تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اتاترک اور ماڈرن ترکی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 19 ربیع الاول 1437هـ - 31 دسمبر 2015م KSA 09:45 - GMT 06:45
اتاترک اور ماڈرن ترکی

استنبول یونیورسٹی میں منعقدہ عالمی اردو کانفرنس میں جس کو اپنی زبان میں بات سننی ہو اس کے لئے ہیڈ فون لگا کر بات سننے کا بندوبست موجود تھا جسے کم لوگ استعمال کر رہے تھے کانفرنس کے آخری اجلاس میں مجھے اپنا مکالمہ پیش کرنا تھا ایک اور دانشور کو بھی میرے بعد اپنا آرٹیکل پیش کرنا تھا جن کے نام کی تختی لگی تھی لیکن وہ کہیں تشریف لے جا چکے تھے ،اس لئے پروفیسر صاحب کی مہربانی سے وہ وقت بھی مجھے دے دیا گیا۔ موقع مناسب جانتے ہوئے میں نے ترکی میں ترجمہ کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر رجب درگان کو اپنے پاس بلا لیا اور درخواست کی کہ میں بولوں گا آپ میرے خیالات کا ترکی میں ترجمہ کرتے جائیے اور صدر مجلس کی اجازت سے یہ بھی کہا کہ میرا مکالمہ اردو کے علاوہ انگریزی اور ترکی زبان میں شائع ہوچکا ہے اور میں اس کانفرنس میں اپنے ترک بھائیوں سے کچھ دل کی باتیں کروں گا، میں پاک ترک تعلقات کا جائزہ تحریک خلافت ہی نہیں اتا ترک اور بانی پاکستان یا علامہ اقبال ؒ کے تعلق کی مناسبت سے پیش کروں گا۔ یہ بتائوں گا کہ بانیان پاکستان کے دل میں اتاترک کی کتنی قدر ومنزلت تھی۔ میں یہ مانتا ہوں کہ یہاں ترکی میں اتاترک کی شخصیت اور جدوجہد کو متنازع بنانے کی بعض کاوشیں بھی ہوئی ہیں اس نوع کی باتیں بانی پاکستان کے حوالے سے بعض اوقات پاکستان میں بھی ہو جاتی ہیں ،لیکن اپنی اپنی اقوام کے لئے ہر دو شخصیات نے جو کام کیا اصل اہمیت اس کا م کی ہے نہ کہ شخصی طور پر کسی فرد یا ذات کی۔

اتاترک نے تباہ حال ترک قوم کو جس طرح ولولہ تازہ دیتے ہوئے اپنے پائوں پر کھڑا کیاایک ماڈریٹ پروگریسو ترکی کی بنیاد رکھی ان کا یہ کارنامہ امر ہے اور امر رہے گا، شاخ نازک پر جو آشیانے بنتے ہیں وہ وقت کے طوفان کا ایک تھپیڑا نہیں سہہ پاتے کمزور انقلابات جس طرح آتے ہیں اسی طرح رخصت ہوجاتے ہیں اتاترک کا انقلاب ایسی ٹھوس بنیادوں پر استوار ہو کر اُٹھا کہ پوری صدی گزرنے کو ہے مگر اس کے استقلال میں کمزوری نہیں آئی اقوام کی زندگیوں میں چھوٹی موٹی باتوں پر تبدیلیاں بھی آتی ہیں آنی بھی چاہئیں زندہ اقوام ہر لمحہ اپنے افعال و اقدار کا جائزہ لیتی رہتی ہیں جہاں تبدیلیوں کی ضرورت ہو وہ ضرور کرتی ہیں جس طرح انسان وقت سے سیکھتا ہے، اقوام بھی سیکھتی ہیں لیکن سیکولر اپروچ کے ساتھ جس طرح اتاترک نے آئینی، جمہوری اور لبرل ترکی کی بنیادیں استوار کیں اس کی وجہ سے ماڈرن ترکی اپنی بنیادوں پر قائم رہتے ہوئے ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہے بلکہ جمہوریت پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ میں یہاں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہاں تحریک خلافت پر بہت باتیں ہوئی ہیں بلاشبہ جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں نے بحالی خلافت کی خاطر بھرپور تحریک چلائی لیکن جب خود ترک قوم نے ہی 1924ء میں اس کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے وقت کے نئے آئینی و جمہوری تقاضوں کو اپنایا تو مسلمانان جنوبی ایشیاء کے اہم قومی رہنما علامہ اقبالؒ نے کھل کر اس سلسلے میں اتاتر ک کی حمایت کی۔

مجھے یہ تسلیم ہے کہ اقبالؒ نے اپنی شاعری میں بعض حوالوں سے اتاترک اور ان کے انقلاب پر تنقید بھی کی لیکن مجھے فرزندِ اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال نے جن کا حال ہی میں انتقال ہوا، بتایا تھا کہ اقبالؒ جب سخت بیمار تھے تو ڈربن کے مسلمانوں نے اقبالؒ سے یہ کہا کہ ہم نے پورے جنوبی افریقہ میں آپ کی درازی عمر کیلئے دعائیں کروائی ہیں یہ حضرت علامہ کی زندگی کا آخری دور تھا جب انہوں نے ڈربن کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ میں نے جو کچھ کرنا تھا کر چکا آج مسلمانوں کو میری نہیں جناحؒ اور مصطفیٰ کمال پاشا کی ضرورت ہے لہٰذا اگر درازی عمر کی دعا کرنی ہے تو میرے لئے نہیں اتا ترک اور جناح کے لئے کریں اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبالؒ کی نظر میں اتاترک کی کیا اہمیت تھی دوسری طرف بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے متعلق آپ سب کو معلوم ہے کہ وہ اتاترک مصطفیٰ کمال پاشا کو کس طرح ایک آئیڈیل لیڈر کی حیثیت سے دیکھتے تھے تحریکِ خلافت کے دوران سب جانتے ہیں کہ وہ اس سے الگ تھلگ رہے تھے بلکہ انہوں نے لندن کو اپنا مسکن بنا لیا تھا ان کی بائیو گرافی میں یہ واضح ہے کہ وہ اتا ترک کی زندگی پر شائع ہونے والی گرے وولف کی کتاب کے مطالعے میں کس قدر مصروف رہتے تھے اس کتاب پر حاشیے لگا لگا کر اس کی لائنوں کو انڈر لائن کرتے ہوئے انہوں نے جس انہماک سے اس کی اسٹڈی کی اسے دیکھتے ہوئے ان کی اکلوتی بیٹی دینا جناح نے اپنے والد کا نک نیم گرے وولف رکھ دیا تھا۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر مسلمانانِ جنوبی ایشیاء کی وابستگی محض کسی گلے سڑے قدیمی نظام سے ہوتی تو پھر ترکوں سے ان کا تعلق 1924ء کے بعد ٹوٹ جاتا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا آپ سے تعلق اس کے بعد نظری وفکری بنیادوں پر مزید مضبوط ہوا مصطفیٰ کمال پاشا کے ترانے غیر منقسم پورے ہندوستان میں گائے گئے لیکن ہمیں شخصیات کو بت بنا کر ان کی پوجا نہیں کرنی چاہئے تنقیدی جائزہ جس طرح ہر نظریے کا لیا جا سکتا ہے مگر احترام اور وقار کے ساتھ جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں کے تجربات سے آپ بھی گزرے ہیں ہم بھی گزرے ہیں ہر دو ممالک میں اندرونی ہاہمی کشمکش اور الجھنیں بھی رہیں آج الحمداللہ ہر دو مقامات پر سول عوامی جمہوری حکومتیں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں ۔ ضروری ہے کہ ہم اعلیٰ جمہوری دستوری قدروں کے ساتھ نہ صرف یہ کہ اپنی اقوام کو انسانی حقوق اور آزادیوں سے ہمکنار کریں بلکہ ان کی معاشی و معاشرتی الجھنوں کو بھی دور کریں۔ سوسائٹی کے جو دبے ہوئے کمزور محروم طبقات ہیں ان کا مداوا کریں کسی فرد یا طبقے کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔ بشکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
---------------------------------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند