تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مدبرانہ قیادت کے دس سال
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 27 جمادی الاول 1441هـ - 23 جنوری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 28 ربیع الاول 1437هـ - 9 جنوری 2016م KSA 23:09 - GMT 20:09
مدبرانہ قیادت کے دس سال

عزت مآب شیخ محمد بن راشد کو چار جنوری 2016 کو دبئی کے حکمران بنے دس سال ہو گئے۔ یہ موقع شکر گزاری اور جشن منانے کا ہے، اور اماراتی شہریوں کے لئے ایک ایسے غیر معمولی حکمران کی قدر دانی کا موقع ہے جس نے نہ صرف متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم کی حیثیت سے ایک بہترین کردار ادا کیا بلکہ عوام کی تمام توقعات پوری کیں اور اس راہ میں آنے والی ساری مشکلات عبور کیں۔

ان کی دانشمندانہ قیادت میں دبئی سنہ 2008 کے عالمی اقتصادی بحران سے کامیابی سے نکل آیا اور آنے والے سالوں میں پہلے سے تیز ترقی پر گامزن رہا جس کی بنیادی وجہ مشکل اہداف کے حصول میں پہل کرنے اور رکاوٹوں کو عبور کرنے کی ان کی جرآتمندانہ حکمت عملی تھی۔ میں ان کو بچپن سے جانتا ہوں جب ہم اونٹوں کی دوڑ میں حصہ لیا کرتے تھے، اس وقت سے وہ ایک نڈر اور ہر مقابلے کو جیت لینے کی دھن میں رہنے والے ہوا کرتے تھے۔

تمام اماراتی شہریوں کو اس امر پر بھی شکرگزار ہونا چاہئے کہ چاروں طرف سے تشدد اور دہشت گردی میں گھرے خطے میں واقع ہونے کے باوجود ان کا ملک اپنی سلامتی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے لوگوں کو یہاں آنے، نوکریاں اور کاروبار کرنے اور سرمایہ کاری کرنے کے مواقع فراہم کرنے میں بھی کامیاب رہا ہے۔ یہ ملک پولیس اسٹیٹ نہیں ہے، نہ یہاں سڑکوں پر کہیں فوج گشت کرتی نظر آتی ہے، اور نہ ہی کوئی شہری رات کے چار بجے بھی دروازے پر دستک کے امکان سے کوئی خوف محسوس کرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم لوگ اس اعتماد سے زندگی گزارتے ہیں کہ ہماری حفاظت پس منظر سے کی جاتی ہے۔ ہماری سڑکیں دن اور رات کے ہر پہر محفوظ ہیں، اور اس کا سارا کریڈٹ شیخ محد بن راشد کو جانا چاہیے۔

ہمارے ملک کی بنیادیں امن کے ستونوں پر استوار ہیں اور ہم متحدہ عرب امارات کے بانیوں، شیخ زید بن سلطان النہیان اور شیخ راشد بن سعید المکتوم، کو کبھی نہیں بھول سکتے جنہوں نے بے آب ریگستانوں سے ایک عظیم الشان ملک کی تعمیر کی بنیادیں رکھی تھیں۔ ان بزرگوں نے عوام کے لئے اعلیٰ معیار زندگی کی فرہمی کا مقصد اپنایا جسے اب ان کے بچے، متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران عزت مآب شیخ خلیفہ بن زید اور شیخ محمد بن راشد المکتوم، لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔

فخر اور کارکردگی

ہم نے خود کو ہمیشہ تنازعات سے دور رکھا ہےاور اپنے کئی پڑوسیوں کے بر عکس ہمیں نظریات کو پھیلانے اور علاقوں پر جھوٹے دعوے کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مگر جب ہم پر یا ہمارے قریبی اتحادیوں کے خلاف جارحیت کی گئی، جس طرح ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے حال ہی میں یمن کے عوام اور سعودی عرب کے خلاف کی تھی، تو ہم اپنے دفاع میں اٹھنے سے کبھی نہیں ڈرے۔ مجھے فخر ہے کہ ہماری قیادت نے اس پر جراتمندانہ موقف اختیار کیا اور سعودی قیادت میں اتحادی فوجوں کو غیر متزلزل مدد فراہم کی۔ میں اپنے شہیدوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے فرض کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔

ناممکن نظر آنے والے کام سر انجام دینا اور ہر چیز کو درجہ کمال تک پہنچانا اب متحدہ عرب امارات کی عالمی پہچان بن چکا ہے۔ ملک کی ایک بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ مسلسل نئے مستقبل کا تعاقب کرنے کے باوجود قیادت عوام کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے ثقافتی ورثے اور روایات کو اپنائے رکھیں، اپنی شناخت پر فخر کریں اور اپنے قومی لباس کو اپنی اقدار کی علامت کے طور پر زیب تن کرتے رہیں۔

شیخ محمد نے ہمیشہ پالیسیوں اور کارکردگی میں بہترین معیار مقرر کیا اور اس کے لئے وہ تعریف کے مستحق ہیں کہ دبئی میں تمام ادارے اور چیزیں اپنا اپنا کام کرتی ہیں اور کسی خرابی کے بغیر کرتی ہیں۔ ہماری پولیس کا شمار تربیت، ٹیکنالوجی اور عوام سے تعلقات کے معاملات میں دنیا کی اعلی ترین پولیس فورسز میں ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمارے ہنگامی امداد کے ادارے بھی کارکردگی کے لحاظ سے صف اول میں آتے ہیں اور اس کا حالیہ مظاہرہ سال نو کی تقریبات میں اس وقت دیکھا گیا جب دنیا کی بلند ترین عمارت برج الخلیفہ سے چند قدم فاصلے پر 63 منزلہ ہوٹل کی کئی منزلوں میں شدید آگ بھڑک اٹھی جسے دیکھ کر لوگوں کو ہالی وڈ کی فلم ‘ٹاورنگ انفرنو’ یاد آگئی۔ مگر یہاں معاملہ اس فلم کے بر عکس رہا اور ہزاروں مہمانوں سے بھرے ہوٹل کو کسی نقصان کے بغیر 15 منٹ میں خالی کرا لیا گیا۔ دنیا بھر کے ٹی وی چینل اپنی حیرانی کا اظہار کرتے رہے کہ اس واقعے میں صرف 14 افراد زخمی ہوئے جن کی اکثریت کو معمولی زخم آئے۔ چند منٹ میں فائر سروس پہنچ گئی تھی جس نے سینکڑوں مرد، عورتوں اور بچوں کو جلتے ہوئے ہوٹل سے بحفاظت نکال کر دنیا بھر کے لئے ایک شاندار مثال قائم کی۔

دنیا کی حیرانی یہاں پر ختم نہیں ہوئی۔ بے شمار لوگوں کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا جب انہوں نے سنا کہ آتش بازی کا سالانہ مظاہرہ طے شدہ وقت اور پلان کے مطابق ہوگا۔ مگر ہم اماراتیوں کو کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ یہ سب ہماری توقع کے مطابق تھا۔ اگر کسی اور ملک میں یہ واقعہ ہوتا تو متاثرہ علاقے کو کئی دن کے لئے بند کر دیا جاتا مگر دبئی کے حکام نے ایک آتشزدگی کی وجہ سے لاکھوں شائقین کو مایوس نہیں ہونے دیا جو اس شاندار نظارے کو دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے آئے تھے۔

سال 2016 کے آغاز پر میں پر یقین ہوں کہ شیخ محمد کی قیادت میں میرا آبائی شہر ترقی کی منازل اسی طرح طے کرتا رہے گا اور مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے گا۔ میں ہمیشہ شیخ راشد کو ایک باپ کی طرح سمجھتا رہا ہوں اور شیخ محمد میرے لئے ایک محبوب حکمران سے زیادہ ایک محبوب بھائی کی طرح ہیں۔ ہر طوفانی موسم میں ہماری رہنمائی کرنے اور مستقبل کے نئے نئے نقشے بنا کر ہمیشہ ہمیں حیران کرنے کے باعث میں شیخ محمد کی بہت عزت کرتا ہوں۔ آنے والے سالوں کے لئے ان کے اچھوتے اور دلچسپ منصوبوں کا بے چینی سے منتظر ہوں۔ میری سب سے بڑی دعا ہے کہ اماراتی عوام شیخ محمد بن راشد کے شیر جیسے دل اور محفوظ ہاتھوں کے حصار میں مزید کئی دہائیوں تک رہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند