تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
صدر پیوٹن کی چڑھائی اور شام کا لاغر گھوڑا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 19 ربیع الاول 1437هـ - 31 دسمبر 2015م KSA 09:38 - GMT 06:38
صدر پیوٹن کی چڑھائی اور شام کا لاغر گھوڑا

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن بھی ایک بار پھر اپنے پرانے دائرہ کار سے نکل کر اپنے پرانے حریف انکل سام کے مقابلے پر آ گئے ہیں، روس کا پرانا لباس جارحانہ تو افغانوں نے تار تار کر دیا تھا اور سوویت یونین کا ایسا کچومر نکالا تھا کہ کرچیاں اکٹھی کر کے پیوٹن صاحب نے سب سے پہلے چیچن مسلمانوں پر برسائیں اور انکے خوبصورت شہر گروزنی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی، اس کے بعد اپنے پرانے مقبوضات کی خبر لیتے رہے مگر یہ دیکھ کر ان کے پرانے دوست بشار الاسد کو ٹھکانے لگانے اور داعش کو ختم کرنے کے بہانے انکل سام کے ریٹائر ہونے یوالے صدر اوباما بحری، بری اور ہوائی فوج لیکر شام کو سنوارنے کیلئے چڑھ دوڑے ہیں تو پیوٹن صاحب نے بھی چڑھائی کر دی مگر صرف اسلحہ اور ہَوائی جہاز لیکر، انکے ہَوائی جہازوں میں سے ایک کو ترکوں نے ہَوائوں میں شکار کر کے تھرتھلی مچا دی تھی اور پیوٹن صاحب شام میں پرانے مزے لوٹنے سے ابھی تک محروم ہی چلے آتے ہیں۔

اس لیے کبھی انکل سام کا سایہ تلاش کرنے کیلئے اوباما کا ہاتھ پکڑتے ہیں اور کبھی مودی کی پیاس بھڑکانے کیلئے گنگا اور جمنا سے چلو بھر کر اپنی پیاس بُجھانے کے جتن کرتے ہیں مگر شام کے دریائے (بردیٰ) کا پانی اور دمشق کے تاریخی باغ (غوطہ) کے رسیلے پھلوں کا مزہ پنڈت لمبو رام کی گڑوی کے میلے کچیلے پانی میں کہاں؟ تاہم پیوٹن صاحب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کمیونسٹ اور سیکولرسٹ ہونے کے تمام دعوئوں کے باوجود اندر سے پورے اور پکے صلیبی ہیں اس لیے مسلم پاکستان کے مقابلے میں ہندو بھارت کو تیار کرینگے خواہ اس میں بیس سال ہی لگ جائیں!

بات اصل میں یوں ہے کہ ایک ہوتا تھا جواہر لال نہرو جو سوشلزم کا بھی راگ الاپتا تھا مگر اندر سے پورا اور پکا پنڈت نہرو تھا، وہ کمیونزم میں بھی ہاتھ مارتا تھا اور سرمایہ داری سے بھی ہاتھ رنگتا تھا، چنانچہ چین کے خطرے کے بہانے چچا سام کی جیب بھی ٹٹولتا تھا اور پاکستان کو دھمکانے کیلئے سُرخ سامراج کا بھی باج گزار تھا اس لیے اب نریندر مودی بھی ایک طرف تو اوباما کے کندھے سے لٹکتا ہے اور دوسری طرف ولادی میر پیوٹن کے سامنے بھی دانت نکالتا اور مونچھیں گراتاہے لیکن دیکھنا اب یہ ہے کہ ہم اسکے مقابلے میں کیا کرتے ہیں یا کیا کر سکتے ہیں؟

مودی نے پاکستان کے موٹر وے کو کابل اور سنٹرل ایشیا تک بھارت کی تجارتی شاہراہ بنانے کا ارادہ کیا تو پہلے دیوی سشماسوراج کو لاہور بھیجا تاکہ وہ اپنی شریر مسکراہٹوں سے ’’مسلمان دلوں کو‘‘ اپنے جال میں پھانسے پھر اس کامیاب کوشش کو دیکھ کر اور سالگرہ کے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے مودی جی نے خود بھی لاہور پر ہی ’’ہَوائی حملہ‘‘ فرما دیا ہے! اب آپ گوادر والی پاک چین اقتصادی راہداری کو بھول جائیے اور دلی کابل اقتصادی راہداری کا تماشہ دیکھتے رہیے!

بس یہ یاد رکھیے کہ گزشتہ ستر سال کے دوران میں بھارتی بنیا صرف فوائد سمیٹنے اور پاکستان پر صرف نقصانات کی بارش کرنے میں ہی لگا ہوا ہے، پرانے مسائل کو حل کرنے کے بجائے نئے مسائل کے انبار لگا دیئے ہیں! مگر یہ بھارتی تجارتی شاہراہ ہندو بنیا کا سب سے بڑا فائدہ اور پاکستان کا ناقابل برداشت نقصان ہو گا! مگر ہم تو بات کرنے لگے تھے شام پر روسی ریچھ کی چڑھائی کی جو صدیوں سے گرم پانیوں تک رسائی کیلئے بے چین ہے! مگر راستے میں پہلے صرف افغان مسلمانوں کی چٹانیں حائل تھیں اب پاکستانی بھی حائل ہو گئی ہیں اس لیے روسی ریچھ چھلانگ لگا کر شام پہنچ گیا تھا مگر اس کیلئے ریچھ نے ’’سوشلزم‘‘ کا سہارا لیا تھا، شام ہی سے ایک عیسائی سوشلسٹ کرایہ پر مل گیا تھا جس نے شام و عراق میں بعث پارٹی کے نام سے ایک سوشلسٹ جال تیار کیا تھا جس میں بہت سے مسلمان مگر چند ایک عیسائی نوجوان بھی بھرتی کر لئے تھے، پاپائے روم نے اس عیسائی سوشلسٹ، جس کا نام تھا مشل عفلق، کو سرزنش کی تھی کہ عیسائی نوجوانوں کو گمراہ کیوں کر رہا ہے؟

تو مشل عفلق نے جواب دیا تھا کہ سو گمراہوں میں عیسائی تو سو میں صرف ایک ہوتا ہے، اسکے ساتھ ننانوے مسلمان بھی تو گمراہ کر رہا ہوں! عفلق کی اس بعث پارٹی نے شام و عراق کو لوٹا بھی اور مسلمانوں کو گمراہ بھی کیا، یہی گمراہ لوگ آج دہشت گرد گروہوں میں کام آ رہے ہیں، ان میں سے ایک گروہ کا قائد بشار الاسد اور اسکی انگریز بیوی بھی ہے، اس لیے روس، امریکہ اور فرانس کے بعد برطانیہ بھی اب اپنے داماد کو بچانے کیلئے میدان میں کود پڑا ہے۔

دوسری طرف انکل سام نے اقوام متحدہ کو بھی شام میں دھکیل دیا ہے اس لیے بشار الاسد تو اس قدر لاغر ہو چکا ہے کہ روسی ریچھ کا بوجھ کیا اٹھاتا وہ تو حرکت کرنے کے قابل بھی نہیں رہا، اسی لیے پیوٹن نے پرانا راستہ اپناتے ہوئے بھارتی بنیئے پر کاٹھی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے مگر کس امید پر؟ شاید پاکستان کے ’’پکے دوست‘‘ انکل سام کے کسی خفیہ اشارہ کے سہارے! اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو ہندو شناسی سے کام لینا چاہیے ہندو مزاج بن کر ہندو مت میں گھل مل جانے سے بچنا چاہیے! کیونکہ عالم اسلام آج بُری طرح دشمنوں کے نرغے میں آتا دکھائی دیتا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ سادہ لوح مسلمان اپنے دشمنوں کو تو اچھی طرح جانتا اور پہچانتا بھی نہیں ہے۔

حالانکہ خدا نے تو سورت مائدہ کی آیت نمبر 82 میں کھلے لفظوں میں بتا دیا ہے کہ اہل ایمان کے شدید ترین دشمن صرف یہودی اور مشرک ہیں اور قریب ترین پیارے دوست تو صرف مسیحی بھائی ہیں، یہودی تو آپ اب عالمی صہیونیت میں ڈھل چکے ہیں مگر مشرک کا لباس اب ہندو بنیا پہن چکا ہے مگر یہ دونوں یعنی یہودی اور بنّیا حرام سودی سرمایہ سے مسلم، مسیحی تصادم کرا کر ختم کرانا چاہتے ہیں، مسیحیوں کو صلیبی لباس پہنا کر اور مسلمانوں کو دہشت گرد کی یونیفارم پہنا کر! بشکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
------------------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند