تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیا داعش اپنے خاتمے کی طرف بڑھ رہی ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 29 ربیع الثانی 1437هـ - 9 فروری 2016م KSA 09:36 - GMT 06:36
کیا داعش اپنے خاتمے کی طرف بڑھ رہی ہے؟

عالمی جہاد کا تصور اپنی حالیہ شکل میں نوے کی دہائی سے موجود ہے اور یہ تعریف اسے افغانستان میں 1980 سے 1990 کی دہائیوں کے دوران جاری رہنے والی سوویت یونین کے جنگ اور اس کے بعد شروع ہونے والی تباہ کن خانہ جنگیوں کی وجہ سے دی گئی ہے۔ اسلام پرست مجاہدین نے آخر کار یہ جنگ جیت لی تھی اور سوویت یونین کو شکست سے دوچار کیا تھا جو وہاں کی سوشلسٹ حکومتوں کی پشت پناہی کرتا رہا تھا۔ یہ شکست آخر کار سوویت یونین کے سقوط کا باعث بنی۔

تاہم یہ چیز کسی کے گمان میں نہیں تھی کہ سوویت افواج کی پسپائی کے بعد اگلی دہائی میں مجاہدین کا نظریہ جہاد تیزی سے ابھرے گا اور کمیونزم کے خاتمے کے بعد لبرل مغرب کے سامنے تنہا نظریاتی مد مقابل اور جیو سیاسی دشمن کے طور پر سامنے آئے گا۔ سوویت کمیونزم اور مغربی سرمایہ داری نظاموں کے مابین سرد جنگ کے دوران افغانستان ایک اہم میدان جنگ ضرور بنا رہا جس میں مغربی طاقتوں نے مجاہدین کی مالی اور فوجی امداد کی۔ مگر اس جنگ کے بعد ہونے والی عالمی جیو سیاسی رسہ کشی میں افغانستان کے بے انتہا اہمیت اختیار کر جانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

مگر کچھ اہم لوگوں پر مشتمل ایک گروپ کے لئے یہ جنگ سوویت یونین کی عملداری کے پھیلاؤ کے خلاف لڑائی سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی تھی۔ پوری اسلامی دنیا اور اس کے باہر سے نوجوان افغانستان میں جمع ہوئے تھے جو مختلف ماحول اور پس منظر رکھنے کے باوجود جذبہ جہاد سے سرشار تھے۔ یہ ملک اسلام پرستی اور جنگی دینیات کا امتزاج بن گیا تھا۔

اس کا نتیجہ ایک مستقل عالمی جہاد کی شکل میں نکلا جو افغانستان کے بعد پوری دنیا میں پھیل جانا تھا۔ جس میں عرب ممالک، افریقہ، چیچنیا، سابق یوگوسلاویہ اور یورپ، اور پھر نائن الیون کی شکل میں اپنے عروج پر جا پہنچا۔

دہشت کا نظریہ

یہ نظریہ آج کی دنیا کا ایک دائمی حصہ بن چکا ہے اور ممکنہ طور پر سب سے بڑا خطرہ جو صرف مغرب کے لئے نہیں بلکہ مغربی دنیا کی قیادت میں قومیت پر مبنی ریاستوں کے عالمی نظام کے لئے بھی۔ اس خطرہ کی بنیاد نظریاتی اور تزویراتی عزائم کا وہ امتزاج ہے جس کا مقصد غیر مسلم طاقتوں کو کمزور کرنا اور آخر کار تباہ کرنا ہے۔

اس تحریک کا روحانی قائد بننے والی پہلی تنظیم القاعدہ تھی جس کی حکمت عملی مغرب کو مشرق وسطی کی جنگوں میں الجھا کر شکست دینا تھا۔ ان جنگوں، یعنی افغانستان اور عراق، سے مغرب اس طرح تو تباہ نہیں ہوا جس طرح افغانستان کی جنگ میں سوویت یونین ہوا تھا، مگر کمزور ضرور ہو گیا۔

پچھلے دس سالوں کے دوران مغرب اس قسم کی جنگوں میں نہیں الجھا۔ مغرب نے خود کو ایسی کسی زمینی جنگ میں الجھنے نہیں دیا جو نہ وہ جیت سکتا تھا اور نہ ہی اس سے کچھ فائدہ حاصل کر سکتا تھا۔ ان میں لیبیا، شام، بغاوت کے بعد کا عراق، اور امریکی انخلا کے بعد کا افغانستان شامل ہیں۔ اسی طرح مغرب اپنی سرزمین پر ہونے والے پے در پے دہشت گرد حملوں کی چال میں نہ آ سکا۔

ادھر کئی ناکام ریاستوں کے ملبے سے ایک نئی تنظیم ایک نیا طریقہ کار لئے ابھری جس کا نام دولت اسلامیہ برائے عراق اور شام یعنی داعش ہے۔ ایسے میں جب القاعدہ کی گوریلا حکمت عملی کی ناکامی کا آغاز ہو چکا تھا، داعش نے اس کے بجائے نئی اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان کردیا تاکہ مغربی عالمی نظام کے متبادل کے طور پر ایک مثالی اسلامی ریاست کے تصور کو عملی شکل دی جاسکے۔ اور وہ یقیناً پوری دنیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوگئی۔

داعش نے پچھلے چار پانچ سال سے عالمی سیاسی منظر پر ایک غلبہ سا حاصل کیا ہوا ہے۔ وہ مغرب کو مشرق وسطی کی ایک اور جنگ میں کھینچ کر لانے میں تقریباً کامیاب بھی ہو گئی تھی، مگر مغرب نے اپنے بجائے روس کو اس جال میں پھنسا دیا اور جب عراق اور شام، اور کسی حس تک لیبیا، دنیا کی توجہ کا مرکز بنے تو بحیرہ روم کا پورا مشرقی علاقہ عالمی جہاد کے تصور کی عملی شکل بن کر رہ گیا۔

داعش کی پروپیگنڈہ مشین نے دیگر تمام مسابقین کو پیچھے چھوڑ دیا اور دنیا بھر سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ’اسلامی خلافت‘ کا حصہ بننے کی آرزو کرنے لگے۔ نہ ٖصرف گڑ بڑ کا شکار مسلم ممالک کے لوگ بلکہ مغرب میں بھی کئی خود ساختہ دہشت گردی کے سیل داعش کے اطاعت گزار بن گئے۔ داعش نے ان تمام لوگوں کو مربوط کرنے اور ان کی قوت کو اسلامی ریاست کے استحکام کے لئے استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

قوت میں کمی

شروع میں تو جہادیوں کے لئے ماحول سازگار رہا، مگر پچھلے کئی ماہ سے حالات بدلنے لگے۔ داعش کا سب سے مؤثر اثاثہ اس کی فوجی قوت تھی، جس کے ذریعے اس نے گمنامی سے نکل کر شام اور عراق کے کئی علاقوں اور شہروں پر اچانک قبضہ کر لیا تھا۔ اب یہ قوت زائل ہوچکی ہے۔ ابتدا میں داعش سنًی اکثریتی علاقوں کے نواح پر قبضہ کر لیتی تھی لیکن اکثر مواقع پر یہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہتا تھا۔ مگر اب داعش میں ایسی کارروائی کرنے کی صلاحیت بھی باقی نہیں رہی ہے۔

شمالی علاقوں میں کرد اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں ہیں اور مغربی افواج کی فضائی بمباری ان کی مددگار ہے۔ عراق نے مشرق اور جنوب مشرق میں ایران کی مدد سے اور مغرب میں شامی حکومت کی مدد سے داعش کی پیش قدمی روک دی ہے۔ تاہم ان کامیابیوں کی پسپائی کے خطرات بھی محسوس کئے جا رہے ہیں۔ اس جنگ میں بشار الاسد کی حمایت میں روسی فوجی مداخلت نے پانسہ بالکل پلٹ دیا ہے اور اب یہ قوتیں داعش کے خلاف مستحکم نظر آتی ہیں۔

اب اس بات کا امکان پیدا ہو چلا ہے کہ ان لڑائیوں کی طوالت کے باعث داعش کی قوت بکھر جائے گی اور نئی افرادی قوت فراہم نہ ہونے کے باعث یہ گروپ اپنے مفتوحہ میدان چھوڑ کر چلا جائے گا۔ اس صورت میں یہ بھی امکان ہے کہ داعش کا وجود ختم ہوجائے گا۔ یہ امکانی صورت آسانی سے حاصل نہیں ہو سکے گی مگر اٖغلب امکان یہی لگتا ہے۔

اس صورتحال نے جہادیوں میں ایک اور جنگی پینترے کی تبدیلی کو جنم دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اب ان کے پروپیگنڈے کا رخ خلافت کے لئے نئے جنگجووں کو بھرتی کرنے کے بجائے القاعدہ کی پرانی حکمت عملی کی طرف واپس ہو گیا ہے یعنی خود رو دہشت گردی کے سیل قائم کر کے جارح ممالک کو غیر مستحکم کرنا۔

جب بھی اس خود ساختہ خلافت کا خاتمہ ہوگا، خطرہ ہے کہ ان جنگجووں کے گروہ پورے خطے میں اور اس سے بھی آگے تک پھیل جائیں گے۔ لیکن اس دوران مقامی طور پر تشکیل پانے والے دہشت گرد سیل نئے حملوں کی تیاری کر رہے ہیں جیسا کہ انڈونیشیا، پیرس اور امریکہ میں ہوئے۔ وہ اس بات کے قائل لگتے ہیں کہ عالمی سطح پر اپنا اثرو رسوخ باقی رکھنے کا یہ موثر ترین طریقہ ہے۔

لگتا ہے کہ داعش کو اپنا انجام نظر آنا شروع ہو گیا ہے، ہمیں انتظار کرنا ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
-------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند