تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
خطرناک دوست
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 26 جمادی الاول 1437هـ - 6 مارچ 2016م KSA 09:01 - GMT 06:01
خطرناک دوست

امریکی خفیہ ادارے سی آئی نے سعودی عرب کے پاس چار سے سات ایٹم بموں کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔ امریکی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کے سربراہ ’’ہال ٹرنر‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب کے پاس چار سے سات ایٹم بم تیار حالت میں موجود ہیں۔ ان ایٹم بموں کو میزائل یا طیارے کے ذریعے پھینکا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب ایٹم بم چلانے اور بروقت ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

پچھلے ہفتے یہ خبر پڑھتے ہی ذہن میں یہ خیال ابھرا کہ اب پاکستان پر کوئی نیا دبائو آنے والا ہے اگرچہ یہ خبر سعودی عرب کے بارے میں ہے لیکن ایک تیر سے کئی شکار کئے گئے ہیں۔ ایک طرف مشرق وسطیٰ کی خراب صورتحال کو خراب تر کرنے کی کوشش کی ہے‘ ایران کو اشتعال دلانے اور خوفزدہ کرنا مقصود ہے‘ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ نتھی کر کے ایران کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کی کوشش اور کچھ ناروا مطالبات منوانے کا حربہ ہے، چنانچہ یہ خیال اس وقت سچ ثابت ہوا جب رواں ہفتے کے شروع میں ’’پاک امریکہ اسٹرٹیجک ڈائیلاگ‘‘ میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کے سامنے یہ مطالبہ رکھا کہ ’’پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت کو محدود‘ ‘تیاریوں کو آہستہ اور بموں کی تعداد کم کرے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ پاکستان کے وزیراعظم کے دورۂ امریکہ پر اس مسئلے کو پھر سے اٹھایا جائے گا۔ امریکہ کی دوستی میں ہم نے جو کچھ گنوایا ہے‘ روس کی مخالفت اور انڈیا کی دشمنی اس کا عشر عشیر بھی نہیں تھی۔

گزشتہ ہفتے سپر پاورکے خفیہ اداروں کی ’’کلاسفائیڈ انفارمیشن‘‘ عوام کیلئے مشتہر کر دی گئی ہیں۔ ان شائع ہونے والی دستاویزات میں ایک دستاویز پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بارے میں بھی ہے‘ ان کے افشا سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ لیاقت علی خان کو سپر پاور کے صدر کے ایماء پر خفیہ ایجنسی نے افغان شہری سید اکبر کے ذریعے قتل کروایا جو برطانیہ کی خفیہ ایجنسی کیلئے بھی کام کیا کرتا تھا۔ بعد میں قاتل کو جائے واردات پر ہی ایک پولیس افسر کے ذریعے قتل کردیا گیا تاکہ انصاف کو قاتل تک رسائی سے روکا جائے۔ قتل کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان کے ایران کے ساتھ خصوصی تعلقات تھے اور ایران میں ان کی بہت قدر و منزلت ہوا کرتی تھی۔

امریکی صدر نے لیاقت علی خان سے کہا کہ وہ ایرانی تیل پر یورپی ملکوں کے اختیار کی بجائے امریکی کمپنیوں کو اس کا ٹھیکہ دلوا دیں۔ لیاقت علی خان نے پاکستان کے دوستانہ تعلقات کو ایسے معاملات پر آلودہ کرنے سے انکار کر دیا۔ دوسرا تنازع اس وقت پیدا ہوا جب سپر پاور نے پاکستان کے وزیراعظم سے کمبوڈیا میں امریکہ کی مدد کیلئے دو ڈویژن فوج بھیجنے کی درخواست کی۔ پاکستان نے اس جنگ میں شرکت سے انکار کیا تو لیاقت علی خان کو براہ راست دھمکی دی گئی۔ وزیراعظم نے اس دھمکی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ پاکستان کی سرزمین سے تمام امریکی جہاز چوبیس گھنٹوں میں نکل جائیں چنانچہ تمام امریکی جہاز پاکستانی حدود سے نکال دیئے گئے۔ سپرپاور نے ہر کٹھن مرحلے پر پاکستان سے دغا کیا، ہر اچھے موقع پر اس کی ٹانگ کھینچی۔

پاکستان پر شروع دن سے امریکہ کی نظر کرم رہی۔ اگست 1947ء میں نوزائیدہ پاکستان کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کیلئے کسی مضبوط مگر محفوظ سہارے کی ضرورت تھی، ہمسایہ میں انڈیا بہت بڑا ملک‘ طاقت اور وسائل میں زیادہ پاکستان سے دشمنی اس کی گھٹی میں پڑی تھی۔ پاکستان کا جغرافیہ ایسا پرکشش کہ دونوں عالمی طاقتیں اسے للچائی نظروں سے دیکھتیں۔ روس کے مرد آہن ’’اسٹالن‘‘ نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو روس کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ روس کی طرف سے بلاوا آتے ہی امریکیوں نے وزیراعظم کو دورۂ امریکہ کی دعوت دے ڈالی۔ وزیراعظم کیلئے یہ مشکل فیصلہ تھا کہ وہ امریکہ کے دورے پر روانہ ہوں یا روس کی دعوت قبول کریں؟ چنانچہ پاکستان کی ضروریات ‘ مشکلات‘ نظریات کے پیش نظر پاکستان کی قیادت نے امریکہ کی دوستی کو ترجیح دینا قبول کر لیا۔ کیا اس وقت لیاقت علی خان کا فیصلہ غلط تھا؟ نہیں! ’’مگر سپرپاور کی نیت خراب تھی‘‘اور نیتوں کا حال اللہ کے سوا کون جان سکتا ہے، البتہ بعد کے واقعات نے اس کی بدنیتی ظاہر کر دی۔ اب تو پوری دنیا بیک زبان ہو کر اس کی بدنیتوں کی دہائی دیتی ہے۔ شرق و غرب ہی نہیں خود امریکی بھی اس پر گواہ ہیں۔

’’ہنری کسنجر‘‘ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ قوموں کے باہمی تعلقات کی تاریخ اور فلسفے کے ماہر اپنے ملک کے بارے میں کہتے ہیں ’’سپرپاور اپنے دشمنوں کیلئے اتنا برا نہیں جس قدر دوستوں کیلئے خطرناک ہے۔‘‘ پاکستان کو امریکہ کی دوستی کی خطرناکیوں کا طویل تجربہ ہے۔ ہر کٹھن وقت میں اس نے نظر چرائی‘ ہر اچھے وقت پر ٹھوکر لگائی۔ پاکستان کی تاریخ میں اچھے دن وہی ہیں‘ جب امریکہ سے دوریاں پیدا ہوئیں اور اس نے پاکستان پر پابندیاں لگا دیں۔ دشمنی اور مخالفت میں لگائی گئی پابندیوں کے مقابلے میں امریکہ کی دوستانہ امداد کی شرائط زیادہ کڑی اور نقصان دہ ہوتی ہیں۔ پاکستان میں صرف لیاقت علی خان ہی سپرپاورکا نشانہ نہیں بنے، اس کے بعد ضیاء الحق اور فوج کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا‘ بے نظیر بھٹو کا قتل اور پاکستان کے مایہ ناز ہوا باز اور فضائیہ کے سربراہ ایئرمارشل مصحف علی میر کی شہادت میں بھی سپرپاورکی مبینہ خفیہ کاری کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

گھر کے بھیدی ’’ہنری کسنجر‘‘ کا تجزیہ حقیقت سے قریب تر ہے کہ ’’امریکہ دشمنوں کیلئے اتنا برا نہیں‘ جتنا دوستوں کیلئے خطرناک ہے۔‘‘ امریکہ نے کئی عشروں تک کیوبا کے سربراہ کاسترو کو اپنا نمبرون دشمن قرار دیئے رکھا۔ اس پر 600 سے زیادہ قاتلانہ حملے کئے۔ حکومت الٹنے کے منصوبے بنائے گئے‘ وینزویلا کے ہوگو شاویز برسوں امریکی قاتلوں کے نشانے پر رہے لیکن ان کا بال بیکا نہ کر سکے۔ اسٹالن‘ خروشیف‘ بزرنیف‘ مائوزے تنگ‘ چو این لائی‘ ہوچی منہ جیسے سینکڑوں دشمنوں میں شاید ہی کوئی ان کے نشانہ پر آیا ہو لیکن ان کی ’’اپنے بچے کھا جانے‘‘ اور ’’دوستوں کا خون کرنے کی ‘‘ جبلت کافی بیدار اور تیز تر رہی۔ شاید ہی کوئی دوست ’’آستین کے سانپ‘‘ کی زہرناکی سے بچ سکا ہو۔

پاکستان پر ہی بس نہیں‘ ایران کے ہردل عزیز وزیراعظم ڈاکٹر مصدق‘ عراق کے عبدالکریم قاسم‘ سعودی عرب کے شاہ فیصل‘ لیبیا کے معمر قذافی بھی اس وقت نشانہ بنے جب اپنے بیٹے کے مشورے پر سپرپاور کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔ جب تک امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے رہے‘ ان کی زندگی سلامت تھی اور اقتدار بھی قائم رہا۔ ابتدائی دنوں میں پاکستان کے پاس بڑے محدود آپشن تھے۔ Devil or Deep Sea۔ تب ہم نے تاریک سمندر میں ڈوب جانے کی بجائے ’’شیطان کی سنگت‘‘ کو غنیمت سمجھا۔ اب ہم تاریک سمندر سے دور نکل آئے ہیں تو ’’اس سنگت ‘‘سے بھی نکل جانا چاہئے ورنہ ہمارے قابل فخر لیاقت علی خان، ضیاء الحق، بے نظیر، مصحف علی میر، ڈاکٹر مصدق اور شاہ فیصل کے انجام سے دوچار ہوتے رہیں گے۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
------------------------------------------------
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند