تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نوٹ کی حکومت ،نوٹ کے ذریعے، نوٹ کیلئے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 24 ربیع الاول 1437هـ - 5 جنوری 2016م KSA 08:06 - GMT 05:06
نوٹ کی حکومت ،نوٹ کے ذریعے، نوٹ کیلئے

مجیب الرحمان شامی نے جیم خانہ کلب میں محفل سجائی ہو، عبدالرئوف، ڈاکٹر خالد نواز، حفیظ اللہ نیازی،جاوید نواز اور رئوف طاہر جیسے اکابرین موجود ہوں اور لودھراں کے ضمنی انتخابات میں جہانگیر ترین کی غیر متوقع اور غیر معمولی جیت کا معاملہ زیر بحث نہ آئے، یہ کیسے ممکن ہے۔کسی دوست نے نکتہ اٹھایا کہ عبدالعلیم خان کی طرح جہانگیر ترین نے بھی بے تحاشہ اور بیشمار دولت خرچ کر کے یہ نشست جیتی ہے۔ کچھ ہی دیر میں یہ اتفاق رائے ہوتا دکھائی دیا کہ ہمارے ہاں انتخابی سیاست اب دھن دولت کا کھیل بن کر رہ گئی ہے ۔اس پر امریکہ سے آئے ہوئے دوست شاہد احمد خان نے وضاحت کی کہ پوری دنیا میں انتخابی سیاست پر دولت اثر انداز ہوتی ہے امریکہ کے صدارتی انتخاب میں تو باقاعدہ فنڈز جمع کرنے کا مقابلہ ہوتا ہے اور جو جتنا زیادہ ڈونیشن جمع کرتا ہے اس کے ٹکٹ حاصل کرنے کے امکانات اتنے ہی بڑھ جاتے ہیں۔ اگر آپ امریکہ میں صدارتی امیدوار ہیں تو انتخابی مہم چلانے کے لئےکم از کم ایک ارب ڈالر درکار ہیں۔ لیکن وہاں ایک ایک ڈالر کا حساب ہوتا ہے کہ کہاں سے آیا، کس نے دیا ۔اگر یہاں بھی سیاستدانوں کو ڈونیشن دینے کا کوئی نظام مرتب کر دیا جائے تو معاملات بڑی حد تک درست ہو سکتے ہیں۔

ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو دیئے جانے والے فنڈز کا حساب کتاب اس لئےنہیں ہوتا کہ شناخت ظاہر ہونے کی صورت میں ذرائع آمدنی کی شفافیت کے بارے میں سوالات ہونگے۔ مثال کے طور پر گزشتہ برس رانا مشہود کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ ایک کاروباری شخصیت سے رقم وصول کر رہے ہیں۔ ایک نجی محفل کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ یہ کیا قصہ ہے؟ تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ،اگر یہ رقم میں نے اپنے لئےوصول کی ہوتی تو اب تک مجھے ڈاکٹر عاصم کی طرح لٹکا نہ دیا گیا ہوتا۔حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ رقم سیاسی چندے کے طور پر وصول کی گئی اور انتخابی مہم کے لئے پارٹی حکام کے حوالے کی گئی۔ بہر حال اس فکری نشست کے بعد میرا دماغ مسلسل چند سوالات کی زد میں ہے۔ آج تک ہم اس امید پر زندہ ہیں کہ ہمارے یہاں جمہوریت ابھی خام ہے، ملک کا جمہوری نظام ارتقاء کے مراحل سے گزر رہا ہے مگر ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب عام آدمی بھی منتخب ہو کر ایوانوں میں جا سکے گالیکن اگر امریکہ، برطانیہ اور سویڈن کی شفاف ترین جمہوریت میں بھی انتخابی مہم پر کثیر سرمایہ خرچ کئے بغیر کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی تو پھر اس نظام انتخاب کو عوا م کی حکومت، عوام کے ذریعے،عوام کے لئےکیسے کہا جا سکتا ہے؟

چند برس قبل امریکہ کے مقبول ترین اخبارات واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائمز نے اپنے صفحہ اول پر ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کا عنوان تھا ’’امراء کی حکومت ،امراء کے ذریعے ،امراء کے لئے‘‘Centre for responsive politics کی مرتب کی گئی اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بد ترین معاشی بحران کے باوجود امریکہ کے نصف سے زائد منتخب نمائندوں کا شمار لکھ پتی افراد میں ہوتا ہے یعنی ان کے پاس دس لاکھ ڈالر سے زیادہ دولت موجود ہے ۔435 رُکنی ایوان نمائند گان میں 250 جبکہ 100ارکان پر مشتمل سینیٹ میں سے 67ارکان لکھ پتی ہیں ۔گزشتہ پچیس برس کے دوران ایک عام امریکی شہری کے اوسط اثاثہ جات میں مسلسل کمی ہوئی مگر ایوان نمائندگان کے ارکان کے اوسط اثاثہ جات میں بتدریج اضافہ ہوا۔ 1984ء میں اوسط اثاثہ جات 280000 ڈالر فی کس تھے جو اب بڑھ کر 725000 ڈالر فی کس ہو چکے ہیں ۔امریکی سینیٹ میں تو اکثریت ہی بزنس ٹائیکونز کی ہوتی ہے اس لئے اسے Millionaires club کہا جاتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق سینیٹ کے تمام ارکان کے پاس اوسطاً فی کس 2.63 ملین ڈالر کے اثاثہ جات موجود ہیں ۔اس رپورٹ کی تیاری کے دوران جب ان منتخب عوامی نمائندوں سے پوچھا گیا کہ اقتصادی کساد بازاری کے دوران ان کے دوستوں یا رشتہ داروں میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنا گھر بیچنا پڑا ہو یا اس کی نوکری چلی گئی ہو؟ تو ان 535 ارکان میں سے صرف 18ارکان نے ہاں میں جواب دیا۔ 12 ارکان نے کمال بے اعتنائی و بے نیازی سے کہا ،ہمارے جاننے والوں میں سے تو کوئی ایسا نہیں البتہ جاننے والوں کے جاننے والوں میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو دیوالیہ ہو گئے ۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق 10ارکان کانگریس ایسے ہیں جن کے فی کس اثاثہ جات کی مالیت 100 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ ان میں گاڑیوں کے لئے الارم بنانے والے بزنس ٹائیکون Darrella Issa کا نام سرفہرست ہے جبکہ دو معروف ڈیموکریٹس سینیٹر جان کیری اور نینسی پلوسی بھی اس فہرست میں شامل ہیں ۔

ہمارے ہاں انتخابی مہم پر جتنا پیسہ خرچ کیا جا تا ہے وہ تو امریکی اخراجات کا عشر عشیر بھی نہیں ۔2010ء میں سینیٹ کی نشست جیتنے والے امریکی امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم پر اوسطاً 10ملین ڈالر فی کس خرچ کئے جبکہ ایوان نمائندگان کی رُکنیت حاصل کرنے والوں نے اپنی انتخابی مہم پر کم از کم 1.4ملین ڈالر خرچ کئے ۔ہمارا خیال ہے کہ امریکی طرز سیاست میں باراک حسین اوباما جیسا عام آدمی بھی امریکہ کا صدر بن سکتا ہے مگر سچ یہ ہے کہ اس نے 2008ء میں جان مکین کے مقابلے میں تین گنا زیادہ فنڈز حاصل کر کے نامزدگی حاصل کی تھی۔ وہ سرمایہ کار جو اوباما جیسے افراد پر پیسہ لگاتے ہیں ،اس کی انتخابی مہم کے اخراجات اٹھاتے ہیں ،وہ مستقبل میں اپنی مرضی کی قانون سازی کی صورت میں یہ رقم بمع سود وصول کرتے ہیں۔

2012ء کے صدارتی انتخابات میں مختلف امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم پر 2.6 بلین ڈالر خرچ کئے مگر 2016ء کے انتخابات میں یہ اخراجات دگنا زیادہ ہونے کا امکان ہے ۔امریکی اخبارات نے جو تخمینہ لگایا ہے اس کے مطابق رواں سال صدارتی انتخابی مہم کے اخراجات 5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے خبروں کا حصہ ہیں ،انہوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنی تشہیری مہم پر ہر ہفتے 20 لاکھ ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ امریکہ کی طرح پوری دنیا کا جمہوری اور پارلیمانی طرز انتخاب سرمایہ داروں اور مفاداتی اداروں کے شکنجے میں ہے۔ انتخابی سیاست کے لئے ضروری ہے کہ آپ خود دولتمند ہوں یا پھر آپ پر سرمایہ لگانے والے فنانسرز دستیاب ہوں۔

ہر دونوں صورتوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہ کون بیوقوف ہو گا جو اپنا سرمایہ اور تمام تر توانائیاں خرچ کر کے سیاسی عہدہ حاصل کرے اور پھر اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائے؟ جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان اور اعظم سواتی تو محض استعارے ہیں ورنہ ہر سیاسی جماعت میں دھن دولت والوں کی اجارہ داری ہے کیونکہ نوٹ ہی ووٹ میں بدلتا ہے۔ جب تک نوٹ اور ووٹ کا رشتہ برقرار ہے، تب تک جمہوریت کی مروجہ تعریف بدل دی جائے تو بہتر ہو گا۔ نمونے کے طور پر ایک جملہ حاضر ہے ’’نوٹ کی حکومت، نوٹ کے ذریعے، نوٹ کے لئے ‘‘

------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند