عالمی امن کے ٹھیکیدار ایک بار پھر جنیوا میں جمع ہیں جہاں وہ اپنے تئیں شام کے بحران کے حل پر بلکہ کئی مجوزہ حلوں پر غور کر رہے ہیں۔ وی آئی پی پروٹوکول کے تحت منعقدہ عالمی مذاکراتی نشست نتاٗئج کے لحاظ سے ماضی کی نشست وبرخاست سے کسی طور پر بھی مختلف نہیں دکھائی نہیں دیتی۔ صدر بشارالاسد کی انانیت نے چار لاکھ لوگ لقمہ اجل، بیس لاکھ زخمی اور اپاہج اور ایک کروڑ کو ملک بدر کردیا ہے۔ ان کے نزدیک اقتدار کی بقاء و تسلسل کے لیے یہ کوئی بڑی قیمت نہیں۔ اہل شام کو ابھی اور بھی قیمت چکانا ہے اور وہ اب تک کی ادا کی گئی قیمت سے کہیں زیادہ مہیب، خطرناک اور خوفناک ہو سکتی ہے۔ وہ ہے شام کی چار ٹکڑوں میں تقسیم۔

بشارالاسد اگر صہیونیوں اور مغرب کے ایجنٹ نہیں ہیں تو اُنہیں اپنے ملک کو ہر صورت تقسیم سے بچانا ہو گا مگر ان کی ہٹ دھرمی سے لگ رہا ہے کہ وہ امریکا، روس اوراسرائیل کے فارمولے کوعملی جامہ پہنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے امن مندوب اسٹیفن دی مستورا اپنی جسمانی صلاحیت سے زیادہ دوڑ دھوپ کر رہے ہیں۔ ان کی مساعی سے شام میں عارضی جنگ بندی بھی طے پائی مگران کا ایک حالیہ بیان شام کے حوالے سے’بریکنگ نیوز‘ سے کم نہیں۔ انہوں نے شام کی وفاقی تقسیم کی حیران کن تجویز پیش کرتے ہوئے گویا مغرب کے شام کے بارے میں در پردہ پلان کا اظہار کر دیا ہے۔

اگرچہ شام کی تقسیم کے حوالے سے دو بڑی طاقتوں روس اور امریکا کے درمیان طریقہ کار اور جغرافیائی حد بندی میں جوہری اختلافات ہیں مگر وفاقی تقسیم کے فارمولے سے یہ عیاں ہو گیا ہے کہ شام کے بارے میں امریکا جس ’پلان B‘ کا بار بار تذکرہ کرتا رہا ہے وہ دراصل ملک کی چار حصوں میں تقسیم ہے۔

’پلان بی‘ کیا ہے؟ اس کے خد وخال آئندہ سطور میں بیان ہوں گے۔ یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ تقسیم شام کا جو فارمولہ سنہ 1916ء میں ٹھیک ایک صدی قبل استعماری طاقتوں نے ترتیب دیا تھا اسے عملی جامہ پہنانے کی ایک بار پھرکوشش کی جا رہی ہے۔ ٹھیک ایک صدی پیشتر برطانوی شہنشاہیت اور فرانسیسی سامراجیت نے عرب ریاستوں کے بٹوارے کے لیے ’’سائیکس ۔ پیکو‘‘ معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت شام کو چار ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس فارمولے کے تحت شمالی شام جو اب لبنان کی شکل میں الگ مملکت ہے اور جنوب میں اناطولیہ کا علاقہ فرانس کو دے دیا گیا۔ ملک کا مشرقی حصہ، اردن اور عراق کے وسائل برطانوی سامراجیت میں کے تسلط میں آئے۔

درمیان میں مملکت فلسطین کو بھی یہودیوں کے قومی وطن کے اعلان تک برطانوی تسلط میں رکھا گیا۔ یہ معاہدہ عربوں سے مخفی رہاں تا آنکہ روس میں ولادی میر لینن اور اس کے دست راست جوزف اسٹالن کے برپا کردہ بالشوک انقلاب نے سائیکس پیکو کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ عرب ملکوں کی بندر بانٹ منظرعام پر تو آ گئی مگر بدقسمتی سے عربوں میں اتنا دم خم نہ تھا کہ وہ برطانوی اور فرانسیسی سامراجیت کے خلاف مزاحمت کرتے۔

فرانس اور برطانیہ کی کالونی رہنے والے شام کوآج ایک صدی بعد پھر سے بٹوارے کا سامنا ہے۔ جنیوا روانگی سے قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے متعدد مقامات پر صحافیوں سے کہا کہ اگر وہ شام کے بحران کے حل کے لیے کسی اتفاق رائے تک پہنچنے میں ناکام رہے تو’’پلان B‘‘ پرعمل کیا جائے گا۔ تاہم وہ یہ واضح نہیں کر سکے کہ ’پلان بی‘ کس بلا کا نام ہے۔

بھلا ہو تل ابیب میں قائم ’’اسٹڈی سینٹر برائے مملکت وسماج‘‘ نامی ایک تھینک ٹینک کا جس نے امریکا کے مجوزہ ’پلان بی‘ کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ تھینک ٹینک کی جانب سے شام کی تقسیم کے حوالے سے کئی رپورٹس، تجزیے اور تجاویز سامنے آ چکی ہیں۔ اسرائیل سے تقسیم شام کی تجاویز اس لیے اہمیت کی حامل ہیں کہ صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو شام کی فرقہ وارنہ بنیادوں پر تقسیم کا بار بار مطالبہ کر چکے ہیں۔

اس ’پلان B ‘کا نقشہ دیکھنےسے پتا چلتا ہے کہ شام کو شمالا جنوبا اور شرقا غربا چار حصوں میں تقسیم کیا جانا ہے۔ ان میں سب سے بڑا رقبہ وسطی شام میں ’’مملکت حلب‘‘ کے لیے ہے۔ دوسرے کو’’دولت دمشق‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی سرحدیں عراق اور فلسطین سے ملتی ہیں۔ مملکت حلب اور دولت دمشق کے درمیان لبنان کی سرحد پر شمالا جنوبا ایک چھوٹی سی پٹی ’علوی‘ ریاست کے لیے مختص ہے جب کہ شمالی شام میں ترکی سے متصل شام کا ایک ٹکڑا ’کُرد مملکت‘ قرار دیا جاتا ہے۔ ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ امریکا کی نظر میں یہی ’پلان بی‘ ہے جس پرممکنہ طور پر عمل درآمد کیا جانا ہے۔

امریکا کا مجوزہ پلان بی اور اقوام متحدہ کے ایلچی کے مطابق شام کی وفاقی تقسیم ایک چیز کے دو نام ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وفاقی تقسیم کے تحت ان چاروں حصوں کو ’دولت دمشق‘ کے عارضی انتظام وانصرام میں رکھا جائے گا۔ ان چاروں ریاستوں کو وسیع تراختیارات حاصل ہوں گے اور یہاں کی اکثریت اپنے رنگ، نسل، فرقے اور قومیت کی بنیاد پرحکومت قائم کرے گی۔ تقسیم کے نقشے پر روس اور امریکا متفق ہیں مگر روس کا اصرار یہ ہے کہ ’دولت دمشق‘ پر صدر بشارالاسد کی اجارہ داری قائم رہے۔ امریکا یہ تجویز نہیں مانتا۔

اسی طرح شمالی شام میں کرد ریاست کے حوالے سے بھی بہت سی قیاس آرائیاں اور خیالات پائے جاتے ہیں۔ کردوں کی دو بڑی جماعتوں میں اختلافات ہیں۔ کرد نیشنل کونسل کو عراقی کردستان کے وزیر اعلیٰ مسعود بارزانی کی حمایت حاصل ہے اور وہ شامی اپوزیشن کا حصہ رہنے کے حامی ہیں۔ مگر دوسری جانب کرد ڈیموکریٹیک الائنس کی ترکی کے ساتھ چھینا جھپٹی ہے۔ یوں کرد نیشنل کونسل پر الزام ہے کہ وہ ترکی کی حمایت یافتہ ہے جب کہ کرد ڈیموکریٹک الائنس کو شامی صدر بشارالاسد کا حمایتی سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے مستقبل کی کرد ریاست کی صورت گری بھی ایک پیچیدہ مسئلہ رہے گی۔ ترکی کرد ریاست کے قیام کی راہ میں ہر ممکن رکاوٹ ڈالے گا کیونکہ یہ انقرہ کی سلامتی اور سالمیت کا مسئلہ ہے۔

یروشلیم اسٹڈی سینٹر کی رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہےکہ تقسیم شام کا جو پلان امریکا نے ترتیب رکھا ہے۔ اسرائیل اس پر کم سے کم وقت میں عمل درآمد کا خواہاں ہے۔ شام کی تقسیم کی صورت میں اسرائیل کو خطے میں درپیش خطرات کم ہوں گے اور مستقبل میں صہیونی ریاست زیادہ مضبوط ہو سکے گی۔

اس سارے منظر نامے میں عرب ممالک کہیں بھی دکھائی نہیں دیتے۔ کیا ایک بار پھر سائیکس۔پیکو کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ کوئی عرب ملک شام کی تقسیم کی حمایت نہیں کرے گا۔ اس لیے لگ رہا ہے کہ عالمی استعماری طاقتیں عرب ممالک کو بار دگر نظر انداز کرتے ہوئے شام کی تقسیم کا من پسند فارمولہ مسلط کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

------------------------------------

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے