا پسند نوجوان مرد اور عورتیں کسی دوسرے گروپ کے بجائے اس میں شامل ہونا پسند کرتے ہیں۔ داعش اس کو بھی یقینی بناتا ہے کہ دوسرے ممالک میں کام کرنے والے جہادی گروپ اس سے وفاداری کا اعلان کریں اور اپنی کارروائیوں کو اس کے ساتھ مربوط کریں، جو محض علامتی وفاداری سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

میڈیا کی توجہ کا مرکز

ان حالات میں میڈیا سے داعش کی کوریج میں کمی کے بڑھتے ہوئے مطالبات قابل فہم ہیں۔ جب دہشت گرد اپنی کارروائیاں کرتے ہیں جیسے پیرس کے حالیہ حملے تھے، تو وہ میڈیا کی توجہ کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ کھینچتے ہیں۔ اس کا بہترین جواب یہی لگتا ہے کہ کم از کم ان کو اس تشہیر سے محروم کر دیا جائے جو وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ یہ ایک غلط رد عمل ہے۔

اول تو داعش کو اس طرح سے سنسر کرنا قابل عمل نہیں ہے۔ یہ مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ اخبارات اور ٹی وہ چینل ایسے معاملات کی کوریج کم کردیں لیکن اس سے سوشل میڈیا، بلاگز اور ضوابط سے باہر انٹر نیٹ کے شعبوں میں بحث کا میدان کھل جائے گا۔ داعش کا ان میدانوں پر قبضہ برقرار رہے گا سوائے ان ویب سائٹس کے جو داعش کے مواد کی سخت جانچ پڑتال کرتی ہیں۔

دوئم، داعش کی میڈیا کوریج کو محدود کر کے مغربی ممالک کے لوگوں کو انتہا پسند بنانے کی اس کی صلاحیت کو کم کیا جاسکتا ہے، مگر نائن الیون کے بعد سے انتہا پسندی کے رجحان کے عالمانہ مشاہدے کی رو سے یہ غلط حکمت عملی ہے۔ لوگ ٹی وی کی خبریں اور داعش کے پیغامات اور سر قلم کرنے کی ویڈیو دیکھ کر دہشت گرد نہیں بنتے بلکہ اس کے برعکس لوگ اس وقت دہشت گردی پر مائل ہوتے ہیں جب وہ کلچر کے مرکزی دھارے سے الگ تھلگ ہو جاتے ہیں اور ہم خیال چھوٹے گروپوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ان حالات میں وہ مرکزی کلچر اور بیانیہ کو مسترد کر کے آن لائن اور دیگر زرائع سےحاصل کردہ جہادی بیانیہ کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ لیکن ایسے بیانیہ کی مرکزی کلچر سے تنقید اور تردید کے ذریعے اس رجحان کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔

سوئم، سنسرشپ آزادی اظہار کے خلاف ایک خطرناک مثال قائم کردے گی جس کے مطابق اگر دشمن بہترین ذرائع سے پروپیگنڈا کرے تو اس کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس کو بند کر دینا ہی بہتر ہے۔

چہارم، میڈیا رپورٹنگ اور کوریج کو محدود کرنے کا مطلب ہوگا کہ عوام داعش کے بارے میں معلومات سے محروم رہیں اور اس کے خلاف جدوجہد ایک کمتر درجے کا کام بن کر رہ جائے گی۔ اس طرح لیڈروں کو داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے عوامی حمایت حاصل کرنے میں مشکلات بڑھ جائیں گی اور اس کے خلاف انٹیلی جنس، فوجی اور اقتصادی اقدامات کے لئے بھی حمایت کم ہوتی جائے گی۔

آخر میں، یہ لڑائی اصولوں اور ضمیر کا معاملہ رہنی چاہئے۔ اگر ہم آزادی خیال اور آزادی اظہار کے علمبردار ہیں تو حکومتی سنسرشپ کا کوئی جواز نہیں اور میڈیا سے از خود سنسرشپ کا مطالبہ بھی اتنا ہی مشکوک ہونا چاہئے۔ بطور آزاد خیال ہمارا اکثر یہ یقین ہوتا ہے کہ عقلی بحث و مباحثے کے نتیجے میں جہالت، نفرت، تعصبات اور تشدد کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ غلط بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن جب ہم جانتے ہیں کہ لوگ کیوں انتہا پسندی اور دہشت گردی پر مائل ہوتے ہیں تو اس کی بنیاد بننے والے نظریات کو شکست دینے کا بہترین طریقہ ان کو نظرانداز کرنا نہیں بلکہ ان کا مقابلہ کرنا ہے اور ان کو اخلاقی وضاحت اور بصیرت کے ساتھ مسترد کرنا ہے۔

ہم سب کو اور میڈیا کو ہر حال میں اس چیلنج کا دو بدو مقابلہ کرنا چاہئے۔ ہمیں اسلام کا مطالعہ کرنا چاہئے، اور ان محرکات کا مطالعہ کرنا چاہئے جو لوگوں کو جہادی بناتے ہیں، اور دہشت گردوں کو انہی کے طریقوں اور اقدار کے ذریعے للکارنا چاہیے جنہیں وہ فروغ دینا چاہتے ہیں۔ انتہا پسندی کے تدارک کے لئے سعودی عرب اور انڈونیشیا کے پروگرام یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام ازم کا بہترین تریاق خود اسلام ہی ہے۔
--------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند