مجھ سے پوچھیں تو سارا قصور فیض کا ہے جس نے ’’ہم دیکھیں گے‘‘ جیسے باغیانہ ترانے لکھ کر معصوم اور سیدھے سادے لوگوں کو گمراہ کیا۔ اقبال بانو بھی شریک جرم ہے جس نے اس ترانے کو پرسوز ترنم کے قالب میں ڈھال کر قناعت پسند عوام کی آنکھوں میں امید وں کے چراغ جگائے ۔

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم وستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اُڑ جائیں گے ہم محکوموں کے پائوں تلے
یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
اور اہل صفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
جب تاج اچھالے جائیں گے
جب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اُٹھے گا اناالحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

ہم نے ایوب خان کو پورے اعزاز کے ساتھ دفن کیا ،ہم نے یحییٰ خان کی بے توقیری نہیں کی ،ہم نے ضیاء الحق کو سینے سے لگا کر رکھا تو کسی نے یہ سوچ کیسے لیا کہ پرویز مشرف کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا؟ تکلف برطرف ہم گوروں کی طرح کم ظرف نہیں جنہوں نے شعور بیدار ہونے پر کرام ویل کی ہڈیاں قبر سے نکال کر اس کا ٹرائل کیا اور شاہ چارلس اول کو تختہ دار پر لٹکایا۔ ہم تو وضعدار اور بامروت لوگ ہیں۔ ہم رومانویوں کی طرح منتقم مزاج اور سنگدل بھی نہیں جنہوں نے اپنے ڈکٹیٹر نکولی چائو شسکو کو مختصر ٹرائل کے بعد فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے گولیوں سے بھون ڈالا۔ ہم ایرانیوں کی طرح پتھر دل بھی نہیں جنہوں نے رضا شاہ پہلوی کو مرنے کے بعد بھی وطن واپس آنے کی اجازت نہ دی۔ ہم فرانسیسیوں جیسے جلاد صفت بھی نہیں جنہوں نے شاہ لوئی ششم کو گلوٹین سے مار ڈالا۔ ہم روسیوں کے مثل بے رحم بھی نہیں جنہوں نے زار نکولس دوئم کو پھانسی دیدی۔ چاڈ کے ڈکٹیٹر Hissene Habre گزشتہ سولہ برس سے سینیگال میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ان کو وطن واپس لانے کی کوششیں بار آور ثابت نہ ہوئیں تو چاڈ کی عدالت نے غیر حاضری میں ہی موت کی سزا سنا دی۔ مالی کے ڈکٹیٹر General Moussa Traora کو منتخب حکومت کو تختہ الٹنے پر حراست میں لیا گیا تو عدالت نے 12 ہفتے میں مقدمے کی سماعت مکمل کر کے سزائے موت سنا دی۔ یونان کے ڈکٹیٹر George Papadopoulos کو بھی چند ماہ قبل ہی سزا سنائی گئی۔ ترکی میں جب سے رجب طیب ایردوآن نے اقتدار سنبھالا ہے، کم از کم 20 جرنیلوں سمیت 50 سے زائد فوجی افسروں کو حکومت مخالف سرگرمیوں پر جیل بھیجا جا چکا ہے۔ لیکن یہ سب غیر مہذب اور بد تہذیب اقوام ہیں۔ انہیں انسانیت کی کوئی قدر ہے ناں وردی کی توقیر وعظمت کا کوئی احساس۔

ان کے برعکس ہم پاکستانی اپنی مثال آپ ہیں۔ ہم نے تو ایوب خان کے فرزند گوہر ایوب، ان کے پوتے عمر ایوب، ضیاء الحق کے صاحبزادے اعجاز الحق، جنرل اختر عبدالرحمان کے صاحبزادگان ہمایوں اختر خان اور ہارون اختر کو آج تک سر آنکھوں پہ بٹھا رکھا ہے۔ وہ اور ہی تھے کم ظرف جنہوں نے عدم موجودگی میں سزائیں سنائیں۔ ہم نے تو اپنے ہر دلعزیز پرویز مشرف کو ان کی عدم موجودگی میں باعزت بری کر دیا۔ کوئٹہ کی خصوصی عدالت جس میں پرویز مشرف کے خلاف اکبر بگٹی قتل کیس کی سماعت ہو رہی تھی، بار بار نوٹس جاری کرنے کے باوجود پرویز مشرف حاضر نہ ہوئے تو انہیں باعزت بری کر دیا گیا۔ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت جس میں لال مسجد کیس کی سماعت ہو رہی ہے اس کی طرف سے متعدد مرتبہ وارنٹ جاری کئے گئے ،حکومت کو کہا گیا کہ ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے مگر جنرل پرویز مشرف ایک بار آنے اور جھلک دکھانے پر بھی آمادہ نہ ہوئے۔ وہ خصوصی عدالت جس میں غداری کے مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے، اس میں بھی عزت بچانے کے لئے خاصی منت سماجت کے بعد جنرل پرویز مشرف صرف ایک مرتبہ حاضر ہوئے۔ ہم خود اپنی مثال آپ ہیں۔

جو سیاستدان جنرل پرویز مشرف کے ممد ومعاون تھے، وہی آج میاں نواز شریف کے دست وبازو ہیں۔ جب پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی تو زاہد حامد وفاقی وزیر قانون تھے، ان کو پہلو میں بٹھا کر کسی کو یہ خوش فہمی تھی کہ غداری کا مقدمہ انجام کو پہنچے گا تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ دانیال عزیز ایک زمانے میں پرویز مشرف کے منظور نظر تھے، آج نواز شریف کے چہیتے ہیں۔ پرویز مشرف کی عنایت خسروانہ کے عوض وزیر اعظم بننے والے ظفر اللہ جمالی میاں نوازشریف کے حلقہ ارادت میں شامل ہیں۔ سردار شاہجہان یوسف اور شیخ وقاص اکرم اسی مسلم لیگ (ق) کی اگلی صفوں میں تھے جس نے پرویز مشرف کے اقتدار کو دوام بخشا۔ طارق عظیم اور ماروی میمن کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جو پرویز مشرف کے اقدامات کا بھرپور دفاع کیا کرتے تھے اور آج انہیں میاں نوازشریف کے غیر علانیہ ترجمان کا مقام حاصل ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں امیر مقام، کرنل (ر) غلام رسول ساہی، رائو اجمل خان، رانا عمران نذیر، اعجاز چوہدری، صدیق بلوچ، عبدالرحمان کانجو، نذیر جٹ، اویس لغاری، سکندر بوسن، جعفر خان لغاری، مخدوم زادہ باسط بخاری، ریاض حسین پیرزادہ، طاہر بشیر چیمہ اور خسرو بختیار سمیت 27 ارکان قومی اسمبلی ایسے ہیں جنہوں نے پرویز مشرف کا ساتھ دیا۔

جنرل نشستوں پر تو وننگ ہارسز اور ہیوی ویٹس کا عذر پیش کیا جا سکتا ہے مگر نواز شریف کی پرویز مشرف باقیات سے محبت کا یہ عالم ہے کہ خواتین کے لئے مخصوص نشستوں پر بھی شہزادی عمر زادی ٹوانہ اور زیب جعفر جیسی ان خواتین کو نمائندگی دی گئی جنہوں نے پرویز مشرف کے دور میں اقتدار کے مزے لوٹے۔

آپ خود ہی بتائیں، ان حالات میں کس کی مجال ہے کہ پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے سے روک سکے۔ میاں نواز شریف ایک تاجر ہیں اور تاجر کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتا۔ انہیں پرویز مشرف کی رہائی کا یہ تاجرانہ فیصلہ مبارک مگر ہماری استدعا محض یہ ہے کہ اگر پرویز مشرف کو پھانسی نہیں دی جا سکتی تو فیض و جالب کی شر پسندانہ شاعری پر ہی پابندی لگا دیں بلکہ ہو سکے تو ان پر آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلایا جائے کیونکہ ان کا نام جنرل (ر) فیض اور جنرل (ر) جالب تو نہیں۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
----------------------------
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے