تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مولانا شیرانی اور حافظ اشرفی کے درمیان جھگڑے کی اصل وجہ؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 20 ربیع الاول 1437هـ - 1 جنوری 2016م KSA 10:19 - GMT 07:19
مولانا شیرانی اور حافظ اشرفی کے درمیان جھگڑے کی اصل وجہ؟

 


حکومتِ پاکستان کے بنائے قواعد وضوابط پر کسی نہ کسی صورت عمل کرتا روایتی میڈیا ہو یا ہر طرح کی پابندیوں سے مکمل آزاد سوشل میڈیا، ان دونوں پر ان دنوں بہت ذکر ہورہا ہے اس جھگڑے کا جو اسلامی نظریاتی کونسل کے حالیہ اجلاس کے دوران مولانا طاہر اشرفی اور مولانا شیرانی کے مابین ہوا۔

ذرا غور کریں تو فوراََ خبر ہوجاتی ہے کہ اس مسئلے کو اچھالنے کی ترغیب ہمارے اداس دلوں میں مچلتی وہ تمنا دے رہی ہے جو دوسروں کی طشت ازبام ہوئی خامیوں سے لطف اٹھانا چاہتی ہے۔ چسکے اور چیزے لینے کو بے تاب ذہن جو سوچنے کی نعمت سے مکمل طور پر محروم ہو چکے ہیں۔

مولانا شیرانی کو میں حافظ طاہر اشرفی سے کئی برس قبل ملا تھا۔ پارلیمان کی کارروائی پر کالم لکھتے ہوئے اکثر ان سے رجوع کرنے پر مجبور ہوا۔ اپنی تمام تر متانت اور شائستگی کے باوجود مجھے ہمیشہ زاہدِ خشک ہی محسوس ہوئے۔ کوئٹہ جانے کا جب بھی موقعہ ملے تو ان کے بارے میں بہت کچھ سننے کو ملتا ہے۔ بہت لوگ بے تحاشہ تعریف بھی کرتے ہیں اور انہیں ایک ایسے عالم کے طورپر پیش کرتے ہیں جو بلوچستان کے مخصوص ماحول میں ہمارے برادر ممالک کی بھڑکائی فرقہ وارانہ آگ کو کسی نہ کسی طرح بجھانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔

مولانا کے مخالفین ان کی بدخوئی کا آغاز ان کے والد کے ذکر سے کرتے ہیں اور پھر رُکنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ کسی شخص کے بارے میں اچھی اور بُری کہانیاں سننے کے بعد حتمی رائے دینے کا مجھے کوئی شوق نہیں۔ اپنے گریبان ہی میں جھانکتے رہنے کی عادت کے ہاتھوں مجبور ہوں۔

طاہر اشرفی کا تعلق چونکہ لاہور سے ہے اس لئے پہلی ملاقات کے ساتھ ہی کافی بے تکلفی بھی ہو گئی۔ اب وہ مقامی ہی نہیں عالمی سطح پر بھی بہت مشہور ہو گئے ہیں۔ ان تک دسترس بھی میرے جیسے عامی کے لئے اب مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ ربّ کریم انہیں مزید کامیاب کرے تاکہ اپنی دبنگ شخصیت سے ہماری سکرینوں پر رونق لگائے رکھیں۔

ایک اخباری رپورٹر میں جبلی طورپر موجود تجسس کی طاقت وقوت سے میں بتدریج محروم ہوتا جا رہا ہوں۔ جھگڑا چونکہ اسلام آباد میں ہوا تھا اس لئے ایک دو لوگوں سے ملاقاتیں اور چند فون کرنے کے بعد معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اصل واقعہ کیا تھا اور دو مولانا حضرات کے درمیان ہوئے تماشے کا ذمہ دار کون ہے۔ ان دنوں اپنے دل پر چھائی مُردنی کی وجہ سے مگر اس ضمن میں خواہش ہی پیدا نہیں ہو رہی۔

جس حقیقت نے مگر دل دہلا دیا ہے وہ اس اجلاس کا جہاں یہ جھگڑا ہوا مبینہ طور پر مجوزہ ایجنڈا ہے۔ مسلمان اور مرتد کے درمیان فرق کے معاملے پر میں گنہگار ایک لفظ لکھنے کی جرأت بھی نہیں دکھا پائوں گا۔ قطعی لاشعوری طور پر کوئی خطا ہوگئی تو کفر کے فتوے آجائیں گے۔ مولانا حضرات کے پاس ان دنوں مساجد کے منبر اور لائوڈ سپیکر ہی نہیں، چند جاں نثار ’’کن ٹُٹے‘‘ بھی ہوا کرتے ہیں۔ پولیس کسی شخص کے خلاف ان کی لکھوائی رپٹ کو فوراََ باقاعدہ چالان کی صورت بھی فراہم کر دیتی ہے۔

میں تو گھر کے ایک کونے میں دبکا دو ٹکے کا رپورٹر ہوں مگر ایک انتہائی طاقت ور شخص چودھری نثار علی خان بھی ہوتے ہیں۔ راولپنڈی کے نواح میں واقعہ چکری کے نامی گرامی پیال راجپوت گھرانے سے ان کا تعلق ہے۔ اس گھرانے کے اثر کا اعتراف برطانوی دور میں لکھے Gazetteersمیں بھی ہوا ہے۔ 1985ء سے مسلسل قومی اسمبلی کے رکن چلے آرہے ہیں۔ نواز شریف کی ہر حکومت میں انہیں ان کا سب سے طاقت ور وزیر تسلیم کیا جاتا ہے۔

یہ چودھری نثار مگر لال مسجد کے مولانا عزیز کے حوالے سے قطعی بے بس نظر آتے ہیں۔ گزشتہ تین جمعے انہوں نے اسلام آباد میں موبائل فونز بند کروائے۔ وجہ اس کی صرف یہ تھی کہ مولانا عزیز لال مسجد جاکر پاکستان میں شرعی نظام کے اطلاق کا اعلان کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا کو یہ خطبہ دینے سے روکنے کے لئے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ اس دوران نماز جمعہ کے اوقات گزرجانے تک اسلام آباد کے تمام رہائشی مولانا کے اجتماعی سہولت کار تصور کرلئے جاتے ہیں اور اپنے موبائل فونوں کی بندش سے اپنی ناکردہ خطائوں کا کفارہ ادا کرتے ہیں۔

مسلمان اور مرتد کے مابین فرق کے قضیے سے بچنے کی فکر کے باوجود میں اس امر پر اپنی پریشانی کا اظہار کرنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے جس اجلاس میں اشرفی اور شیرانی کے درمیان جھگڑا ہوا وہاں مبینہ طورپر اس سوال پر بھی غور ہونا تھا کہ آیا پاکستان میں مقیم غیر مسلموں کو ذمی قرار دے کر ان پر کسی طرح کا جزیہ لاگو کیا جانا چاہیے یا نہیں۔

ان دنوں مسلمانوں پر ساری دُنیا میں چھپائی اذیتوں سے قطعی بے اعتناکوئی انتہائی سفاک شخص ہی ایسے سوالات کو اس ادارے کے روبروپیش کرنے کی حماقت کا ارتکاب کرسکتا ہے۔ ہمارے ہاں تحریری طورپر موجود آئین کو ’’کاغذ کے چند ٹکڑوں‘‘ کے سوا کچھ نہیں سمجھا جاتا۔ گلوبل صحافت سے جڑے افراد مگر اس ضمن میں کافی مختلف ہوا کرتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کیا ہے، یہ جاننے کے لئے لندن، نیویارک یا پیرس وغیرہ کے کسی اخبار کے لئے کام کرتا صحافی سب سے پہلے ہمارے آئین کی کتاب کھولے گا۔ یہ کتاب اسے بتائے گی کہ اسلامی نظریاتی کونسل ایک حوالے سے اتنا ہی طاقت ور ادارہ ہے جیسا اسلامی جمہوریہ ایران میں جید علماء کی اس تنظیم کی صورت میں موجود ہے جو وہاں کی اسمبلی کے بنائے قوانین کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں رد کر سکتا ہے۔

اس ادارے کو گویا ایک قسم کی ویٹو پاور میسر ہونے کی بناء پر اسلامی جمہوریہ ایران کا ’’سپریم‘‘ ادارہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ میرے جیسے لوگ کچھ بھی کرلیں لندن، نیویارک یا پیرس وغیرہ کے کسی اخبار کے لئے کام کرتے صحافی کو ایران اور پاکستان میں کام کرنے والے جید علماء پر مبنی ان اداروں میں فرق سمجھا نہیں پائیں گے۔ میڈیا ویسے بھی پیچیدہ ترین موضوعات کو سادہ ترین لفظوں میں بیان کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

مولانا شیرانی اور حافظ اشرفی کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے باقی دُنیا کو پیغام گیا ہے تو صرف اتنا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو ذمی قرار دے کر ان پر کسی نوعیت کا ٹیکس عائد کرنے کے بارے میں ’’سنجیدگی‘‘ سے سوچا جا رہا ہے اور یہ قضیہ اتنا سنگین ہوگیا ہے کہ اس پر بحث کے دوران دو جید علماء ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھا پائی پر مجبور ہو گئے۔

اپنے ملک کے بارے میں اس تصور کے فروغ کے بعد میں کس منہ سے ڈونلڈٹرمپ کی مذمت میں کوئی لفظ لکھ پائوں گا۔ بھارت میں ہندو انتہاء پسندوہاں کے مسلمانوں پر غضب ڈھاتے ہوئے بات تو یہی کہتے ہیں ناں کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر برصغیرکے مسلمانوں نے ’’بھارت ماتا‘‘ کو توڑ کر پاکستان بنالیا۔ اب ہندوستان میں مسلمان کیوں رہ رہے ہیں اور اپنے لئے برابری والے شہری حقوق کا تقاضہ کیوں کرتے ہیں۔

صرف برطانیہ میں مقیم پاکستانی مسلمانوں کی تعداد کوذرا ذہن میں لائیے۔ ان میں سے ذرا اس تناسب پر بھی غور کرلیں جو بے روزگار ہے مگر اپنے بچوں کی ضروریات کے عین مطابق گھر اور ان کی مناسب تعلیم کا حق دار ہے۔ ہماری اسلامی نظریاتی کونسل میں موجود چند فاترالعقل لوگوں جیسے افراد کو برطانیہ میں سیاسی قوت واختیار مل گیا تو بے روزگاری الائونس وغیرہ سے محروم پاکستانی مسلمانوں کی کفالت کا بندوبست ہم کیسے کریں گے۔ ہم تو ان بے خانماں افراد کا بھی سہارا نہ بن پائے جو لاکھوں کی تعداد میں تھے اور بنگلہ دیش بن جانے کے بعد بھی میرپور وغیرہ کے کیمپوں میں محصور ہوئے خود کو ’’پاکستانی‘‘ کہلوانے پر بضد رہے۔ بشکریہ روزنامہ"نوائے وقت"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند