تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اس سال بھی اسرائیل اور حماس کی جنگ ہو گی؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 18 جمادی الاول 1437هـ - 27 فروری 2016م KSA 11:27 - GMT 08:27
اس سال بھی اسرائیل اور حماس کی جنگ ہو گی؟

تجزیہ نگاروں نے اس سال اسرائیل اور اسلامی تحریک مزاحمت[ حماس] کے درمیان جنگ کے امکانات کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا ہے۔اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ سنہ ۲۰۱۴ کی جنگ کے بعد کافی سیاسی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔

تاہم جو وجوہات بیان کی جاتی ہیں وہ وہی ہیں جن کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان جنگ کے امکانات بہت زیادہ نظر آتے ہیں۔ سنہ ۲۰۱۴ میں بھی یہی کہا جاتا رہا تھا دونوں فریقین سیاسی رکاوٹوں کی وجہ سے جنگ نہیں کرنا چاہتے، مگر پھر بھی اسرائیل نے اسرائیل نے غزہ پر حملہ کر دیا تھا۔جب حماس نے یہ اعتراف کیا کہ اس نے مستقبل کی امکانی جنگ کے پیش نظر نئی سرنگیں بنا لی ہیں تو اس کے کچھ دن بعد اسرائیلی صدر بنجمن نیتن یاہو نے دھمکی دی تھی کہ اس دفعہ اسرائیل سنہ ۲۰۱۴ سے زیادہ سخت حملے کرے گا۔

جو تجزیہ کار جنگ کے امکانات کو رد کرتے ہیں وہ اس کی بنیادی وجہ ترک۔اسرائیل مصالحت کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صلح اسرائیل کے حماس پر حملے کی راہ میں رکاوٹ ہے کیونکہ انقرہ بھی اس کے خلاف ہے۔ تاہم ترک صدر ایردوآن کہ چکے ہیں کہ ان کے ملک کو یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ اسرائیل اس کی ضرورت ہے۔ شام کی جنگ کے معاملے پر امریکہ اور روس دونوں کے ساتھ انقرہ جس تناؤ کا شکار ہے وہ غزہ پر ممکنہ اسرائیلی حملے پر اثر انداز ہونے کی اس کی گنجائش کو بہت کم کردے گا۔

اسرائیل نے غزہ پر سنہ ۲۰۰۸، ۲۰۰۹، ۲۰۱۲ اور ۲۰۱۴ میں جو حملے کئے تھے ان کے لئے اس کا واحد جواز حماس کے دیسی ساختہ راکٹوں سے دفاع کرنا تھا۔ یہ بہانہ اب بھی اسی طرح موجود ہے۔ جن کو اسرائیل کے غزہ پر ایک اور حملے کے امکان پر شک ہے وہ کہتے ہیں کو یہ حرکت واشنگٹن کو ناگوار گزرے گی کیونکہ اس سے اسرائیل۔فلسطین امن مذاکرات کی بحالی کی کوششیں تباہ ہو جائیں گی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ واشنگٹن نے ہمیشہ اسرائیل کے 'حق دفاع' کی تائید کی ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران اسرائیل غزہ پر جنگ مسلط نہیں کر سکتا۔ لیکن اسرائیل امریکی حکام کی انتخابی مصروفیات سے بھرپر فائدہ اٹھا سکتا ہے اور تمام امیدواروں کو یہ مؤثر یاددہانی کرا سکتا ہے کہ اسرائیل، امریکا کی اولین ترجیح رہنا چاہئے۔

یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ اسرائیل بڑے پیمانے پر تعمیر نو کی سرگرمیوں اور بین الاقوامی ڈونرزکی وجہ سے غزہ پر حملہ کرنے سے گریز کرے گا۔ لیکن یہ حقیقت بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ماضی میں اسرائیل کے غزہ پر تمام حملوں کے دوران بین الاقوامی سرمایہ کاری سے تعمیر نو کی سرگرمیان جاری تھیں۔

دریائے اردن کا مغربی کنارہ اس وقت فلسطین۔ اسرائیل تنازع کے حل کے لئے کی جانے والی بین الاقوامی سفارتکاری کا مرکز ہے، مگر دنیا اسے مغربی کنارے سے سیاسی اور جغرافیائی طور پر علاحدہ ایک علاقے کی حیثیت سے دیکھتی ہے۔ یہی تلخ حقیقت غزہ کو مزید غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند