"شمال کی گرج" فوجی مشق کے آخری دو روز ورچوئل کارروائیوں اور فوجی پریڈوں کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس مشق کے تاثر اور کامیابی کا سب ہی نے اچھی طرح سے مشاہدہ کیا۔ بیس ریاستوں کی قیادت نے اختتام تقریب میں شرکت کی جہاں سیکورٹی اور دفاعی ہیبت کا ایسا مظاہرہ کیا گیا جس کی نظیر خطے کی تاریخ میں پہلے نہیں ملتی۔

دوسری جانب کہانی یہ ہے کہ... خوف اور دہشت سے بہت سوں کی زبانیں باہر آچکی ہیں۔ ان میں عراق کی ملیشائیں جیسے پاپولر موبیلائزیشن اور لبنان میں حزب اللہ کی شکل میں موجود تنظیمیں شامل ہیں۔ یہ ہیبت تو داعشیوں کے کیمپ تک پھیل چکی ہے جن کو مشق کے اختتامی روز ایک بڑی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا جب شہید سعودی فوجی اہل کار بدر الرشیدی کے (داعشی) قاتل انتقامی کارروائی میں موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ کہانی مربوط اور ناقابل تقسیم ہے۔

شامی وزیر خارجہ ولید المعلم سعودی عرب کے دفاعی اقدام کو جس انداز سے بیان کرتے نہیں تھک رہے وہ مضحکہ خیز ہے۔ اس سے واضح طور پر خوف، کمزوری اور سیاسی پراگندگی کا اظہار ہورہا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے شام میں ممکنہ زمینی مداخلت کے اعلان کے وقت سے ہی شامی وزیر خارجہ "بے پروائی" کے لفظ کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ دشمن آپ کو "بے پروا" قرار دے.. یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ سست روی اور غور و خوض کو آپ کی صفت بنا کر پیش کیا جائے۔ اس لیے کہ ان کا کارکردگی سے راضی ہونا.. مقابلے کے طریقہ کار اور تیاری کے لیے چوکنا ہونے میں خلل کا اظہار کررہا ہے۔

مملکت کی اس پروان چڑھتی نسل میں اپنی سرزمین، اس کی سرحد اور ہر بالشت کے دفاع سے متعلق بڑے تصورات موجود ہیں۔ طمع رکھنے والوں کے دلوں میں خوف بٹھانے کے لیے طاقت کا مظاہرہ ایک لازم ضرورت ہے۔ سعوی عرب کئی بار جنگوں میں داخل ہوا اور پھر کامیاب اور کامران ہوکر اپنے مقاصد کو یقینی بنا کر ان سے باہر آیا۔ لہذا پرانا خوف کسی طور بھی پریشانی اور تشویش کا باعث نہیں۔

مغربی میڈیا بھی مشق میں اتنے بڑے پیمانے پر فوجیوں کی شرکت اور عالمی سطح پر جدید ترین سازوسامان اور ٹکنالوجی سے حیران ہوگیا۔ شمال میں دشمنوں کے چینل تو یقینا پہلے ہی ہسٹیریا، بڑبڑاہٹ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔  *بشکریہ روزنامہ "عكاظ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے