تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ڈالر کو طلاق: امریکا کے خلاف نئی ایرانی صف بندی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 10 ربیع الثانی 1442هـ - 26 نومبر 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 4 جمادی الاول 1437هـ - 13 فروری 2016م KSA 20:46 - GMT 17:46
ڈالر کو طلاق: امریکا کے خلاف نئی ایرانی صف بندی

ایران نے بھی عالمی تجارت میں امریکی ڈالر ترک کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ڈالر کے بجائے دوسری کرنسیوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، یہ اعلان ایران کی سرکاری تیل کمپنی، ایرانی نیشنل آئل کمپنی کے ڈائریکٹر برائے بین الاقوامی مارکٹنگ، صفدر علی کرامتی نے کیا ہے۔

مسٹر کرامتی نے کہا کہ اب تیل کی مانگ اور کیش وصولی کے لئے ملک کی اولین ترجیح 'یورو' ہے۔ یورپی گاہگوں کے لئے سنگل کرنسی یورو میں تیل خریدنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وزارت خارجہ اور وزارت صنعت و کان کنی کے دو عہدیداروں نے مجھے بتایا ہے کہ ایران ڈالر کے بجائے دیگر کرنسیوں میں برآمدات اور درآمدات کی ادائیگیوں کے کئی طریقے پیش کرتا ہے۔

تہران، امریکی مفادات، علاقائی خارجہ پالیسی اور عالمی طاقت کو زک پہنچانے کے لئے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گا۔ ایرانی قیادت کو یقین ہے کہ امریکہ کے عالمی اثر و رسوخ کے پیچھے بنیادی کردار پیٹرو ڈالر ہے۔ ڈالر، دنیا کی بھی بنیادی کرنسی بن چکا ہے اور دنیا بھر کے کرنسی ذخائر میں اس کا حصہ ساٹھ فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ ایران کے نقطہ نظر سے پیٹرو ڈالر کے استعمال میں کمی امریکی طاقت پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔

اچھی ٹائمنگ

ایران کے لئے ڈالر سے چھٹکارا پانے کا یہ بہترین وقت ہے۔ اس وقت یہ فیصلہ امریکہ سے جنگ کا خطرہ بھی نہیں بن سکتا کیونکہ وائٹ ہاؤس دیگر بڑی طاقتوں کو آمادہ کر کے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کر چکا ہے اور وہ اپنی ’خارجہ پالیسی کی اعلا ترین کامیابی‘ کو نقصان پہنچانے پر تیار نہیں ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں اب ایران کی منڈیاں دنیا بھر کے لئے اور خاص طور پر یورپ، روس، چین، بھارت جیسے بڑے تجارتی ساتھیوں کے لئے کھل چکی ہیں۔

ایران عالمی تجارت کے لئے ڈالر پر انحصار بڑی حد تک کم کرنا چاہتا ہے تاکہ اگر واشنگٹن اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اس پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر پابندیاں دوبارہ نافذ کر دیں تو متبادل ذرائع سے تجارت جاری رہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ تہران ، یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں میں ڈالر کے بجائے دوسری کرنسیوں میں تجارتی معاہدے کرنے کے لئے بڑی عجلت میں ہے۔

درآمدات کے لئے بھی تہران دوسری کرنسیوں میں ادائیگی کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت بھی کئی ایرانی ادارے اور افراد امریکی اقتصادی پابندیوں کے تحت ہیں جو امریکی بینکنگ نظام کو استعمال نہیں کر سکتے۔ ڈالر سے گریز ان کے لئے بڑا مددگار ثابت ہوگا کہ وہ متبادل بینکوں اور کرنسیوں کے ذریعے دنیا سے تجارت کریں۔

ایٹمی معاہدے کے بعد ایران سے تعلقات بہتر بنانے پر واشنگٹن نے بڑی خوشی کا اظہار کیا تھا اور توقع ظاہر کی تھی کہ تہران بھی ایسا ہی کرے گا۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ اقتصادی پابندیاں اٹھنے کے بعد ایران کی امریکہ پر بد اعتمادی کم ہوگی اور ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ لیکن ایران کی امریکہ سے گہری نفرت جوں کو توں ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔

وائٹ ہاوس کی غلطی یہ تھی کہ اس نے ایران کو دیگر عام ممالک کی طرح سمجھا تھا جو اپنے قومی مفادات کو ہر چیز پر ترجیح دیتے ہیں۔ ایران کی سیاسی اسٹبلشمنٹ انقلابی نظریات اور قومی مفادات کا مجموعہ ہے۔ وائٹ ہاوس کو یہ بات اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایران کی انقلابی حکومت کی قانونی حیثیت اورجواز دراصل امریکا دشمنی کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔

تہران حکومت اس بات پر پختہ اور حقیقی یقین رکھتی ہے کہ واشنگٹن اس کا تختہ الٹنا چاہتا ہے، اور یہ یقین جاری رہے گا خواہ حکمران ملّاوں پر امریکہ کتنے ہی تحائف اور نوازشات کی بارش کرے۔ علاوہ ازیں تہران حکومت کو اپنی بقا اور جواز کے لئے ایک طاقتور دشمن کی شدید ضرورت ہے تاکہ وہ قومی وسائل اور دولت پر اسی طرح تصرف جاری رکھے اور اپنی ناکامیوں کے لئے دشمن کو مورد الزام ٹھراتی رہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید