تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
داعش کا مقام پیدائش!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 25 ربیع الاول 1437هـ - 6 جنوری 2016م KSA 23:15 - GMT 20:15
داعش کا مقام پیدائش!

ایک عرصے تک القاعدہ اور اس کی آل اولاد دنیا کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ سمجھی جاتی رہی۔ القاعدہ آج بھی موجود ہے مگردولت اسلامی عراق و شام ’’داعش‘‘ کہلوانے والے جس پُر اسرار دیوسے اس وقت دُنیا نبرد آزما ہے وہ القاعدہ سے کہیں زیادہ سخت جان، سنگ دل نہایت بے رحم اورمعاصرحربی وسائل وصلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ گوکہ ’’داعش‘‘ نے بھی القاعدہ ہی کی کوکھ سے جنم لیا مگراس کے طریقہ کار وطریقہ واردات اپنی مادر تنظیم سے غیر معمولی حد تک مختلف ہے۔

مشرق ومغرب کوخوف کے حصارمیں جکڑنے والی ’’داعش‘‘ کا مقام پیدائش جارج ڈبلیو بش کی افواج کی زیرنگرانی جنوبی عراق کے ’’بوکا‘‘ نامی قید خانے میں ہوا۔ آج کا سب سے خطر ناک اشتہاری عراق پرامریکی یلغار کے دوران اسی جیل میں قید تھا۔ جب وہ اپنے ساتھیوں سے مل کر ایک نہایت ہی خطرناک گروپ کی داغ بیل ڈالنےکی منصوبہ بندی کررہا تھا تب دنیا اس کے نام تک سے واقف نہ تھی۔ بہ ظاہرشرمیلا اورخاموش طبع ابوبکرالبغدادی کے اندر بغاوت اور خون خواری کا ایک طوفان موجزن تھا۔

جنوبی عراق کے ام قصر شہر کی ’’بوکا‘‘ جیل کو سب سے پہلے برطانوی فوج نے عراقی قیدیوں کے لیے قائم کیا جسے ’’فریدی کیمپ‘‘ کا نام دیا گیا۔ سنہ 2003ء میں عراق پرامریکی کے قبضےکے بعد یہ جیل بھی امریکی فوج کی تحویل میں آگئی اور اسے ’’رونلڈ بوکا‘‘ نامی فوجی کے نام موسوم کیا گیا۔ رونلڈ بوکا امریکی ملٹری پولیس کے بریگیڈ 800 سے وابستہ ایک اہلکار تھا جو 11 ستمبر 2001ء کو امریکا میں ہونے والے حملوں میں مارا گیا۔ یہ جیل اسی کی یاد میں قائم کی گئی اوراس میں عراق کے جنگی قیدیوں کو رکھا گیا۔

’’بوکا‘‘جیل سے قبل عراق کے بیشترجنگی قیدیوں کو بغداد کی ’’ابو غُریب‘‘جیل میں ڈالا گیا تھا۔ بدنام زمانہ ابوغریب جیل میں جب امریکی درندوں کے ہاتھوں قیدیوں سے شرمناک سلوک کے مظاہر سامنےآئے تو اس جیل میں بند کچھ قیدیوں کو ’’رونلڈ بوکا‘‘قید خانے منتقل کردیا گیا۔ ان ہی میں ابو احمد نامی ایک جنگجو جو بعد میں شدت پسندی سے تائب ہوا بھی شامل تھا۔

ابواحمد نےاخبار’’گارجین‘‘ کےنامہ نگارمارٹن گولف کو ایک انٹرویو دیا جس میں اس نے ’داعش‘ کے آغاز کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کیے۔ اس نے بتایا کہ ’’داعش‘‘ کی داغ بیل’’ بوکا‘‘ میں ڈالی گئی۔ بوکا جیل میں قید تمام جنگجوؤں کو اپنے مستقبل اور خطرناک انجام کے حوالے سے سخت خطرات لاحق تھے مگر جلد ہی میں اندازہ ہوا کہ یہ جیل ابو غُریب سے کافی مُختلف ہے۔ تمام جنگجو جیل سے باہر بغداد کے کسی مکان میں بھی محفوظ نہیں ہوسکتے تھے جتنے کہ اس جیل میں تھے۔ البغدادی کی معیت میں تمام جنگجو پوری آزادی سے صلاح مشورہ کرسکتےتھے۔ ابو احمد کی البغدادی سے پہلی ملاقات اسی جیل میں ہوئی۔ بوکا جیل میں ڈالے گئے بیشتر قیدی اکثر البغدادی کے آس پاس رہتے تاہم اس کے باوجود انہیں توقع نہیں تھی کہ البغدادی اس تیزی کے ساتھ اتنا اونچا مقام حاصل کرلےگا۔ خود البغدادی تمام قیدیوں سے الگ تھلگ رہتا۔ جیلربھی اس کا حترام کرتے اور قیدیوں کےدرمیان پیدا ہونے والے تنازعات کے حل کے لیے جیلرالبغدادی ہی سے رجوع کرتے۔ بہ ظاہر ایسے لگتا کہ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔ خود کو دوسروں کی نظروں سے بچاتا ۔ وہ ہراعتبار سے قیدیوں سے الگ تھلگ، چپ چاپ اور پرامن دکھائی دیتا مگر اس کی کم گوئی اس کے اندر چھپے بغاوت کے طوفان کی عکاس تھی۔

البغدادی کا پورا نام ابراہیم بن عواد البدری السامرائی البغداد ہے جو سنہ 1971ء میں عراق کے تاریخی شہر سامراء میں پیدا ہوا۔ اس نے بغداد یونیورسٹی سے اسلامیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ امریکی فوج نے اسے پہلی بار 2004ء میں فلوجہ سے حراست میں لیا۔ گرفتاری سے قبل البغدادی نے ’’لشکر اہل سنت والجماعت‘‘ نامی ایک عسکری تنظیم قائم کرنے میں دوسرے جنگجوؤں کی مدد کی تھی۔ البغداد کی گرفتاری کے وقت بھی اس کے دوست ناصیف جاسم ناصیف نامی جنگجو کے گھر میں اہم اجلاس میں شریک تھے جس میں البغدادی بھی موجود تھا ۔ گرفتاری کے بعد اسے بوکا جیل میں ڈال دیا گیا۔ امریکیوں کو البغدادی کی اصلیت کا اندازہ نہ ہوپایا۔ البغدادی واحد عراقی جنگجو نہ تھا جس کی حقیقت امریکیوں کے لیے صیغہ راز میں رہی بلکہ عراق کے 24 حراستی مراکز میں ایسے 24 ہزار قیدی تھے جن کی حقیقت اوران سے درپیش خطرے کا امریکیوں کو بھی اندازہ نہیں ہوسکا۔

بوکا جیل میں جنگجوؤں کی منصوبہ بندی کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرتا جہاں وہ پوری آزادی کے ساتھ غور و فکر اور منصوبہ بندی کرتے۔ صلاح مشورے سے اتفاق کیا گیا کہ رہائی کے بعد تمام جنگجوآپس میں رابطے میں رہیں گے۔ ایک دوسرے کے موبائل فون نمبر اور ملنے کے پتے زیب تن کرنے کے کپڑوں کے اندرونی حصوں پر لکھ لیے گئے تاکہ کسی بھی وقت رہائی کے بعد ایک دوسرے سے رابطہ رکھا جا سکے۔ جیل میں طے پایا کہ رہائی کے بعد ایک تنظیم قائم کی جائے گی جو عراق کے اہل تشیع کے خلاف مسلح کارروائیوں کا آغاز کرے گی۔ بوکا جیل کے علاوہ ابو غریب اور دیگر قید خانوں سے رہائی پانے والے جنگجو بھی ایسی ہی تنظیم کی تلاش میں تھے۔ کچھ عرصے کے بعد ابو بکر البغدادی کو رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد مغربی بغداد میں واقع اپنے گھر میں البغدادی نے کچھ ساتھیوں کو خفیہ طورپر جمع کیا اور فوری طورپر قابض فوج کے خلاف مزاحمت کے بجائے اہل تشیع کے خلاف خونی کارروائیوں کا فیصلہ کا۔

آغاز میں تمام کارروائیوں کی قیادت ابو مصعب الزرقاوی کے ہاتھ میں تھی اور البغدادی اس کے دست راست کے طورپر سرگرم رہے۔ الزرقاوی بھی نہایت چالاک اور منصوبہ ساز تھا مگر البغدادی انسانی خون کا رسیا تھا۔ سنہ 2006ء میں شمالی بغداد میں امریکی فضائی حملے میں الزرقاوی ہلاک ہوگیا۔ الزرقاوی کی ہلاکت سے جنگجوؤں کو بڑی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث کچھ عرصے تک فرقہ وارانہ حملے کم ہوئے۔ سنہ 2008ء سے 2011ء تک البغدادی اور اس کے ساتھی زیرزمین رہے۔ البغدادی کو اس وقت شہرت ملی جب اس کا نام الزرقاوی کے نائب ابو عمر البغدادی کے معاون اور ابو ایوب المصری کے مقرب کے طور پر سامنے آیا۔ البغدادی اور اس کے دیگر ساتھیوں نے کالعدم بعث پارٹی کے ارکان سے رابطے شروع کردیے اور انہیں یہ باور کرایا گیا کہ ان کا مشترکہ دشمن غیرملکی افواج اور امریکی کٹھ پتلی عراقی حکومت ہے۔ ان دونوں کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا جائے گا۔

البغدادی گروپ کا تعاقب جاری تھا۔ مارچ 2010ء میں امریکی فوجیوں نے مناف عبدالرحیم الراوی نامی ایک جنگجو کو گرفتار کیا۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ الراوی کا تعلق ابو عمر البغدادی کے ساتھ ہے۔ الراوی نے دوران سب کچھ اگل دیا اور ایک خفیہ ٹھکانے میں چھپے عمر البغدادی اور ابو ایوب المصری کی نشاندہی کردی۔ ان کا ٹھکانہ جنوب مغربی تکریت سے چھ کلو میٹر دور ایک الگ تھلگ کمپاؤنڈ تھا۔ اس گھر میں انٹرنیٹ تھا نہ موبائل فون اور نہ ہی وہاں ڈاک کی ترسیل ہوتی تھی۔ یہ مکان مبینہ طورپر اسامہ بن لادن کے زیراستعمال رہنے والے کمپاؤنڈ کی طرز پرتھا۔ پیغامات رسانی کا ذریعہ تین پیغام رساں تھے۔ ان کا ایک اہم رابطہ کار الغدادی تھا جو باہر سے ہرقسم کے پیغامات ابو ایوب المصری اور ابو عمر البغدادی تک پہنچاتا۔ الراوی کی نشاندہی پراس عراقی فوج نے امریکی کمانڈوز کی معاونت میں کارروائی کی اور دونوں جنگجوؤں کو ہلاک کردیا۔

البغدادی نے مکتوب خود بھی لکھے اور جنگجوؤں تک پہنچائے۔اس نے کئی خط بن لادن کو بھی لکھے۔ ایک خط میں اس نے بوکا جیل میں گذرے دنوں کا بھی احوال بیان کیا اور لکھا کہ بوکا جیل میں گذرے ایام نہایت اہمیت کے حامل تھے۔ جیل انتظامی منصوبہ بندی کےلیے ایک اسکول کا درجہ رکھتا تھاجہاں جمع ہونے والے تمام جنگجو اعلیٰ تربیت یافتہ تھے۔ ایک دوسرے خط میں ابو بکربغدادی نے ابو ایوب المصری اور ابو عمر البغدادی کی ہلاکت کو کڑی آزمائش قرار دیا۔ اس کے بعد تنظیم کی براہ راست قیادت ابو بکر البغدادی کے ہاتھ میں آگئی۔ اس وقت تک البغدادی کے القاعدہ رہ نماؤں کے ساتھ بھی براہ راست روابط تھے مگر دولت اسلامی عراق و شام ’’داعش‘‘ کی تشکیل کے بعد البغدادی نے اپنے راستے جدا کرلیے۔ جنگ کا ایک نیا طریقہ کار وضع کیا اور جنگ کے دوران قبضٗے میں لیے جانے والے علاقوں کو ایک حکومت کے زیرنگیں لانے کی پالیسی اپنائی۔ بعد میں البغدادی کی تنظیم میں شامل ہونے والے جنگجوؤں نے معمولی اختلاف رکھنے والوں کے لیے کڑی سزائیں مقرر کیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ داعش کے چنگل میں پھنسے والے القاعدہ عناصر بھی محفوظ نہ رہ سکے۔
--------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

ٹیگز

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند