تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مودی کا دورہ لاہور: نئی شروعات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 18 ربیع الاول 1437هـ - 30 دسمبر 2015م KSA 11:12 - GMT 08:12
مودی کا دورہ لاہور: نئی شروعات

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ لاہور کے بارے میں کئی طرح کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ پاکستان کے امن پسند حلقے مودی کے دورے کی تعریف کر رہے ہیں اور انہوں نے اس سے کافی امیدیں وابستہ کر لی ہیں لیکن قدامت پرست دھڑے اس میں کیڑے نکال رہے ہیں۔ یہ وہی قدامت پرست حلقے ہیں جو طالبان کی تباہ کاریوں کے حق میں جواز پیش کرتے تھے اور فوجی آپریشن کے خلاف ہر طرح کی دلیلیں ڈھونڈ کر لاتے تھے۔ پاکستانی عسکری قیادت نے ان قدامت پرست نظریہ سازوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ضرب عضب کا آغاز کیا اور کامیابی سے ملک بھر سے دہشت گردوں کا صفایا کرنا شروع کیا۔ اب انہی قدامت پرست حلقوں کی خواہش ہے کہ پاکستان اور ہندوستان حالت جنگ میں رہیں تاکہ ان کا نفرت کا کاروبار جاری رہے۔

مثبت بات یہ ہے کہ سوائے جماعت اسلامی کے پاکستان کی ساری بڑی سیاسی پارٹیوں نے مودی کے دورے کا خیر مقدم کیا ہے۔ عالمی سطح پر بھی چین سمیت تمام بڑی طاقتوں نے پاک ہند تعلقات میں ہونے والی اس پیش رفت پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے عوام کی اکثریت بھی مودی کے انداز مہمانی سے خوش نظر آتی ہے۔ فوج کی طرف سے بھی تحفظات کا اظہار نہیں کیا گیا کیونکہ وہ بھی مشرقی سرحد پر امن کی طالب ہے اور آئے دن کی چاند ماری سے نالاں ہے۔ غرضیکہ قومی اور عالمی حلقوں میں مودی کا دورہ لاہور پاک ہند تعلقات میں نئی شروعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مودی کے دورے کا پس منظر نہایت اہم ہے۔ ریاست بہار میں بی جے پی کی بری طرح شکست کے بعد نریندر مودی کو یہ احساس ہو گیا ہو گا کہ ان کی پاکستان دشمنی کی سیاست ملک کے اندر بار آور نہیں ہے۔ ہندوستان میں دانشوروں اور فنکاروں کا بی جے پی کی اقلیت دشمن پالیسیوں پر احتجاج بھی حکومت کی بدنامی کا سبب بن رہا تھا درجنوں دانشوروں اور فنکاروں نے اپنے تمغے واپس کر دئیے تھے۔ کہا جا سکتا ہے کہ بی جے پی اور اس کے رہنما وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا امیج ٹھیک کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہو گی اور اسی لئے انہوں نے پیرس میں میاں نواز شریف سے مختصر ملاقات میں مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دے دیا۔

غالب امکان ہے کہ ہندوستان کو پاکستان کی سنجیدگی کا یقین جنرل ناصر جنجوعہ نے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی امور کے مشیران کے مذاکرات کے دوران کرایا ہو گا۔ ہندوستان کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہو گی کہ پاکستانی فوج بھی تعلقات کو بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اسی یقین دہانی کے نتیجے میں ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج 'ہارٹ آف ایشیا' کانفرنس میں شمولیت کے لئے اسلام آباد تشریف لائیں۔ اور اب مودی کے دورہ لاہور میں طے ہو گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹری 15 جنوری کو اسلام آباد میں ملاقات کریں گے اور جامع مذاکرات کے مختلف حصوں پر عملی تدابیر کا شیڈول طے کریں گے۔ اگر ممبئی کی طرح کا کوئی دہشت گردی کا واقعہ پیش نہیں آتا (جس کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں) تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔

مودی دورے کے معترضین کا کہنا ہے کہ یہ مودی نواز ذاتی مراسم کا سلسلہ ہے جس کا دونوں ملکوں کے درمیان بگڑے ہوئے تعلقات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پھر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ ملاقات لوہے کے ٹائیکون سجن جندل نے اپنے کاروباری مقاصد حاصل کرنے کے لئے کروائی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ عالمی رہنما مسائل کے حل کے لئے ذاتی تعلقات کو مستحکم کرتے ہیں اور نریندر مودی نے بھی یہی کیا۔ اگر یہ تعلقات خالص ذاتی ہوتے تو اس موقع پر خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان ملاقات طے نہ پاتی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سجن جندل نے اس ملاقات کے لئے کوئی کردار ادا کیا ہو اور ان کے مقاصد کاروباری ہوں۔ اگر وہ پاکستان کے حوالے سے کوئی کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ آخر ہم خود ہی کہتے ہیں کہ پاکستان کی خطے میں جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

لیکن یہ جغرافیائی اہمیت کس کام کی اگر اس کو عملی طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ ابھی تک تو پاکستان نے اپنی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے نقصان ہی اٹھایا ہے۔ اگر پاکستان کو اپنی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھانا ہے تو وہ ہندوستان کے کاروباری حلقوں کے حوالے سے ہی ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا قریب ترین دوست ملک چین بھی یہی مشورہ دیتا ہے کہ وہ ہندوستان سے اپنے تعلقات معمول پر لائے اور یہی وجہ ہے کہ چین نے فوراً نریندر مودی کے لاہور دورے کا خیر مقدم کیا۔ کچھ بنیادی مسائل ہیں جن کی ہندوستان اور پاکستان میں نزاکت کی آگاہی نہیں ہے۔ مثلاً ہندوستان میں اس امر کی آگاہی نہیں کہ پاکستانیوں کے لئے کشمیریوں کے ساتھ ہونے والا ناروا سلوک کتنا بڑا مسئلہ ہے۔ اسی طرح پاکستان میں ابھی تک یہ آگاہی نہیں ہے کہ ہندوستان میں ممبئی میں ہونے والی دہشت گردی کس قدر نازک مسئلہ ہے۔

اگرچہ پاکستان سمجھوتہ ایکسپریس کے مسئلے کو اجاگر کرکے ممبئی حملوں کو بھول جانے کا کہتا ہے لیکن ایسا ہونا آسان نہیں ہے: ممبئی میں دہشت گردوں نے کئی سو لوگوں کو قتل کر دیا تھا جس کا الزام پاکستان پر لگا۔ اسی طرح پاکستان پر یہ الزام بھی تھا کہ یہ نوے کی دہائی میں کشمیری مجاہدین کو تربیت کے مواقع فراہم کرتا رہا ہے۔ پاکستان کے مقتدر حلقے اپنی پرانی پالیسیوں کو ترک کرتے ہوئے اس اصول پر سختی سے کار بند رہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے اور ان کا دوسری حکومتوں سے بھی یہ مطالبہ ہے کہ وہ پاکستان کے معاملات میں دراندازی نہ کریں۔ مثلاً پاکستان بجا طور پر ہندوستان اور افغانستان سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ بلوچ علاحدگی پسندوں کو امداد دینا بند کریں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان ماضی کے اندھیروں سے نکل کر آج کے دن کو روشن کریں۔

پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں بہتری آنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ہندوستان کی کانگریس پارٹی نے سیاسی موقع پرستی کا اظہار کرتے ہوئے مودی کے دورہ لاہور پر سخت تنقید کی ہے۔ پاکستان میں بڑے سیاسی حلقوں میں اس دورے کو سراہا گیا ہے۔ لیکن پاکستانی میڈیا کے بہت سے سرخیل اس دورے پر طرح طرح کی موشگافیاں کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی نام نہاد نظریہ ساز حلقے ہیں جو کل تک طالبان کے بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑا رہے تھے۔ اگر ان کی رائے پر دھیان دیا جاتا تو ضرب عضب بھی نہیں ہونا چاہئے تھا اور ابھی تک طالبان کو اپنے بھائی سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ گفت وشنید کرنا چاہئے تھی۔ یہ وہی عناصر ہیں جنہوں نے پاکستان کے افغان جنگ میں کودنے پر شادیانے بجائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتے۔ لیکن پاکستان اور ہندوستان کے رہنماؤں کو شیخ سعدی کے اس شعر پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے۔

سعدی تو میندیش زغوغائے رقیباں >>>> آواز سگاں کم نہ کنند رزق گدا را
(سعدی تو رقیبوں کے شور وغل کا اندیشہ نہ کر۔ کیونکہ کتوں کے بھونکنے سے گداگر کے رزق میں کوئی کمی نہیں آتی) بشکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
---------------------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند