رواداری کا مفہوم ہر اس معاشرے کے لیے امید کے ساتھ درخشاں ہوتا ہے جو اس کو نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ رواداری کا رسوخ کبھی بے ساختہ نہیں ہوا.. بلکہ اس کے لیے ہمیشہ سماجی اور سیاسی کوششوں کی ضرورت رہی ہے۔ یورپ میں پہلی مرتبہ اس کا ظہور پروٹسٹنٹ اور کیتھولک فرقوں کے درمیان المناک تاریخی جنگ کے بعد ہوا۔ رواداری کا مفہوم یورپ میں مذہبی جنگوں میں غیرمسبوق قسم کے جنون پر روک لگانے کے لیے سامنے آیا۔ اس امر نے اس وقت کے فلسفیوں کو اس کے مفہوم کے نظریات اور تفصیلات وضع کرنے پر مجبور کردیا تاکہ اس کو قابل عمل بنایا جاسکے۔ اس کے برسوں بعد عالمی سطح پر انسانی حقوق کا اعلان کیا گیا۔

میں یہاں دو بنیادی شخصیات کے پاس ٹھہروں گا. رواداری کی بات کی جائے تو ان دونوں کا ذکر ناگزیر ہوجاتا ہے اور وہ ہیں والٹر اور جان لوک، دونوں نے اس موضوع پر پوری تفصیل، وضاحت اور جائزے کے ساتھ لکھا۔ یہاں تک کہ ان دونوں کی کتابوں میں داخل ہوئے بغیر رواداری کو سمجھنا اور اس کو بیان کرنا ممکن ہی نہ رہا۔ موضوع کے بارے میں ان کے بیان کردہ معانی کے سمندر میں ڈوبنا اور معنی خیز افکار اور دانش مندانہ معالجے کو سمجھنا.. ان کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔

والٹر رواداری کے حوالے سے پیغام میں اپنے مسیحی معاشرے کی توبیخ تک محدود نہیں رہے۔ وہ یہ بھی تفصیل سے بیان کرتے ہیں کہ : "جاپانی لوگ کس طرح سے سب سے زیادہ رواداری کے حامل تھے.ان کی شہنشاہیت میں بارہ مذاہب کے پیروکار پرامن طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے۔ بعد ازاں مسیحی لوگ وہاں نئے مذہب کا اضافہ کرنے آگئے جو کہ تیرہواں مذہب تھا۔ بہرکیف ان لوگوں نے جلد ہی دیگر مذاہب کو مسترد کرنے کی آواز اٹھائی جس کے نتیجے میں خانہ جنگی چھڑ گئی۔ یہ کسی طور بھی قباحت میں اس سے کم نہ تھی جو کیتھولک فرقے نے بھڑکائی تھی۔ بس پھر کیا تھا ہر طرف تباہی اور بربادی کا دور دورہ ہوگیا اور خون کے اس حمام سے مسیحیت کا وجود زائل ہوگیا۔

جاپانیوں نے باقی دنیا کے لیے اپنی ریاست کے دروازے بند کردیے اور ہماری طرف ایسے دیکھنے لگے گویا کہ ہم غارت گر عفریت ہوں۔ جب فرانسیسی وزیر جین کولبرٹ کو احساس ہوا کہ ہمیں ان کی ضرورت ہے جب کہ انہیں ہماری کوئی ضرورت نہیں تو اس نے ان کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی جو بے فائدہ رہی۔ اس کو جاپانیوں کی طرف سے ناقابل تغیر انکار کا سامنا کرنا پڑا۔ پوری دنیا ہمیں اس بات کی دلیل دیتی ہے کہ تعصب برتنے کا کوئی فائدہ نہیں اور اس کی طرف بلانا بے بنیاد ہے"۔

دوسری جانب جان لوک مسیحیوں کے یہاں موجود مذہبی رواداری کی میراث کا سہارا لیتے ہوئے اس موضوع میں براہ راست داخل ہوتے ہیں۔ وہ متعصبین کے بعض تصرفات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: "میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی انسان جو یہ تصور کرتا ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کو اذیت دینے کے لیے تیار ہے اس دعوے کے ساتھ کہ وہ اس کو نجات دلانا چاہتا ہے تو ایسا انسان میرے اور کسی بھی دوسرے شخص کے نزدیک عجیب نظر آئے گا اور یقینا ایسا کوئی انسان نہیں ہوگا جو یہ سمجھتا ہو کہ اس طرح کا فعل محبت اور بھلائی کے ارادے سے ہوتا ہے"۔

اگرچہ مروجہ قوانین اور ریاست اور اس کے اداروں کی جانب سے افراد کو ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت سے دور رکھنے کی وجہ سے آج یورپ میں معاشرتی سطح پر رواداری کی بالادستی ہے تاہم ان کے یہاں رواداری کا مفہوم ابھی تک زیر بحث موضوع بنا ہوا ہے۔

فرانسیسی فلسفی جیک ڈریڈا غیر مشروط فطری رواداری اور "ازراہ لطف وانکسار" سامنے آنے والے عفودرگزر کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ اپنی ایک مشترکہ کتاب (مصالحت اور رواداری) میں وہ کہتے ہیں کہ "میں اس اصطلاح کے قابل عفو درگزر کے خالص ہونے کے طور پر جس کا خواب دیکھتا ہوں اور سوچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ وہ بنا اختیارات کے معافی ہے جو مشروط نہ ہو۔ تاہم بالادستی کے بغیر ذمہ داری مزید دشوار ہو جاتی ہے۔ لہذا میرے نزدیک جو چیز ضروری اور ناممکن نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ غیر مشروطیت اور بالادستی کے درمیان جوڑ کو ختم کیا جائے. کیا ہم کسی روز اس میں کامیاب ہوں گے؟ ایسا لگتا ہے اس امر کے لیے تھوڑا وقت درکار ہوگا"۔

ہم یہاں اسلامی تاریخ کے سنہری ادوار میں رواداری کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ جب اندلس میں یہودیوں اور مسیحیوں کو ملسمانوں کی طرف سے مکمل احترام حاصل تھا. ان کے حقوق بھی تھے اور ان کے ساتھ اعلی درجے کا انسانی سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ تشدد سے بہت دور، مبادا ہم خون ریزی، تشدد اور جنگوں میں دوسری اقوام کے تجربات کو نہ دہرائیں۔

ہم والٹر کا یہ قول بھی ضرور ذکر کریں گے:"یقینا جنون آمیز تشدد جو بند ذہنوں کا شاخسانہ ہوتا ہے اور مسیحی مذہب میں غلو دونوں چیزیں جرمنی، برطانیہ یہاں تک کہ ہالینڈ میں بھی ایسی سطح پر خون ریزی اور آفات کا سبب بنیں جو کسی طور فرانس میں واقع ہونے والی سطح سے کم نہ تھی"۔

رواداری، یہ ماں ہے، یہ مستقبل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ متمدن تہذیب کی حامل اقدار والی مشترکہ زندگی کی فضا ہے۔ بشکریہ روزنامہ "البيان"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے