تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایرانی انتخابات پر میڈیا کی مبالغہ آرائی اور گمراہ کن منظر کشی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 8 ربیع الثانی 1442هـ - 24 نومبر 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 18 جمادی الاول 1437هـ - 27 فروری 2016م KSA 22:45 - GMT 19:45
ایرانی انتخابات پر میڈیا کی مبالغہ آرائی اور گمراہ کن منظر کشی

ایرانی پارلیمنٹ اور مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات کی پیش بینی کے لئے عالمی میڈیا، خصوصاً صف اول کا مغربی میڈیا، جذباتیت اور جوش کی حدود عبور کر گیا ہے۔ اہم، فیصلہ کن، نازک، تشویشناک، متحرک، وغیرہ ۔ یہ ان الفاظ میں سے چند ہیں جو میڈیا میں ان انتخابات کی منظر کشی کے لئے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ان انتخابات کے نتائج کو مستقبل کی ایرانی قیادت اور اس کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں کے تعین کے لئے بنیادی اور فیصلہ کن عنصر قرار دینا ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ کیونکہ اس تبصرہ سے نہ صرف ایران کی سیاسی، سماجی، اور اقتصادی اسٹبلشمنٹ کی پیچیدگیوں اور باریکیوں کے بارے میں لاعلمی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ یہ عمومی مغالطوں، جذباتیت اور ایران کے بارے میں ناقص معلومات کی عکاسی کرتا ہے۔

مجلس خبرگان رہبری

مجلس خبرگان رہبری ۸۶علما پر مشتمل ایک بالائی ایوان ہے جو براہ راست عوام کے منتخب کردہ ہوتے ہیں اور ان کا کام سپریم لیڈر کا انتخاب، معزولی اور احتساب کرنا ہوتا ہے۔ تاہم اس کا انتخاب لڑنے سے قبل امیدواروں کی اہلیت اور نا اہلیت کا فیصلہ ایک سخت گیر ادارہ کرتا ہے جس کا نام شوریٰ نگہبان قانون اساسی ہے۔ بارہ ارکان پر مشتمل شوریٰ نگہبان قانون اساسی کے چھہ ارکان براہ راست تعینات کئے جاتے ہیں اور باقی چھہ بالواسطہ تعینات کئے جاتے ہیں، یعنی عدلیہ کے سربراہ کی جانب سے، جسے خود سپریم لیڈر تعینات کرتا ہے۔

بلا شبہ شوریٰ نگہبان قانون اساسی کے ۱۲ ارکان اپنی تعیناتی کے لئے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مرہون منت ہوتے ہیں، انہی کا ایجنڈا چلاتے ہیں، مجلس خبرگان کے ان امیدواروں کو نا اہل قرار دیتے ہیں جن کے خیالات سپریم لیڈر خامنہ ای سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر شوریٰ نگہبان قانون اساسی نے ماضی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی کے پوتے حسن خمینی کو بھی مجلس خبرگان کے انتخابات کے لئے نا اہل قرار دے دیا تھا۔

مجلس خبرگان رہبری کی ذمہ داری ایران کے سپریم لیڈر کا انتخاب، معزولی اور نگرانی کرنا ہوتا ہے۔ مگر یہ سیاسی ادارہ پچھلے ۲۸ سال سے بے کار بیٹھا ہوا خامنہ ای کی موت کا انتظار کر رہا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کے ارکان آئندہ کے سپریم لیڈر کا انتخاب کریں گے؟

جب خامنہ ای بر سر اقتدار آئے تو انہوں نے تمام سرکردہ علما کو منظر عام سے ہٹا دیا تھا۔ شوریٰ نگہبان قانون اساسی ،جو ان کا سیاسی ہتھیار ہے، نے صرف نچلے درجے کے علما کو جنہوں نےخامنہ ای اور پاسداران انقلاب کی اعلیٰ قیادت سے وفاداری کا اظہار کیا تھا مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات لڑنے کے لئے اہل قرار دیا۔ ان ۸۶ ارکان نے جو اپنے مرتبے اور تنخواہوں کے لئے خامنہ ای کے ممنون تھے کبھی بھی ان کا احتساب نہیں کیا۔

مجلس خبرگان نے پہلی اور آخری مرتبہ سپریم لیڈر کا انتخاب ۱۹۸۹ میں امام خمینی کی وفات کے بعد کیا تھا۔ سابق ایرانی صدر رفسنجانی کی تحریروں کے مطابق ان ۸۶ ارکان نے نئے سپریم لیڈر خامنہ ای کا انتخاب صرف چند گھنٹوں میں کر لیا تھا۔ لیکن یہ حقیقت کم لوگ جانتے ہیں کہ امام خمینی اور پاسداران انقلاب کی قیادت اس سے بہت پہلے سے ہی خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر بنانے کے لئے تیار کر رہے تھے، خصوصاً اس وقت سے جب امام خمینی کے نامزد جانشین آیت اللہ حسین علی منتظری کو ان کی جا نشینی سے اس لئے ہٹا دی گیا تھا کیونکہ انہوں نے نئے ایران میں مذہب کو سیاست میں داخل کرنے پر تنقید کی تھی اور امام خمینی کے خیالات سے بھی اختلاف کیا تھا۔ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر بنانے کے لئے پاسداران انقلاب نے آئین میں تبدیلی کر کے سپریم لیڈر کے لئے لازماً 'مرجع' ہونے کی شق ختم کر دی۔

شوریٰ نگہبان قانون اساسی نے خامنہ ای کو اس لئے اہل قرار دیا کیونکہ ان کی منظوری پہلے ہی پاسداران انقلاب اور امام خمینی دے چکے تھے۔

مجلس خبرگان کے انتخابات

پچھلے ۳۵ سالوں کے دوران ایرانی پارلیمنٹ تمام اہم قوانین کے منظوری کے لئے ہمیشہ سپریم لیڈر کی پسند اور نا پسند کی طرف دیکھتی رہی ہے، جیسے امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاہدہ، شام کی مالی اور فوجی معاونت اور فوجی بجٹ اور مہمات وغیرہ۔ موجودہ پارلیمنٹ پر سخت گیر بنیاد پرستوں کا کنٹرول ہے مگر انہوں نے ایٹمی معاہدے پر معتدل صدر روحانی کے لئے کوئی مشکل نہیں کھڑی کی اور اسے منظور کرنے میں اس لئے دیر نہیں لگائی کیونکہ سپریم لیڈر اور پاسداران انقلاب کی قیادت اقتصادی امداد حاصل کرنے کی غرض سے اس کی منظوری پہلے ہی دے چکے تھے۔ در حقیقت، روحانی کے صدر بننے سے پہلے ہی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کی قیادت سیاسی اسٹبلشمنٹ کو تیار کر رہے تھے کہ عالمی پابندیوں کو ہٹانے کی غرض سے مغرب سے معاہدہ کر لیا جائے۔

پارلیمنٹ کے امیدواروں کے لئے بھی شوریٰ نگہبان قانون اساسی سے پیشگی منظوری لینا ضروری ہے۔ صدر خاتمی کے دور میں شوریٰ نگہبان قانون اساسی نے یہ غلطی کی تھی کہ اصلاح پسندوں کو الیکشن لڑنے دیا جس کے بعد وہ پارلیمنٹ پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ مگر جب انہوں نے یہ اشارے دیے کو وہ سپریم لیڈر اور پاسداران انقلاب کی قیادت کے ایجنڈے کے ساتھ نہیں چل سکتے تو پاسداران انقلاب نے جلد ہی اصلاح پسندوں پر اس طرح قابو پا لیا کہ ان میں سے بیشتر کو قید کر لیا گیا اور ان کے اخبارات کو بند کر دیا گیا۔

آخر میں، ایران کی پارلیمنٹ اور مجلس خبرگان کے انتخابات کے بارے میں میڈیا کے تمام تجزیے محض سیاسی بحث بازی، مغالطوں، گمراہ کن تصورات اور ایران کے حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہیں اور کسی طرح بھی دانشورانہ کاوش نہیں ہیں۔ اس حقیقت سے آگاہی کے لئے کہ ایران کے سیاسی اور اقتصادی امور پر پاسداران انقلاب کی قیادت، فوجی سلطنت اور خامنہ ای کا مکمل کنٹرول ہے اور وہی ایٹمی معاہدے اور نئے سپریم لیڈر کے انتخاب جیسے تمام اہم فیصلے کرتے ہیں، تصویر کے پیچھے دیکھنا بہت ضروری ہے۔

پاسداران انقلاب کو امام خمینی نے تشکیل دیا اور خامنہ ای نے اسے بے پناہ طاقت کا مالک بنایا۔ یہ ادارہ اب اسلامی جمہوریہ ایران کے باپ اور بنیادی فیصلہ ساز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید