تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیا یہ لوگ شام کے ٹکڑے کر سکتے ہیں؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 24 جمادی الاول 1437هـ - 4 مارچ 2016م KSA 08:07 - GMT 05:07
کیا یہ لوگ شام کے ٹکڑے کر سکتے ہیں؟

شام سے بڑی ہی ہولناک اور تشویشناک خبریں آرہی ہیں، یہ شام وہی سر زمین ہے جس پر ہمارے رسول پاک نبی آخر الزمانؐ نے بھی قدم رکھے تھے، ایک بار نہیں کئی بار تشریف لائے تھے۔ میرے خیال میں تو شام واحد بیرونی ملک ہے جس پر یقینی طور پر آپ کے قدم مبارک پڑے اور آج تک ان مبارک قدموں کے نشانات اور دیگر آثار بھی موجود ہیں اور کھربوں مسلمانوں کی طرح مجھے بھی انہیں دیکھنے کا کئی بار شرف حاصل ہو چکا ہے، اسی شام اور یمن کے متعلق حضورؐ نے یہ دعا بھی فرمائی تھی کہ اے اللہ ہم مسلمانوں کیلئے ہمارے اس شام اور یمن میں برکت عطا فرمانا، اس لئے مجھے تو یہ یقین ہے کہ شام اور یمن دونوں ملک سرزمین حرمین شریفین کیلئے برکات کے سرچشمے ہی رہیں گے ، دشمن اوربد خواہ ناکام ہونگے!

لیکن اس کا کیا کیجئے کہ انکل سام کا یہودی وزیر خارجہ ہنری کسنجر ڈینگیں مارتے مارتے مر گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کوئی بھی جنگ مصر کے بغیر نہیں ہوسکتی اور شام کے بغیر کبھی صلح و امن بھی ممکن نہیں، عالمی صہیونیت کے مختلف مہرے نوے فیصد سنی مسلمانوں کے ملک شام کو تہ وبالا کر کے دس لاکھ سے زائد انسانوں کو موت کی نیند سلا چکے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہو کر دنیا بھر میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ہمارے پیارے اہل شام جو تواضع، ملنساری، خوش اخلاقی اور حسن سلوک میں قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا نمونہ تھے بے گھر اور بے سہارا ہوگئے ہیں۔ رہا مصر تو وہاں ایک منتخب جمہوری حکومت ایک بے ڈھبے جرنیل کے ہاتھوں ختم کرا کر اب مصر کو بھی داعش کے درندوں کے ذریعے عراق اور شام بنانے کا پروگرام بن چکا ہے تاکہ اسرائیل کے صہیونی کھل کھیل سکیں، مسلمانوں کو غلام بنا لیا جائے اور صہیونی صلیبی سامراجی مشرق وسطیٰ کی معدنیاتی اور پیداواری دولت آرام سے لوٹ سکیں!

شام کبھی بہت بڑا ملک ہوتا تھا جس میں لبنان، تمام فلسطین اور اردن بھی شامل تھا مگر اب تو چھوٹا سا سیریا (Syria) رہ گیا ہے مگر اسے بھی دشمن ساٹھ سال سے بری طرح چوس رہے ہیں، سب سے پرانا دشمن تو دروزی ہیں جو خود کو علوی کہتے ہیں مگر وہ نہ اثنا عشری شیعہ ہیں نہ زیدی بلکہ ایک الگ درندہ مخلوق ہیں۔ ساٹھ سال سے نوے فیصد سنی آبادی کو یرغمال بنا کر ظلم کر رہے ہیں، سنی مساجدپر ٹینک چڑھا کراور ہوائی جہازوں سے بم گراکر شہید کیا گیا۔ اس سلسلے میں صرف ایک مثال کافی ہوگی، شام کا پرانا شہر ہے (حَمَا) جس میں صحابہ کرام کے مکانات جوں کے توں مسلمانوں نے محفوظ رکھے ہوئے تھے، اس شہر کو عبرت کا نشانہ بنانے کیلئے بشار کے باپ حافظ الاسد نے ٹینکوں سے برباد کیا اور مسلمانوں کی جوان بچیوں کو پکڑ کر درندہ دروزی سپاہیوں کے حوالے کر دیا گیا جب وہ سب حاملہ ہوگئیں تو واپس کر گئے، اس حکم کے ساتھ کہ انکے پیٹ میں دروزی سپاہی پرورش پا رہے ہیں ان کا تحفظ کرنا ہے انہیں پال پوس کر جوان کرنا ہے اور پھر انہیں دروزی فوجی بنانا ہے تاکہ پھر ہم انہی کو تم پر مسلط کر سکیں! حافظ الاسد نے سنی اکثریت کو دہشت زدہ کرنے کیلئے ہزاروں بیگناہوں کو ٹینکوں کے نیچے دیکر مارا تھا مگر اس پر مشرق ومغرب میں انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کی کوئی آواز بھی نہیں سنی گئی تھی چونکہ مرنے والے سب بیگناہ تو تھے مگر سچے اور پکے سنی مسلمان بھی تو تھے!

باپ کے بعد بیٹے بشار الاسد کے نام نہاد سوشلسٹ پارٹی البعث کے سایہ میں اور کمیونسٹ روس کے اسلحہ اور تائید سے اپنے باپ کی مجرمانہ روش کو جاری رکھا جس سے تنگ آکر نوجوان مسلمان نسل نے مسلح بغاوت کر دی اور قریب تھا کہ بشار کی دروزی فوج کا شام سے جنازہ نکل جائے مگر اسلامی دنیا کے بد خواہ کچھ بشار کی حمایت میں اور کچھ لوٹ مار کرنے اور شام کے مزید ٹکڑے کرنے کیلئے آدھمکے ہیں، لبنان کی شیعہ پارٹی حزب اللہ ایران کی مدد سے شام کی وادیٔ بقاء سمیت کچھ دیگر علاقے میں ایک عربی شیعہ ریاست قائم کرنے کے موڈ میں ہیں۔ صلیبی مغرب کے بعض پرجوش سازشی ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کو سزا دینے کیلئے ترکی اور شامی کردوں کو ایک ریاست بنا کر دینا چاہتے ہیں۔

اسرائیل کے صہیونی تو 1967ء سے جولان کی پہاڑیوں پر قابض ہیں اور دمشق کو ہتھیانے کیلئے مدت سے منڈلا رہے ہیں اس لئے اب چاہتے ہیں کہ روس اور کچھ دیگر لٹیروں کی مدد سے باقی ماندہ ملک شام بھی ہتھیا لیں اور اس میں سے کچھ بشار الاسد کے دروزی درندوں کو سونپ دیں تاکہ جو شامی پناہ گزین یورپی شہروں ایتھنز، لندن اور برلن وغیرہ کے دروازوں پر پڑے ہیں انہیں بھی دروزیوں کی غلامی میں دے دیا جائے تاہم انکل سام بھی اپنی خود ساختہ اسلامی خلافت داعش پر سوار ہو کر شام میں اودھم مچائیں گے مگر دیکھنا اب یہ ہے کہ ترکی سمیت پورے اسلامی مشرق وسطیٰ میں فساد مچانے والے سامراجی شام کے حصے بخرے کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا آپس میں ٹکرا کر نازی جرمنی کے ہٹلر اور فاشسٹ مسولینی کے سے انجام بد کو پہنچتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اسلامی دنیا کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے؟ عرب لیگ کہاں کھوگئی ہے؟ اسلامی کانفرنس کی تنظیم کہاں سو رہی ہے؟ باقی دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی قوم کی تنظیم ہے جو بیدار اور برسرِ عمل ہے بلکہ غیر اسلامی دنیا کی تو بڑی سے بڑی تنظیم بھی سرگرم اور برسرِ پیکار ہے، یورپ کی صلیبی دنیا کی سب سے بڑی فوجی تنظیم ناٹو بھی ڈھٹائی سے پھیل رہی ہے، نئی سے نئی جنگی تیاری کا سامان بھی ہو رہا ہے مگر کس کیخلاف؟ صرف مسلمانوں کیخلاف، اسلامی دنیا میں ہر قیمت پر عدم استحکام اور بدامنی کو مسلسل بڑھایا جا رہا ہے؟

عالمی صہیونیت اور ہندو بنیئے کا حرام سودی، سرمایہ مسلمان دہشت گرد تیار کرنے پر پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے مگر مسلمان لیڈر اور عوام رو کر اور چور کو ’’چور او چور‘‘ کہہ کر واویلا کرنے سے بھی عاجز ہیں؟ اگر کوئی بے بس عورت کہیں غنڈوں میں گر جائے تو اس میں بھی چیخ چلا کر یہ کہنے کی تو جرأت اور ہمت ہوتی ہی ہے کہ بچائو بچائو مگر ہم مسلمان اتنے گئے گزرے ہیں کہ کہیں اکٹھے ہو کر رو بھی نہیں سکتے، فریاد کرنے سے بھی عاجز ہیں؟ لیڈر کرپشن میں گم ہیں اور عوام ایک ودسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔!!! بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند