امریکی جریدے "اٹلانٹک" سے ان کی گفتگو نے ہماری حیرت میں اضافہ کر دیا..سات برسوں میں ان کا نظریہ کیسے اور کیوں بدل گیا؟

درحقیقت صدر باراک اوباما وہ امریکی سربراہ ہیں جنہوں نے مشکل ترین وقت میں عربوں اور مسلمانوں کی سب سے زیادہ محبت حاصل کی۔ انہوں ہمارے خطے کے ساتھ اپنے دور کا آغاز انتہائی گرم جوشی کے ساتھ کیا۔ اسلامی دنیا کے دو اہم اور تاریخی شہروں قاہرہ اور استنبول میں خطاب کیا۔ بالخصوص قاہرہ یونی ورسٹی میں ان کا خطاب ادب کا ایک شان دار نمونہ تھا.. جس میں انہوں نے اسلام اور امن کے حوالے سے اپنے ویژن کا اظہار کیا.. اور جکارتہ میں زندگی کے تجربے کے علاوہ خود کے جزوی طور پر افریقی و مسلم نژاد ہونے پر بھی بات کی۔ اس موقع پر انہوں نے تیس کروڑ عربوں میں سے بہت سوں کے دل جیت لیے.. وہ عرب جو عموما امریکا سے ناراض ہی رہتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا کے چوالیس ویں صدر اوباما وہ پہلے امریکی سربراہ تھے جو مسلمانوں کے دلوں تک پہنچے۔ ان کی سب سے بڑی غلطی شام ہے.. یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ دنیا کے طاقت ور ترین ملک کا صدر ایک ایسی قوم کی مدد سے کیوں انکاری ہے جس کے پانچ لاکھ انسان موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں؟

امریکی صدر کی گفتگو سے ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غالبا ان کے بہت سے ویژن تبدیل ہوچکے ہیں۔ عہد صدارت کے آغاز پر ہم نے ایک گرم جوش، پرعزم اور رابطے کے خواہش مند اوباما کو دیکھا تھا.. جب کہ اس گفتگو میں ہم نے امریکی صدر کو بڑی حد تک سرد، مایوس اور پیچھے ہٹتا ہوا محسوس کیا!

اوباما نے دوران گفتگو اپنے دوستوں کو ناراضگی کے جو پنچ لگائے ان سے سعودی عرب بھی محفوظ نہ رہا۔ صدر کی تنقید سے مملکت کے بہت سے مخاصمین کو خوش ہونے کا موقع مل گیا اور انہوں نے اس کو اپنے زخموں پر مرہم کے طور پر استعمال کیا۔ سعودی عرب خطے میں وہ ملک ہے جس کے امریکا کے ساتھ سب سے طویل مستحکم تعلقات رہے ہیں۔ تاہم امریکی صدر کی منفی آراء کے باوجود انہوں نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کا کوئی عندیہ نہیں دیا.. اس حوالے سے کم از کم میرا یہ ہی تجزیہ ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ گفتگو ان کے سعودی عرب کے دورے کے اعلان سے تھوڑا پہلے شائع ہوئی ہے.. تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ یہ ایک پیغام ہے۔ جیف گولڈبرگ کے ساتھ ان کی گفتگو ایک ماہ کے عرصے پر مشتمل ہے.. اور "اٹلانٹک" ایک ماہانہ جریدہ ہے.. کوئی ویب سائٹ یا روزنامہ نہیں جس میں تیزی سے بدلتے واقعات کے مطابق اشاعت کے وقت کو تبدیل کرنا ممکن ہو۔ بہرحال ان باتوں سے اس نقصان میں کوئی کمی نہیں آئے گی جو امریکی صدر کے جذبات اور نظریات کے سامنے آنے سے پہنچا ہے۔
 

ہمارے سامنے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اوباما نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے اپنے فہم کو تبدیل کیا ہے.. برخلاف اس کے جو ہم نے قاہرہ یونی ورسٹی میں ان سے سنا تھا۔ اس وقت انہوں نے انتہا پسندی کے خلاف بر سرجنگ ہونے میں تعاون کا مفہوم پیش کیا تھا.. اور اب وہ سعودی عرب کو ملامت کا نشانہ بنارہے ہیں جب کہ ایران کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ایران کا خیال ہے کہ اوباما نے اس میں وہ اوصاف حمیدہ دریافت کیے ہیں جو ان سے قبل امریکی صدور دریافت نہیں کرپائے۔ انتہا پسندی کوئی ریاست یا مذہب نہیں بلکہ ایک عام حالت ہے۔

ملامت کی پالیسی کی طرف راہ فرار اور الزامات کا خنجر گھونپنے سے اس آفت کا خاتمہ ہر گز نہیں ہوگا۔ انتہا پسندی ایک ہنگامی فکری وائرس ہے جو اسلامی معاشروں میں پھیل چکا ہے جس میں مغربی دنیا میں مسلم کمیونٹی بھی شامل ہے۔ اوباما کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا کچھ حصہ انڈونیشیا میں گزارا.. ایک ایسا معاشرہ جس کی اکثریت رواداری اور برداشت کے حامل مسلمانوں کی تھی۔ اور بعد میں جب وہ انڈونیشیا کے دورے پر آئے تو دیکھا کہ انتہا پسندی وہاں بھی پہنچ چکی ہے.. اور یہ شدت پسند سعودی نظریات کا نتیجہ ہے۔ جدید اسلام میں انتہا پسندی ایک پیچیدہ معاملہ ہے نہ کہ ایک تاثراتی چھاپ۔ یہ ٹھیک ہے کہ 80ء کی دہائی کے اوائل میں یہ سعودی عرب اور اس کے اطراف میں نمودار ہوئی تاہم اس کو پڑوس میں ایران کے تخت پر شدت پسند خمینی قبضے اور افغانستان میں اسلام کے نام پر سوویت ملحدین کے خلاف مذہبی جنگ کا بھی ساتھ ملا.. وہ جنگ جس میں سعودی عرب، امریکا اور پاکستان شریک تھے۔ اس مرحلے پر مذہب کو سیاسی رنگ دیا گیا۔

تاہم اس سے پہلے یعنی 70ء کی دہائی میں.. میں نے اپنے شہر ریاض میں کوئی ایک ایسی مسجد نہیں دیکھی تھی جہاں جمعہ کے خطبات یا نمازوں کے بعد مواعظ کو کسی بھی سیاسی مسئلے کے ساتھ مختص کیا گیا ہو۔ یہ سب فقط عبادات اور اخلاقیات سے متعلق ہوتے تھے۔ اس وقت مذہبی شخصیات میڈیا میں آ کر عالمی امور کی پیش رفت اور بین الاقوامی واقعات کے بارے میں اپنی آراء کا اظہار نہیں کیا کرتی تھیں۔ اور نہ ہی ایسی فلاحی انجمنوں، دعوت کے مراکز اور نوجوانوں کے کیمپوں کا کوئی وجود تھا جن کو مذہبی سوچ کے حامل یا دیگر افراد چلا رہے ہوں۔ اس وقت روایتی سعودی سلفی سنی طرز فکر چھائی ہوئی تھی.. معاشرتی معاملات میں تو اس طرز فکر کی سخت گیری معروف تھی مگر سیاسی عمل کو دیگر دنیاوی امور کے ساتھ حکمرانوں پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ وہ ہی فیصلے کرے گا اور آخرت میں ان فیصلوں پر جواب دہ ہو گا۔

ایران میں خمینی اقتدار تک پہنچا اور تنازعات میں جہاد کے مفہوم کو اپنایا.. جس کے نتیجے میں انتہا پسندی نے اس شکل میں جنم لیا جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ ایران کے جدید حکام نے سب سے پہلے مذہب کو خارجہ تعلقات کی انتظامیہ میں استعمال کیا۔ اگر اوباما کو جکارتہ کے مسلم معاشرے کے انتہا پسندی میں مبتلا ہونے کی شکایت ہے تو ہمیں بھی ان کی طرح شکوہ ہے کہ ریاض، قاہرہ اور الدار البیضاء کیوں کر اسی انتہا پسندی کا شکار ہوئے۔ میرا شہر ریاض اس طرح نہ تھا.. میں نے اس میں وہ ہی عرصہ گزارا ہے جو اوباما نے جکارتہ میں گزارا۔ امریکی صدر کا تجزیہ درست ہے.. مگر انہوں نے غلطی اس وقت کی جب وہ مذہبی، تاریخی، سیاسی، اقتصادی اور تکنیکی طور پر ایک پیچیدہ مسئلے پر آئے.. اور انہوں نے انتہائی آسانی کے ساتھ اپنی انگلی سے صرف ایک جگہ اور ایک تنظیم کی جانب اٹھا دی! بشکریہ روزنامہ "الشرق الاوسط" (لندن)
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے