امریکی صدر باراک اوباما پر اپنے ایک مضمون میں صحافی جیفرے گولڈ برگ نے لکھا ہے" کہ اوباما اپنے معاونین سے کہتے رہے ہیں کہ داعش مشہور فلم بیٹ مین میں 'جوکر' کے کردار کی مانند ہے۔ فلم کے ایک سین میں جب جوکر شہر کو جلا ڈالنے کی دھمکی دیتا ہے تو شہر کے کچھ لوگ غصے میں آ کر اس سے لڑنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔"

کیا صدر کا مطلب یہ ہے کہ شام کے جن لوگوں نے ہتھیار اٹھا لئے ہیں وہ فلم میں شہر کا دفاع کرنے والے لوگوں کی طرح ہیں۔ یا پھر ساری دنیا نے داعش کے خطرے کو جان لیا ہے، خواہ وہ امریکی ہوں، روسی ہوں، ایرانی ہوں یا خلیجی رہنما؟ داعش کے خلاف یہ طریقہ بہر حال درست ہے کیونکہ اس کا مقصد صرف تباہی پھیلانا ہے اور کچھ نہیں۔

لیکن صدر اوباما جو کچھ دیکھنے سے قاصر رہے اور جو اس فلم میں بھی نہیں تھا وہ یہ ہے کہ داعش کی جڑیں اس دور کے عراق سے پھوٹیں جب اس پر امریکا کا قبضہ تھا۔ اس کا پہلا قائد ابو مصعب الزرقاوی تھا اور اس کے جنگجووں کی بڑی تعداد عراق میں شام کے راستے آئی جہاں ایران کے حلیف بشار الاسد کی حکومت تھی۔ عراقی مزاحمت اور القاعدہ کے نام سے کی جانے والی اس جنگ میں انہوں نے چار ہزار کے لگ بھگ قابض امریکیوں کو قتل کیا ۔ یہ صدر اوباما ہی تھے جنہوں نے اقتدار کا خلا پر کرنے کے انتظامات کیے بغیر عراق سے امریکی فوج نکال لی تھی۔

داعش کی پیدائش اور ارتقاء پر طویل بحث کی جاسکتی ہے مگرحقیقت یہی ہے کہ یہ تنظیم اس خطے میں لڑی جانے والی پراکسی جنگوں، قتل عام اور تشدد کا قدرتی ثمر ہے۔ اوباما نے ایک سنگین غلطی یہ کی کہ ابتدا میں انہوں نے داعش کو محض خطے کا مسئلہ ہی سمجھا۔ مگر جب داعش نے مغربی باشندوں کے سر قلم کئے اور یہ خطے سے باہر پھیلتی دکھائی دی تو جب اوباما کو یہ ادراک ہوا کہ یہ تو پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے۔

حقیقت یہی ہے اور یہ اوباما کی صدارت ختم ہو جانے کے بعد بھی اسی طرح رہے گی۔ دنیا داعش سے نہیں لڑ سکتی خواہ اس کی قیادت روس کرے، امریکہ کرے یا یورپ تاوقتیکہ عراق، شام، یمن اور لیبیا میں جاری تشدد پر قابو نہ پالیا جائے۔ کوئی ایک ریاست خواہ کتنی بھی طاقتور کیوں نہ ہو وہ خطے اور دنیا کے ممالک کی مدد کے بغیر تنہا اس خطرے کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

مذکورہ چار ممالک میں استحکام کی حالت اس وقت تک پیدا نہیں کی جاسکتی جب تک سارے فساد کی جڑ کا تعین نہ کر لیا جائے ،جو کہ ایران ہے۔ ایران کی تمام تر سرگرمیوں کا بنیادی مقصد اس خطے میں جنگوں کی آگ بھڑکانا رہا ہے، لیکن حال ہی میں اس پر عائد پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔ مشرق وسطی نے سرد جنگ کے دوران اور اس کے بعد بھی ہمیشہ علاقائی اور بین الاقوامی انتظامات کے توازن پر انحصار کیا ہے اور اسی کے تحت زندگی بسر کی ہے۔ جب صدر اوباما نے 'دی اٹلانٹک' میگزین کو ایک حالیہ انٹرویو میں یہ کہا" کہ سعودیوں کو ایران کے ساتھ اس خطے کو تقسیم کر کے رہنا سیکھ لینا چاہئے"، تو انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اس سے ان کا مطلب کیا ہے۔

اگر شراکت کا مطلب معاہدہ یا تعاون ہے تو یہ کوئی برا خیال نہیں ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی خلیج تعاون کونسل کے باقی پانچ ممالک، بشمول اردن، مصر اور مراکش، میں سے کسی کے بھی توسیع پسندانہ اور فوجی عزائم نہیں ہیں۔ تاہم، ایران نے ہمیشہ تشدد برآمد کیا ہے ۔ حزب اللہ اور حماس جیسے مسلح گروپوں کی پشت پناہی کی ہے۔ عراق میں ان جیسی سولہ عسکریت پسند تنظیمیں موجود ہیں جو ایران کی حمایت یافتہ ہیں۔

علاقائی شراکت

جس ملک کو تشدد بند کر دینا چاہئے وہ ایران ہی ہے۔ امریکا،ایران کو آمادہ کر سکتا ہے کہ وہ تجارت، سرمایہ کاری اور سیاسی تعاون کے ذریعے ایک صحت مند علاقائی مسابقت کا حصہ بنے۔ علاقائی شراکت کا یہی وہ تصور ہے جسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اگر اس کا مطلب خطے کے نقشے کو اثرورسوخ کے حوالے سے سعودی اور ایرانی کیمپوں میں تقسیم کرنا ہے تو ایسا کرنا خطے میں ایک طویل اور سنگین متشدد داخلی انتشار پیدا کرنا ہوگا، اور اس گھناؤنے ڈرامے کا پہلا باب شام بنے گا۔

لیبیا کے بارے میں اوباما نے تسلیم کیا کہ ان کے یورپی اتحادیوں نے معمر قذافی کی حکومت الٹ کر انہیں مایوس کیا اور یہ کہ وہ کسی جنگ کی قیادت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ اتحادیوں کے بارے میں اوباما کے تصورات سے قطع نظر، لیبیا ہی وہ مثال نہیں ہونا چاہیے جس کے ذریعے امریکا ،یورپی ممالک کی ناکامی کو ثابت کرے۔ قذافی کے دور میں لیبیا، امریکا اور یورپ دونوں کے لئے ایک مسئلہ تھا۔ امریکا نے لیبیا کی طرف پیٹھ پھیر کر بھاری غلطی کی کیونکہ بعد میں یہ ثابت ہوا کہ وہ محض ایک ایسی بندرگاہ نہیں تھا جہاں سے ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن اٹلی اور یورپ جاتے تھے، بلکہ وہ دہشت گردوں کی آماجگاہ بھی بن چکا تھا۔ لیبیا کے بحران کی خصوصیات وہی ہیں جو شام میں نظر آتی ہیں، تاہم لیبیا میں ایک نئی سیاسی حکومت قائم کرنا آسان ہوتا کیونکہ وہاں بشار الاسد جیسا کوئی شخص حکمران نہیں ہے اور وہاں کوئی بین الاقوامی تنازع بھی نہیں ہے۔

آخر میں، اوباما نے مشرق وسطی کے بارے میں جس تنفر کا اظہار کیا ہے وہ محض سیاست نہیں ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ روسی، جو زار کے زمانے سے گرم سمندروں تک رسائی کا خواب دیکھتے آئے ہیں، آج ان میں تیر رہے ہیں۔ پچھلے دو سالوں سے خطے میں امریکی کی دانستہ غیر موجودگی کے باعث یہاں کے تمام سینئر لیڈر کریملن کے پاس جانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ماسکو کے ساتھ کئی رشتے قائم کر لئے ہیں اور یہ ایسی چیز ہے جو اس سے پہلے نہ کبھی ہوئی اور نہ ہی کسی کے گمان میں تھی۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے