تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یہ آرزو ہے، دعا نہیں ہے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 18 ربیع الاول 1437هـ - 30 دسمبر 2015م KSA 11:20 - GMT 08:20
یہ آرزو ہے، دعا نہیں ہے

مریم نواز کی صاحبزادی اور میاں نواز شریف کی نواسی مہر النساء پیا گھر سدھار گئیں ۔دعا ہے پروردگار اس بچی کے نصیب اچھے کرے۔ کہنے کی حد تک یہ بات بیشک درست ہو کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں مگر اس سانجھ کھاتے میں بھی ہم ویسے ہی بے ایمان اور بد نیت ہیں جیسے کاروباری شراکت میں دوسرے کو چھرا گھونپنے سے باز نہیں آتے۔ جب شاہی خاندان کی یہ عروسی تقریب جوبن پر تھی تو چند کلو میٹر کی مسافت پر لاہور کے ہی ایک ہوٹل میں کسی بچی کی عزت تار تار کی جا رہی تھی۔ کہنے کو تو یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے مگر یہاں بسنے والوں کے کرتوت دیکھ کر اسلام اور جمہور تو کیا لفظ پاکستان سے بھی گھن آتی ہے۔ پنجاب جہاں حقوق نسواں کا بہت غلغلہ ہے ،جہاں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف بھی قوانین بن گئے ہیں ،اس ترقی یافتہ پنجاب میں ہر تین گھنٹے کے بعد ریپ کا مقدمہ درج ہوتا ہے اور ہر انیس گھنٹے بعد گینگ ریپ کا واقعہ رپورٹ ہوتا ہے۔

پنجاب پولیس کے اپنے اعداد وشمار کے مطابق جنوری سے نومبر 2015ء تک ریپ کے 2555 مقدمات درج ہوئے جبکہ اس دوران گینگ ریپ کے 211 مقدمات درج ہوئے۔ یہ تو وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہوئے ورنہ کتنے نوحے، کتنی آہیں اور کتنی سسکیاں گلے کی پھانس بن کر رہ جاتی ہیں کیونکہ بچپن سے ہی یہ بات گھٹی میں ڈال دی جاتی ہے کہ تھانے کچہری جانا شریف لوگوں کا کام نہیں۔ بہت سی فریادیں تو شرافت کے بوجھ تلے ہی دب جاتی ہیں اور تھانے جا کر رپٹ درج کروانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ جس بدنصیب کی معصومیت چھن جائے اس کی اذیت کا تو شمار ہی نہیں مگر جس بدقسمت انسان کی بیٹی کو جنسی درندوں نے بھنبھوڑ ڈالا ہو،اس باپ کو بھی ایف آئی آر درج کروانے کے لئے فولاد کا جگر چاہئے۔ عزت تو لُٹ ہی چکی ہوتی ہے مگر انصاف کے حصول کے لئے ہر پل نیلام کیسے ہوا جاتا ہے، اس تذلیل وتحقیر کا احساس ایف آئی آر درج کرواتے وقت ہی ہوجاتا ہے۔

جیسے تیسے ایف آئی آر درج ہو بھی جائے تو ملزموں کے پکڑے جانے سے نظام عدل کی زنجیروں میں جکڑے جانے تک بہت سے چور دروازے ہیں۔پولیس ملزم کے بجائے مدعی سے تفتیش کرنے لگے گی، مجرموں کو چوٹی کا وکیل میسر آ جائے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ وکیل کے بجائے ان کی اپروچ انصاف تک پہنچ جائے۔ ایسی صورت میں متاثرہ لڑکی یا اس کے والدین انصاف کی دہائی دینے کے لئے تھانے کے باہر خود سوزی کر لیں گے تاکہ نظام عدل حرکت میں آئے ۔اس خود سوزی کا فائدہ یہ ہو گا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب واقعہ کا فوری نوٹس لیں گے ،رپورٹ طلب کی جائے گی،کیمروں کی چکا چوند کے ساتھ متاثرہ خاندان کے گھر جائیں گے ،پانچ لاکھ روپے کا چیک پیش کیا جائے گا ،ڈی پی اوسمیت متعدد پولیس افسران کو معطل کیا جائے گا اور ہمارا نظام عدل ایک مرتبہ پھر لمبی تان کرسو جائے گا۔

یادش بخیر 13 مارچ 2014ء کو مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی کے نواحی قصبہ لنڈی پتافی کی 18سالہ آمنہ نے ریپ کرنے والے ملزموں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر تھانہ بیٹ میر ہزار خان کے باہر خود سوزی کر لی تھی جس پر خادم اعلیٰ نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او مظفر گڑھ عثمان اکرم گوندل سمیت متعدد پولیس افسران کو معطل کر دیا اورڈی ایس پی چوہدری اصغر، ایس ایچ او ادریس ، تفتیشی رانا ذوالفقار کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیئے گئے تھے۔ اگر ان میں سے کسی شخص کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی گئی ہے یا کسی عدالت سے کوئی سزا ہوئی ہے تو اس کا چرچا کیا جائے تاکہ آئندہ اپنے فرض سے کوتاہی کرنے والے عبرت حاصل کر سکیں۔ اسی شہر مظفرگڑھ میں 13 اکتوبر 2015ء کو 26 سالہ سونیا نے خود سوزی کر لی۔ یہ خاتون بطور مخبر محکمہ پولیس کے لئے کام کر رہی تھی ،اسے چند پولیس اہلکاروں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا جب کہیں شنوائی نہ ہوئی تو اس نے تھانے کے سامنے خود کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لی اور جل مری۔ یہاں بھی وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعہ کا فوری طورپر نوٹس لیا۔ متاثرہ خاندان کے گھر پہنچے، چوبیس گھنٹوں میں ملزموں کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا اگر دو ماہ بعد بھی کسی ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہے تو شورو غوغا کیا جائے ۔ہمیں معلوم ہے کہ خادم اعلیٰ پنجاب کو ذاتی نمود و نمائش کی خواہش نہیں اور وہ کسر نفسی بلکہ تحلیل نفسی پر یقین رکھتے ہیں لیکن اس طرح کی گھنائونی حرکت کرنے والے جنسی درندوں کو سزا دی گئی ہے تو اس کی تشہیر ضرور کی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کر سکے۔

خیبر پختونخوا پولیس کی مثالی کارکردگی کی باتیں اکثر ہوتی ہیں حالانکہ ملک کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، بے حسی کا یہ نصاب ایک جیسا ہی پائیں گے۔ نوشہرہ میں چار ماہ قبل ایک خاتون پولیو ورکر کا گینگ ریپ ہوا۔ گھر میں گھس کر عزت لوٹنے والے ’’مردانگی ‘‘کا مظاہرہ کرتے وقت فرد جرم بھی پڑھ کر سناتے رہے کہ تم پولیو کے قطرے پلاتی ہو، حرام کھاتی ہو، اس لئے تمہیں اسلام کے خلاف سازش کا حصہ بننے پر یہ سزا دی جا رہی ہے۔ 28 اگست 2015ء کو اس واقعہ کی ایف آئی آر درج ہوئی مگر ابھی تک ملزموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکا۔ یہ خاتون آج بھی انصاف کے حصول کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھاتی پھر رہی ہے۔

آپ گزشتہ دس سال کے مقدمات اٹھا کر دیکھ لیں، ریپ یا گینگ ریپ کے مقدمات میں 10 فیصد ملزموں کو بھی سزا نہیں ہوئی۔ چند ماہ قبل فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں مگر یہ مقدمات ان عدالتوں کو بھی نہیں بھجوائے جا سکتے کیونکہ معصومیت کا قتل کرنے والے یہ بھیڑیئے دہشت گرد وں کی صفوں میں شمار نہیں ہوتے۔ حالانکہ بندوق کی گولی تو محض آپ کے جسم کو گھائل کرتی ہے، بم دھماکہ تو محض آپ کے جسم کے پرخچے اڑاتا ہے مگر اس جنسی دہشت گردی کے نتیجے میں تو روح تک کانپ اُٹھتی ہے۔ آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت ابتدائی طور پر 9 فوجی عدالتیں قائم کی گئیں مگر ان عدالتوں کو مقدمات بھیجنے کا اختیار حکومت نے اپنے پاس ہی رکھا یعنی فوجی عدالتیں اسی معاملے کی سماعت کا اختیارر کھتی ہیں جو صوبائی یا وفاقی حکومتیں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق اسے ریفر کریں۔ جنسی دہشت گردی کو روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ریپ اور گینگ ریپ کے مقدمات فوجی عدالتوں کے سپرد کردیئے جائیں ۔خادم اعلیٰ متاثرہ خاندان کے گھر ضرور جائیں مگر اس وقت جب ان کے ہاتھ میں امدادی چیک کے ساتھ ان کے مجرم کا ڈیتھ وارنٹ ہو۔ مجھے یقین ہے خادم اعلیٰ دو چار مرتبہ یہ ڈیتھ وارنٹ لے کر متاثرہ خاندانوں کے گھر جائیں گے تو پھر کسی جنسی درندے کو کسی کی بیٹی پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں ہو گی ۔ورنہ لبوں پر بددعا آتے دیر ہی کتنی لگتی ہے:
ہماری اولاد کے مصائب تمہاری اولاد تک بھی پہنچیں
ہمارے ذیشان رہنمائو!، یہ آرزو ہے، دعا نہیں ہے-
بشکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
---------------------------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند