مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے مسلم ممالک میں گزشتہ ایک ماہ سے قدرے سکون ہے۔ ان ممالک میں خون ریزی میں اب بہت حد تک بے شک کمی آگئی ہے مگر بے چینی بہر حال اپنی جگہ برقرار ہے۔ لیبیا، یمن، تیونس اور عراق جیسے ممالک میں حالات نسبتاً کنٹرول میں ہیں۔ شام میں بھی امن وسکون تو نہیں کہہ سکتے مگر گزشتہ ماہ سوئیٹزر لینڈ کے تاریخی شہر جنیوا میں منعقد ایک کانفرنس کے بعد جنگ بندی نے کسی حد تک قتل وغارت گری اور افراتفری پر لگام لگا دی ہے۔ روس نے بھی شام سے اچانک اپنی فوجوں کی واپسی شروع کردی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ شام کے شمالی علاقے میں کرد قبائل نے وفاقی نظام کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ پانچ سال کے جنگی ماحول میں جہاں لاکھوں کی تعداد میں معصوم جانیں تلف ہوئیں وہیں اس سے کہیں زیادہ افراد زخمی ہوئے اور ان میں سے بے شمار لاعلاج ہو کر زندگی کے بقیہ دن کاٹ رہے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ تشویشناک بات تو یہ ہے کہ لاکھوں ہی کے تعداد میں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ملک میں بھی اور بیرون ملک بھی بھاگ کر پناہ لینا پڑا جہاں وہ بے گھر، بے در، بے سہارا اور بے روزگاری کی زندگی دوسروں کے رحم  وکرم پر گزار رہے ہیں۔

درایں اثناء جنیوا میں امن بات چیت کا دور چل رہا تھا اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ شام میں روس کا فوجیں بھیجنے کا جو مقصد تھا وہ پورا ہوگیا ہے۔ جبکہ امریکہ نے کہا ہے کہ دیکھنا ہے کہ اس اچانک فیصلے کے پیچھے روس کے اصل ارادے کیا ہیں؟ باوجود انخلا کے روس اپنا ایک ہوائی اڈا اور بحری مرکز شمالی شام میں بدستور قائم رکھے گا اور لاذاقیہ صوبے میں بری اور بحری سرگرمیاں جاری رہیں گی۔

یوں تو روس نے شام میں جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ فی العراق والشام (داعش) کے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی غرض سے اور اسی کے ساتھ اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کی بیخ کنی کے لئے اپنی مہم شروع کی تھی۔ لیکن اصل مقصد ابھی بھی منظر عام پر نہیں آیا ہے جبکہ روس اور اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے شام کے ڈکٹیٹر بشار الاسد کو سہار املا ہے۔ یہ اور بات ہے اور بہت تکلیف دہ بات ہے کہ روس اور شام کے نزدیک اس کی اہمیت کم ہی ظاہر ہورہی ہے کہ روسی بمباری سے بے شمار بے گناہ اور معصوم شہری ہلاک ہوئے۔

بہر حال روس کے اس اقدام نے بہت سے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ حالانکہ روس کی منشاء یہ تھی کہ ایک طرف دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جائے تو دوسری طرف فوجی مداخلت کا اصل مقصد بشارالاسد کو بچانا تھا۔ اسی کے ساتھ ایران کے فوجی شام کی فوج کے شانہ بہ شانہ مشیروں کے روپ میں باغیوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مختلف محاذوں پر لڑرہے تھے۔ روسی جنگی جہاز داعش کے علاوہ القاعدہ سے وابستہ النصرہ فرنٹ اور مغرب کی حمایت یافتہ باغی گروپوں کو اپنی بمباری کا ہدف بناتے رہے جس کی وجہ سے عام شہر بھی زد میں آتے رہے اور ہلاک ہوئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فضائی حملوں سے شامی فوج کی پیش قدمی کو تقویت ملی اور کافی زمینی حصہ بشار الاسد کی فوج کے قبضے میں آیا لیکن اس کا منفی اثر یہ ہوا کہ زرعی زمینیں، کھیت کھلیان اور دیہاتی زندگی کو بمباری سے نقصانات ایسے ہوئے جن کو اصلی حالت پر لانا ممکن نہیں ہے۔

کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ روسی بمباری کا مقصد یہ تھا کہ ایک وسیع وعریض خطہ باغیوں کے قبضے میں تھا۔ ان سے چھڑا کر بشاراسد کی فوج کے قبضے میں لایا جائے۔ سب سے اہم وجہ یہ بھی رہی کہ شمال میں یہ مقبوضہ علاقے ترکی اور اردن کی سرحدوں سے ملحق تھے۔ روس کے اس فیصلے سے اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح سے روسی صدر بشاراسد پر زور ڈالنا چاہتے ہوں کہ وہ ملک میں پھیلی انارکی اور ابتری کے بعد سیاسی تصفیے کے لئے راضی ہوجائیں۔ یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ ممکن ہے کہ خفیہ طور پر روس اور شام کے صدور میں اختلافات پیدا ہوگئے ہوں۔ لیکن دمشق نے واضح لفظوں میں ماسکو سے کسی بھی قسم کی نااتفاقی سے انکار کردیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بشاراسد کے ترجمان نے تو یہ کہا ہے کہ دونوں ملکوں نے اس اقدام کو ایک دوسرے کی باہمی مفاہمت کے بعد اٹھایا ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ روس کے فیصلے سے جنیوا گفت وشنید کو فائدہ پہنچا ہے اور کم سے کم جنگ بندی کے بعد سے اس کی خلاف ورزی کی کم ہی رپورٹس آرہی ہیں۔

اسی دوران شام کے کردوں نے ملک کے شمال میں اپنے قبضہ والے علاقوں میں وفاقی نظام کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے۔ ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شام کے شمالی شہر کوبانی (عین العرب) میں کردوں کی خود مختار انتظامیہ کے تحت نظامت خارجہ کے ایک عہدے دار ادریس نعمان نے مغربی خبررساں ایجنسی رائٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اعلان سے خود انتظامی کا خاکہ وسیع ہوگا اور یہ کہ یہ علاقے شمالی شام کا وفاق کہلائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ وفاق وہاں رہنے والے تمام نسلی گروپوں کا نمائندہ ہوگا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کرد جنگجو گروپ پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) اور دوسری تنظیموں نے شام کے تین شمالی علاقوں کوبان، سیرین اور قامیشلی میں دوسال سے اپنی خود مختار انتظامیہ قائم کررکھی ہے۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ شام کی حزب اختلاف کی کونسل نے کہا ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے امن ایلچی اسٹیفین دی میستورا کو ملک میں عبوری حکومت کا قیام کے لئے اپنا لائحہ عمل بتادیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ وہ ملک میں عبوری حکومت کے قیام عمل میں آئے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ بے دست وپا عبوری حکومت سے بحرانی کیفیت کا حل نہیں نکلنے والا ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ مغربی ممالک اور روس بھی ایک الگ وفاقی نظام کے حق میں سوچ رہے تھے اور ان خیالات کا ذکر اقوام متحدہ کے ایلچی سے کردیا تھا۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے جنیوا میں اخبار نویسیوں سے خطاب کرتے ہوئے شامی حزب اختلاف کے سربراہ جارج صبرا نے کہا تھا کہ مستورا کو بتادیا ہے کہ ہم کس طرح کی عبوری حکومت شام میں چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کردیا تھا کہ ''جب تک شام میں بااختیا اور ہر قسم کے اندرونی اور بیرونی دباؤ سے آزاد عبوری حکومت قائم نہیں ہوگی ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوسکیں گے۔''

بہر حال مبصرین کے مطابق ابھی بھی مکمل تفصیلات وفاقی نظام کے سلسلے میں منظر عام پر نہیں آئی ہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ شام ''وحدانیت'' کے اصولوں پر مبنی ایک ریاست ہوگا لیکن علاقائی صوبوں کو کھلی اور وسیع خود مختاری حاصل ہوگی۔ حالانکہ ایسا نہیں کہ اس پلان کو پہلے سے اہمیت نہیں دی گئی ہے لیکن یہ ہے کہ اب بالخصوص جنیوا کانفرنس کے بعد سے اس موضوع نے زور پکڑ لیا ہے اس کی طرف سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی نظام کے پلان کو لیبیا اور یمن جیسے ممالک میں بھی غور کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے مخالفین شام اور عراق میں اس کے نفاذ سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ اگر مرکزی کردار والے نظام کو ختم کیا جائے گا اور اس کی جگہ اس طرح کا نظام نافذ ہوگا تو اس کے اپنے منفی اثرات ہوں گے۔ عراق کے کرد علاقے میں مسعود بارزانی نے بھی رواں سال اور سال گزشتہ وفاقی نظام پر زور دیا تھا۔

بہر حال شام کی صورت حال میں مسلسل اتار چڑھاؤ ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے کے مصداق ملک کا مستقبل کیا رخ اختیار کرے گا۔ دوسری طرف بشاراسد کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ روس کی افواج شام سے انخلا کے بعد واپس بھی آسکتی ہیں۔ انہوں نے اپنا حربہ استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ''امریکہ کو چاہئے کہ وہ ترکی جیسی حکومتوں پر دباؤ ڈالے کہ وہ اپوزیشن کے مسلح ارکان کی امداد کا سلسلہ بند کردیں۔'' ان سب بیانات اور ان کے جوابات کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ سب سنجیدگی سے سوچیں کہ شام میں امن کی صبح ہوگی بھی یانہیں۔ بشکریہ روزنامہ راشٹیہ سہارا، دہلی، ہندوستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے