تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حسن نصر اللہ اور یمن میں ایرانی منصوبے کی ہزیمت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 28 جمادی الاول 1437هـ - 8 مارچ 2016م KSA 08:48 - GMT 05:48
حسن نصر اللہ اور یمن میں ایرانی منصوبے کی ہزیمت

"حزب اللہ" کے جنرل سکریٹری حسن نصر اللہ کا آخری خطاب اُس پرسکون اور ٹھنڈے مزاج کا حامل نہیں تھا جو عموما وہ اپنی جماعت سے مخاطب ہوتے وقت اپناتے ہیں۔ جارحانہ لہجے سے بھرپور یہ خطاب ہر طرح سے غیرمانوس خطاب تھا۔ بالخصوص ان عرب شہریوں کے لیے جو یمن اور وہاں جو کچھ ہورہا ہے.. اس کے بارے میں جانتے ہیں اور اس سے بھی قبل "حزب اللہ" کے یمن سے تعلق سے آگاہ ہیں۔

بدھ کے روز ہونے والا خطاب کوئی پہلا موقع نہیں تھا جب حسن نصر اللہ نے یمن کے معاملے پر بات کی ہو۔ اس سے قبل وہ یمن کو بنیاد بنا کر کئی بار سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ یمن میں "فیصلہ کن طوفان" آپریشن شروع ہونے کے بعد گزشتہ برس بھی مارچ کے اواخر میں ایک خطاب میں وہ خاص طور پر یمن کو زیر بحث لائے تھے۔ اس خطاب میں انہوں نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر نکتہ چینی کی تھی جنہوں نے یمن کو ایرانی غلبے سے نکالنے کے لیے فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

"فیصلہ کن طوفان" کے آغاز کے بعد ایک سال سے بھی کم مدت میں یہ بات واضح ہوگئی کہ یمن میں ایران کے آگے روک لگانا کتنا ضروری تھا۔ یہ کامیاب قدغن حسن نصر اللہ کو محسوس ہونے والی تکلیف کو اچھی طرح بیان کررہی ہے جو ایک مخصوص مرحلے پر یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ مطلوبہ مشن پر کامیابی سے عمل درامد میں کامیاب ہوچکے ہیں اور اس پر کسی بڑے انعام کے مستحق ہوں گے۔

درحقیقت "حزب الله" اور اس کے سکریٹری جنرل کے پاس یمن میں ناکامی کے جواز کے طور پر چیخنے چلانے کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔ ایرانی ذمہ داران نے یمنی دارالحکومت صنعاء پر'انصار الله' یعنی حوثیوں کے براہ راست کنٹرول حاصل کرنے کے بعد یہ اعلان کرنے میں کافی تیزی دکھائی کہ.. تہران چار عرب دارالحکومتوں بغداد، دمشق، بیروت اور صنعاء کو پوری طرح کنٹرول کررہا ہے۔

یہ بات درست ہے کہ بغداد پر بڑی حد تک تہران کا کنٹرول ہے اور "پاپولر موبیلائزیشن" کے نام سے متحد شیعہ ملیشیائیں عراق میں ہر سیاہ وسفید کے پہلے اور آخری فیصلے کی مالک بن گئی ہیں۔

تاہم یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ اس سب کا نتیجہ سنی عربوں کی اکثریت والے تمام علاقوں کو داعش تنظیم کی گود میں دینے کی صورت میں نکلا۔ کیا ایران داعش کا حلیف ہے یا نہیں؟.. کیا اس بات کا کوئی اشارہ ملتا ہے کہ عراق اور عراق سے باہر روشن مسلکی چھاپ رکھنے والی ایرانی کارروائیاں داعش کا مقابلہ کرنے میں کسی طور بھی مددگار ہیں.. یا پھر اس سارے معاملے سے کہیں یہ مطلوب تو نہیں کہ تمام عرب خطے میں جس میں یمن بھی شامل ہے مسلکی ملیشیاؤں کو جنم دینے کا جواز بنانے کے لیے.. داعش تنظیم سے حتی الامکان فائدہ اٹھایا جائے؟

حسن نصر اللہ کے آخری خطاب سے یمن میں ان کے منصوبے کی ناکامی واضح ہورہی تھی وہ منصوبہ جس کی ذمہ داری انہیں ایران نے سونپی تھی۔ خطاب میں سموئی کشیدگی اور جارحیت اس بات کو بڑی حد تک بیان کررہی تھیں۔ یہ کوئی معمول کے مطابق روش نہ تھی کہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل “عزم کی آندھی” آپریشن کے بعد سعودی عرب کے بارے میں اپنے موقف کو.. جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ہاتھوں اسرائیلی پسپائی سے بلند مرتبہ دیں۔

ایسا کوئی نہیں ہے جو جنوبی لبنان میں اسرائیلی قابض فوج کے سامنے 'حزب الله' کی قربانیوں کو نظر انداز کرسکے.. اور سال 2000ء سے قبل جب اسرائیل نے انخلاء اور سلامتی کونسل کی جانب سے 1978 میں جاری کی گئی قرار داد پر اپنے مفادات کی خاطر عمل درامد کا فیصلہ کیا۔ اسرائیلی انخلاء اس بات کے لیے کافی سبب تھا کہ حزب اللہ یہ اعلان کردے کہ وہ ایک لبنانی تنظیم ہے ناکہ ایرانی آلہ کار جس کو ضرورت کے تحت استعمال کیا جاتا ہے.. خواہ شام میں یا خود لبنان میں یا عراق یا یمن اور یا پھر خطے اور دنیا میں کسی بھی اور جگہ بالخصوص بحرین میں!

"فیصلہ کن طوفان" آپریشن نے یمن میں 'حزب الله' کے منصوبے کو فاش کردیا۔ حسن نصر اللہ کے آخری خطاب سے یہ بات آسانی سے ظاہر ہوگئی کہ حزب اللہ یمن میں اس سے کہیں زیادہ ملوث رہی جتنا کہ خیال کیا جارہا تھا۔ یہ شمولیت بڑی حد تک "فیصلہ کن طوفان" آپریشن سے حزب اللہ کے تنگ آجانے کو بھی بیان کرتی ہے۔ اگرچہ یہ آپریشن تاخیر سے شروع ہوا تاہم اس نے یمن میں ایرانی منصوبے کو چھاپ لیا۔ وہ منصوبہ جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ سعودی عرب اور خلیج میں دیگر عرب ممالک کے گرد ایرانی گھیراؤ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔

اگر کوئی "فیصلہ کن طوفان" آپریشن سے پہلے کے مرحلے پر نظر ڈالے تو معلوم ہوگا کہ ایران بھی یہ خیال کررہا تھا کہ عرب حسن نصر اللہ کے قول کے مطابق “سست اور غافل” ہیں۔ عرب 'سست اور غافل' نہیں ہیں بلکہ اس کے برعکس انہوں نے یمن میں ایرانی منصوبے کو پسپا کیا جس کا مقصد پورے ملک پر قبضہ کرکے اسے نوآبادی میں تبدیل کردینا تھا.. جیسا کہ اس وقت لبنان کا حال ہے جہاں لبنانی عوام ان تمام کوششوں کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں جن کا مقصد ملک میں بیرونی کنٹرول قائم کرنا اور بدحالی پھیلا کر اسے حتمی طور پر سرنگوں کرنا ہے۔

یمنیوں کو مزاحمت کے سلسلے میں مددگار مل گئے.. یمن میں قانونی سرکاری عناصر بھی ہیں جو ایران کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے زیرقیادت آپریشن "فیصلہ کن طوفان" نے ایرانی منصوبے پر پانی پھیر دیا جس میں حسن نصر اللہ ایک ٹھیکے دار کا کردار ادا کررہے تھے۔

میرا ایک یمنی دوست جو خفیہ امور کی بھی جان کاری رکھتا ہے اس کا کہنا ہے کہ یمن کچھ سالوں پہلے تک ایرانی وزارت خارجہ، ایرانی انٹیلجنس اور پاسداران انقلاب کی ذمہ داری تھا۔ کچھ عرصہ قبل ایران نے سوچا کہ سب سے بہتر کام یہ ہوسکتا ہے کہ یمن کو انتظامی طور پر حزب اللہ کے حوالے کردیا جائے جس نے کئی برسوں سے ملک میں اپنے عناصر کی ایک بڑی تعداد پھیلا دی تھی۔

جب حوثیوں کی تنظیم “انصار الله” نے 21 ستمبر 2014 کو دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کیا تو ملک میں ایک نئے نظام کا اعلان کرنے والی قوت مل گئی۔ “انصار الله” کے سربراہ عبدالملک حوثی جو کہ ہو بہو حسن نصر اللہ کی نقل کرتے ہیں جس میں خطاب کرتے ہوئے اپنی انگلی اٹھانا بھی شامل ہے.. انہوں نے "انقلابی قانون" پر مبنی ایک نئے نظام کا اعلان کردیا۔ ان کی ملیشیائیں ہر جانب پھیل گئیں۔ ان میں خصوصی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب.. تاریخی اور مشہور بندرگاہ رکھنے والا شہر عدن اور اس کے اطراف کے علاقے شامل تھے۔

"فیصلہ کن طوفان" آپریشن نے یمن میں ایران کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ حسن نصر اللہ کا خطاب بھی اسی حقیقت کا عکاس تھا۔ اسی وجہ سے نصر اللہ اپنے حواس پر قابو نہ رکھ سکے اور سعودی عرب پر نکتہ چینی میں دور تک نکل گئے۔ وہ لبنان اور تمام فرقوں، مسلکوں، علاقوں اور سماجی طبقوں سے تعلق رکھنے والے لبنانی شہریوں کے مفاد کو بھی خاطر میں نہ لائے۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو سعودی عرب سے قریب ہونے کی وجہ سے اس کے لیے یمن.. فلسطین سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ فلسطین اور فلسطینیوں کے ساتھ تو ہر وقت اور ہر موقع پر سوداگری ممکن ہے مگر سعودی عرب کا معاملہ مختلف ہی رہے گا.. اس بات کے پیش نظر کہ وہ خطے کے سقوط کی راہ میں پہاڑ کی مانند ایک عرب قلعہ ہے۔

یہ سبب حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کے اپنی حد سے باہر نکلنے کے لیے کافی نظر آتا ہے۔ واضح طور پر لگتا ہے کہ حسن نصر اللہ یہ جان چکے ہیں کہ وہ ان ایرانی ذمہ داریوں پر عمل درامد کے قابل نہیں رہے جن کا بوجھ انہوں نے اپنے کاندھوں پر لیا تھا۔

بہتر تھا کہ حسن نصر اللہ ایران سے معذرت کرلیتے.. اس بات کے پیش نظر کہ انہیں "فیصلہ کن طوفان" آپریشن کی توقع نہ تھی انہوں نے بدلے میں اپنا غصہ سعودی عرب پر اتار دیا۔ مملکت اس کے سوا کیا کرسکتی ہے کہ وقت گزرجانے سے قبل اپنی اور خلیجی ممالک کی سیکورٹی کا دفاع کرے؟ کیا اس کے پاس ایرانی منصوبے کو ہزیمت سے دوچار کرنے کے سوا کوئی آپشن تھا؟.. وہ منصوبہ جس میں یمن کی صورت میں مملکت کو نشانہ بنایا جانا تھا۔

*بشکریہ روزنامہ "العرب"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند